التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابوہشام اصرم بن حوشب ہمدانی کندی خراسانی

2 روایات میں تذکرہ

دوسرے نام: ابوہشام اصرم بن حوشب ہمدانی کِندی خراسانی

ابوہشام اصرم بن حوشب ہمدانی کندی خراسانی کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

ابوہشام اصرم بن حوشب ہمدانی کِندی خراسانی کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

حافظ یحیی بن معین l فرماتے ہیں: ’’كذاب خبيث‘‘[5]. یہ کذاب خبیث ہے۔

حافظ ابو حاتم l فرماتے ہیں: ’’هو متروك الحديث...‘‘[6]. ’’یہ متروک الحدیث ہے۔۔۔ ‘‘ ۔

حافظ ابن حبان l فرماتے ہیں: ’’كان يضع الحديث على الثقات‘‘[7]. یہ ثقہ لوگوں کے انتساب سے من گھڑت احادیث نقل کرتا تھا۔

حافظ ابن عدی l اس حدیث کے علاوہ ایک دوسری حدیث کے تحت فرماتے ہیں: ’’وهذا الحديث يعرف بَبِزْيع أبي الخليل، عن هشام بن عروة، فلعل أصرم هذا سرقه منه‘‘[8]. یہ حدیث ابو خلیل بزیع،عن ہشام بن عروہ کے طریق سے معروف ہے، شاید کہ اصرم نے اس سے سرقہ کی ہے۔

حافظ عقیلی l فرماتے ہیں: ’’حدثني آدم، قال: سمعت البخاري قال: أصرم بن حوشب متروك‘‘[9].آدم l فرماتے ہیں کہ میں نے بخاری l کو فرماتے سنا ہے کہ اصرم بن حوشب متروک ہے۔

حافظ ذہبی l ’’المغنى‘‘[10] میں فرماتے ہیں: ’’أصرم بن حوشب قاضي هَمَذَان، عن زياد بن سعد، تركوه، واتُّهم‘‘. ہمذان کا قاضی جو زیاد بن سعد سے حدیث نقل کرتا ہے، محدثین نے اسے ترک کیا ہے، اور یہ متہم ہے۔

ذہبی l ’’میزان‘‘[11] میں فرماتے ہیں: ’’أصرم هالك‘‘. یہ اصرم تباہ حال شخص ہے۔

حافظ ابن حجر l فرماتے ہیں: ’’وقال البخاري و مسلم و النسائي: متروك. وقال الدارقطني: منكر الحديث‘‘[12].  بخاری l ومسلم l ونسائی l نے اسے متروک اور دار قطنی l نے منکر الحدیث کہا ہے۔

حوالہ جات

[5] الجرح والتعديل:۲/۳۳۶،رقم:۱۲۷۳،بمطبعةمجلس دائرة المعارف العثمانيةـ حيدرآباد الدكن، الطبعة الأولى ۱۳۱۷ هـ .

[6] الجرح والتعديل:۲/۳۳۶،رقم:۱۲۷۳،بمطبعةمجلس دائرة المعارف العثمانيةـ حيدرآباد الدكن، الطبعة ۱۳۱۷ هـ .

[7] كتاب المجروحين:۱/۱۸۱،ت:محمودإبراهيم زايد،دارالمعرفةـ بيروت .

[8] الكامل في ضعفاءالرجال:۲/۹۱،رقم:۲۲۰،ت:محمد أنس مصطفى،الرسالة العالميةـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۳۳هـ .

[9] ضعفاءاالكبير: ۱/ ۱۱۸،رقم:۱۴۲،ت:الدكتورعبدالمعطي أمين قلعجي،دارالكتب العلميةـ بيروت .

[10] المغني في الضعفاء:۱۵۰،ت:نورالدین عتر،داراحیاءالتراث العربي ـ بيروت،الطبعة۱۹۸۷م .

[11] ميزان الاعتدال:۱/۲۷۲،رقم:۱۰۱۷،ت:على محمد البجاوي،دارالمعرفةـ بيروت،الطبعة۱۴۰۶هـ .

