اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے زبیر! اللہ جل شانہ سخاوت کو پسند کرتا ہے چاہے وہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی کیوں نہ ہو، اور اللہ تعالی بہادری کو پسند کرتا ہے چاہے وہ سانپ اور بچھو ہی کے مارنے میں کیوں نہ ہو‘‘، بعض مقامات پر یہی قول حضرت عمران بن حصین r کو مخاطب بنا کر فرمایا گیا ہے۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (بارہواں حصہ)سند میں موجود راوی عبد اللہ بن محمد بن یحیی بن عروہ مدینی کے بارے میں ائمہ رجال کے اقوال
حافظ ابن ابی حاتمl ’’الجرح والتعديل‘‘[11] میں عبد اللہ بن یحیی کا ترجمہ قائم کرکے فرماتے ہیں: ’’سألت أبي عنه، فقال: هو متروك الحديث، ضعيف الحديث جدا، ولم يقرأ علينا ما كان سمع من إبراهيم بن المنذر عنه‘‘. میں نے اپنے والد سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: وہ متروک الحدیث، ضعیف الحدیث جداً ہے، اور والد نے ہم پر اس کی ان احادیث کی قراءت نہیں کی جو آپ نے ابراہیم بن منذر سے، انہوں نے عبد اللہ بن محمد بن یحیی سے سنی تھیں۔
حافظ عقیلیl ’’الضعفاء الكبير‘‘[12] میں عبد اللہ بن محمد کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’عن هشام بن عروة، لا يتابع على كثير من حديثه‘‘. یہ ہشام بن عروہ سے نقل کرتا ہے، اس کی بہت سی احادیث میں متابعت نہیں کی جاتی۔
حافظ ابن حبان l ’’المجروحين‘‘[13] میں عبد اللہ بن محمد کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ كان ممن يروي الموضوعات عن الأثبات، ويأتي عن هشام بن عروة ما لم يحدث به هشام قط، لا يحل كتابة حديثه، ولا الرواية عنه‘‘. یہ ان راویوں میں سے ہے جو ثبت راویوں کے انتساب سے من گھڑت احادیث روایت کرتے ہیں، اور یہ ہشام بن عروہ کے انتساب سے ایسی روایات لاتا ہے جو ہشام نے کبھی بیان نہیں کیں، اس کی حدیث کو لکھنا حلال نہیں ہے، اور نہ ہی اس سے روایت کرنا حلال ہے۔
حافظ ابن عدیl ’’الكامل‘‘[14] میں عبد اللہ بن محمد بن یحیی بن عروہ کے ترجمہ میں زیر بحث اور بعض دیگر روایات تخریج کرکے فرماتے ہیں: ’’هذا بهذا الإسناد لم أكتبه إلا عن علي الرازي، ولعبد الله بن محمد بن عروة غير ما ذكرت من الحديث، وأحاديثه عامتها مما لا يتابعه الثقات عليه، ولم أجد من المتقدمين فيه كلاما، ولم أجد بدا من ذكره، لما رأيت من أحاديثه أنها غير محفوظة، لما شرطت في أول الكتاب‘‘. یہ حدیث اس اسناد کے ساتھ میں نے صرف علی رازی (یعنی علی بن سعید بن بشیر رازی) سے لکھی ہے، اور عبد اللہ بن محمد بن عروہ کی میری ذکر کردہ احادیث کے علاوہ بھی احادیث ہیں، اور اس کی اکثر احادیث ایسی ہیں کہ ان میں ثقات اس کی متابعت نہیں کرتے، اور میں نے متقدمین کا اس کے بارے میں کوئی کلام نہیں دیکھا، اور میں نے اسے ذکر کرنا ضروری سمجھا ہے، کیونکہ میں نے اس کی غیر محفوظ احادیث دیکھی ہیں، کیونکہ میں نے کتاب کی ابتداء میں شرط لگائی تھی (یعنی ایسے روات کے تراجم قائم کرنے کی)۔
امام دارقطنیl اپنی ’’سنن‘‘[15] میں ایک روایت کے تحت عبد اللہ بن محمد بن یحیی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’وهو كثير الخطأ,على هشام، وهو ضعيف الحديث‘‘. یہ ہشام پر بہت زیادہ خطاء کرنے والا ہے، اور یہ ضعیف الحدیث ہے۔
امام ابو عبد اللہ حاکم نیشاپوری l ’’المدخل‘‘[16] میں فرماتے ہیں: ’’حدث عن هشام بن عروة بأحاديث مناكير‘‘. یہ ہشام بن عروہ کے انتساب سے منکر احادیث روایت کرتا ہے۔
حافظ ابونعیم اصبہانیl ’’المسند المستخرج‘‘[17] میں فرماتے ہیں: ’’صاحب مناكير وبواطيل‘‘. یہ مناکیر اور باطل احادیث والا ہے۔
حافظ عبد الحق اشبیلیl نے’’الأحكام الوسطى‘‘[18]میں ایک روایت کے تحت عبد اللہ بن محمد بن یحیی کو ’’ضعيف جدا‘‘ کہا ہے۔
علامہ ابو الفتح ابن سید الناس یعمری l نے’’النفح الشذي‘‘[19]میں ایک روایت کے تحت عبد اللہ بن محمد بن یحیی کو ’’ضعيف جدا‘‘ کہا ہے۔
حافظ ذہبی lنے ’’تلخيص المستدرك‘‘[20] میں ایک روایت کے تحت عبد اللہ بن محمد بن یحیی کو’’هالك‘‘ کہا ہے۔
حافظ ذہبی lنے ’’ديوان الضعفاء‘‘[21] میں عبد اللہ بن محمد بن یحیی کو ’’واه‘‘ کہا ہے۔
نیز حافظ ذہبی lنے ’’ميزان‘‘[22] میں عبد اللہ بن محمد بن یحیی کے ترجمہ میں ایک روایت کو ذکر کرکے اسے اس کے ’’بلایا‘‘میں سے قرار دیا ہے۔
