اس روایت کی تحقیق سے2 میں سے 1
روایت: ’’اگر اللہ کے نزدیک ماں باپ کی نافرمانی میں اُف سے کم تر جملہ بھی ہوتا تو اسے حرام فرما دیتے۔۔۔ ‘‘ ۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ سوم)ابوہشام اصرم بن حوشب ہمدانی کِندی خراسانی کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ یحیی بن معین l فرماتے ہیں: ’’كذاب خبيث‘‘[5]. یہ کذاب خبیث ہے۔
حافظ ابو حاتم l فرماتے ہیں: ’’هو متروك الحديث...‘‘[6]. ’’یہ متروک الحدیث ہے۔۔۔ ‘‘ ۔
حافظ ابن حبان l فرماتے ہیں: ’’كان يضع الحديث على الثقات‘‘[7]. یہ ثقہ لوگوں کے انتساب سے من گھڑت احادیث نقل کرتا تھا۔
حافظ ابن عدی l اس حدیث کے علاوہ ایک دوسری حدیث کے تحت فرماتے ہیں: ’’وهذا الحديث يعرف بَبِزْيع أبي الخليل، عن هشام بن عروة، فلعل أصرم هذا سرقه منه‘‘[8]. یہ حدیث ابو خلیل بزیع،عن ہشام بن عروہ کے طریق سے معروف ہے، شاید کہ اصرم نے اس سے سرقہ کی ہے۔
حافظ عقیلی l فرماتے ہیں: ’’حدثني آدم، قال: سمعت البخاري قال: أصرم بن حوشب متروك‘‘[9].آدم l فرماتے ہیں کہ میں نے بخاری l کو فرماتے سنا ہے کہ اصرم بن حوشب متروک ہے۔
حافظ ذہبی l ’’المغنى‘‘[10] میں فرماتے ہیں: ’’أصرم بن حوشب قاضي هَمَذَان، عن زياد بن سعد، تركوه، واتُّهم‘‘. ہمذان کا قاضی جو زیاد بن سعد سے حدیث نقل کرتا ہے، محدثین نے اسے ترک کیا ہے، اور یہ متہم ہے۔
ذہبی l ’’میزان‘‘[11] میں فرماتے ہیں: ’’أصرم هالك‘‘. یہ اصرم تباہ حال شخص ہے۔
حافظ ابن حجر l فرماتے ہیں: ’’وقال البخاري و مسلم و النسائي: متروك. وقال الدارقطني: منكر الحديث‘‘[12]. بخاری l ومسلم l ونسائی l نے اسے متروک اور دار قطنی l نے منکر الحدیث کہا ہے۔
حوالہ جات
[5] الجرح والتعديل:۲/۳۳۶،رقم:۱۲۷۳،بمطبعةمجلس دائرة المعارف العثمانيةـ حيدرآباد الدكن، الطبعة الأولى ۱۳۱۷ هـ .
[6] الجرح والتعديل:۲/۳۳۶،رقم:۱۲۷۳،بمطبعةمجلس دائرة المعارف العثمانيةـ حيدرآباد الدكن، الطبعة ۱۳۱۷ هـ .
[7] كتاب المجروحين:۱/۱۸۱،ت:محمودإبراهيم زايد،دارالمعرفةـ بيروت .
[8] الكامل في ضعفاءالرجال:۲/۹۱،رقم:۲۲۰،ت:محمد أنس مصطفى،الرسالة العالميةـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۳۳هـ .
[9] ضعفاءاالكبير: ۱/ ۱۱۸،رقم:۱۴۲،ت:الدكتورعبدالمعطي أمين قلعجي،دارالكتب العلميةـ بيروت .
[10] المغني في الضعفاء:۱۵۰،ت:نورالدین عتر،داراحیاءالتراث العربي ـ بيروت،الطبعة۱۹۸۷م .
[11] ميزان الاعتدال:۱/۲۷۲،رقم:۱۰۱۷،ت:على محمد البجاوي،دارالمعرفةـ بيروت،الطبعة۱۴۰۶هـ .
[12] لسان الميزان:۲/۲۱۰،رقم:۱۳۰۵،دارالبشائرالإسلامية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۳۸هـ .