[12] لسان الميزان:۲/۲۱۰،رقم:۱۳۰۵،دارالبشائرالإسلامية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۳۸هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

ابوہشام اصرم بن حوشب ہمدانی کندی خراسانی کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

حافظ یحیی بن معین l فرماتے ہیں: ’’ كذاب خبيث‘‘ [44]. یہ کذاب خبیث ہے۔

حافظ ابو حاتم l فرماتے ہیں: ’’هو متروك الحديث... ‘‘ [45]. ’’یہ متروک الحدیث ہے۔۔۔ ‘‘ ۔

حافظ ابن حبان l فرماتے ہیں: ’’كان يضع الحديث على الثقات‘‘[46]. یہ ثقہ لوگوں کے انتساب سے من گھڑت احادیث نقل کرتا تھا۔

حافظ ابن عدی l فرماتے ہیں: ’’وهذا الحديث يعرف بَبِزْيع أبي الخليل،عن هشام بن عروة، فلعل أصرم هذا سرقه منه ‘‘ [47]. یہ حدیث ابو خلیل بزیع،عن ہشام بن عروہ کے طریق سے معروف ہے، شاید کہ اصرم نے اس سے سرقہ کی ہے۔

حافظ عقیلی l فرماتے ہیں: ’’حدثني آدم، قال: سمعت البخاري قال: أصرم بن حوشب متروك‘‘ [48]. آدم فرماتے ہیں کہ میں نے بخاری l کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اصرم بن حوشب متروک ہے۔

حافظ ذہبی l ’’المغنى‘‘[49] میں فرماتے ہیں: ’’أصرم بن حوشب قاضي هَمَذَان عن زياد بن سعد، تركوه، واتُّهم‘‘ . ہمذان کا قاضی جو زیاد بن سعد سے حدیث نقل کرتا ہے، محدثین نے اسے ترک کیا ہے، اور یہ متہم ہے۔

حافظ ذہبی l ’’میزان‘‘ [50] میں فرماتے ہیں: ’’أصرم هالك‘‘. یہ اصرم تباہ حال شخص ہے۔

حافظ ابن حجر l فرماتے ہیں: ’’وقال البخاري و مسلم و النسائي: متروك. وقال الدارقطني: منكر الحديث‘‘ [51]. بخاری l ومسلم l ونسائی l نے اسے متروک اور دار قطنی l نے منکر الحدیث کہا ہے۔

حوالہ جات

[44] الجرح والتعديل:۲/۳۳۶،رقم:۱۲۷۳،بمطبعةمجلس دائرة المعارف العثمانيةـ حيدرآباد الدكن، الطبعة ۱۳۱۷ هـ .

[45] الجرح والتعديل:۱/۳۳۶،رقم:۱۲۷۳،بمطبعة مجلس دائرة المعارف العثمانية ـ حيدر آباد الدكن،الطبعة ۱۳۱۷ هـ .

[46]  كتاب المجروحين:۱/۱۸۱،ت:محمودإبراهيم زايد،دارالمعرفة ـ بيروت .

[47] الكامل في ضعفاء الرجال:۲/۹۱،رقم:۲۲۰،ت:محمد أنس مصطفى،الرسالة العالمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۳۳هـ .

[48] الضعفاءالكبير:۱/۱۱۸،رقم:۱۴۲،ت:الدكتورعبدالمعطي أمين قلعجي،دارالكتب العلمية ـ بيروت .

[49] المغني في الضعفاء:۱۵۰،ت:نورالدین عتر،داراحیاءالتراث العربي ـ بيروت،الطبعة۱۹۸۷م .

[50] ميزان الاعتدال:۱/ ۲۷۲،رقم:۱۰۱۷،ت:علي محمد البجاوي،دارالمعرفة ـ بيروت،الطبعة ۱۴۰۶ هـ .

[51] لسان الميزان:۲/۲۱۰،رقم:۱۳۰۵،دارالبشائرالإسلامية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۳۸هـ. .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