حافظ ابن ملقن l نے ’’البدر المنير‘‘[23] میں ایک روایت کے تحت عبد اللہ بن محمد بن یحیی کو’’واه‘‘ کہا ہے۔
حافظ ہیثمی l نے ’’مجمع الزوائد‘‘[24] میں ایک روایت کے تحت عبد اللہ بن محمد بن یحیی کو’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔
حافظ ہیثمی l ہی ’’مجمع الزوائد‘‘[25] میں ایک روایت کے تحت عبد اللہ بن محمد بن یحیی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’نسبوه إلى وضع الحديث‘‘. محدثین نے اسے حدیث گھڑنے کی طرف منسوب کیا ہے۔
علامہ سبط ابن عجمی l ’’الكشف الحثيث‘‘[26] میں حافظ ابو حاتم l ، حافظ ابن حبان l ، حافظ ابن عدی l اور حافظ ذہبی l کا کلام نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ’’فكلام هؤلاء مع كلام الذهبي: ومن بلاياه، يقتضي أن يكون هو يضع، والله أعلم‘‘. ان تمام ائمہ کے کلام کے ساتھ ساتھ ذہبی l کا کلام ’’اور اس کے بلایامیں سے ہے‘‘ اس بات تقاضہ کرتا ہے کہ حدیث گھڑنے والا یہی ہے، واللہ اعلم۔
حافظ ابن حجر عسقلانی l نے ’’تلخيص الحبير‘‘[27] میں ایک روایت کے تحت عبد اللہ بن محمد بن یحیی کو ’’متروك‘‘ کہا ہے۔
علامہ ابن عراقl ’’تنزيه الشريعة‘‘[28] میں عبد اللہ بن محمد بن یحیی کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے فرماتے ہیں: ’’قال ابن حبان: يروي الموضوعات عن الأثبات‘‘. ابن حبان l فرماتے ہیں: یہ ثبت راویوں کے انتساب سے من گھڑت احادیث روایت کرتا ہے۔
حوالہ جات
[11] الجرح والتعديل:۵/۱۵۸،رقم:۷۲۹،دار الكتب العلميةـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .
[12] الضعفاء الكبير:۲/۳۰۰رقم:۸۷۴ ،ت:عبد المعطی أمین قلعجی،دار الکتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰۴هـ .
[13] المجروحين من المحدثين:2/11،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .
[14] الكامل في ضعفاء الرجال:5/305،رقم:1000،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[15] سنن الدار قطني:4/2۷۹،رقم:۳۴۶۲،ت:شعيب الأرنؤوط،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى1424هـ .
[16] المدخل إلى الصحيح:ص:148،رقم:84 ،ت:ربيع بن هادي عمير المدخلي،مؤسسة الرسالة ـ بيروت، الطبعة الأولى1404هـ .
[17] المسند المستخرج على صحيح مسلم:1/۷۰،رقم:۱۰۹،ت:محمد حسن محمد حسن إسماعيل،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1417هـ .
[18] الأحكام الوسطى:۱/۳۲۳،ت:حمدي السلفي وصبحي السامرائي،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة۱۴16هـ .
[19] النفح الشذي شرح جامع الترمذي:۴/۲۵۷،ت:أبو جابر الأنصاري، عبد العزيز أبو رحلة، صالح اللحام، دار الصميعي ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴28هـ .
[20] تلخيص المستدرك بذيل المستدرك على الصحيحين:۴/۱۳۸،ت:يوسف عبد الرحمن المرعشلي،دار المعرفة ـ بيروت .
[21] ديوان الضعفاء والمتروكين وخلق من المجهولين وثقات فيهم لين:ص:۲۲۶،رقم:۲۸۸۶،ت:حماد بن محمد الأنصاری،مطبعة النهضة الحديثةـ مكة المكرمة، الطبعة1387هـ .
[22] ميزان الاعتدال:۲/۴۸۶،رقم:۴۵۳۹،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[23] البدر المنير في تخريج الأحاديث والأثار الواقعة في الشرح الكبير:۴/۴۵۸،ت:أبومحمد عبد الله بن سلمان،دار الهجرة ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۲5هـ .
[24] مجمع الزوائد ومنبع الفوائد:۱/۳۲۶،دار الكتاب العربي ـ بيروت،الطبعة الثالثة۱۴۱۲هـ .
[25] مجمع الزوائد ومنبع الفوائد:۱/۲۲۰،دار الكتاب العربي ـ بيروت،الطبعة الثالثة۱۴۱۲هـ .
[26] الكشف الحثيث عمن رمي بوضع الحديث:ص:1۵۹،رقم:۴۱۰،ت:صبحي السامرائي،مكتبة النهضة العربية ـ بيروت،الطبعة الأولى1407هـ .
[27] تلخيص الحبير:۱/۲۵۲،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دارالكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1419هـ .
[28] تنزيه الشريعة المرفوعة عن الأخبار الشنيعة الموضوعة:1/۷۵،رقم:۹۷،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف، عبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلميةـ بيروت،الطبعة الثانية1401هـ .