اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ اختلاف أصحابي رحمة‘‘. میرے صحابہ رضی اللہ عنہم کا اختلاف رحمت ہے‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (تیرہواں حصہ)سند میں موجود راوی عمرو بن ہاشم بَیْرُوتی کے بارے میں ائمہ رجال کے اقوال
حافظ عبد الرحمن بن ابی حاتم l ’’الجرح والتعديل‘‘[43] میں فرماتے ہیں: ’’سألت محمد بن مسلم عنه، (فقال: كتبت عنه)، كان قليل الحديث، قلت: ما حاله؟ قال: ليس بذاك، كان صغيرا حين كتب عن الأوزاعي‘‘. میں نے محمد بن مسلم (یعنی ابن وارہ l) سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: میں نے اس سے لکھا ہے، یہ قلیل الحدیث تھا، میں نے کہا: اس کی کیا حالت ہے؟ محمد بن مسلم بن وارہ l نے کہا: یہ ’’لیس بذاک‘‘ہے، جب اس نے اوزاعی سے لکھا تو یہ چھوٹا تھا۔
حافظ عبد الرحمن بن ابی حاتم l ’’العلل‘‘[44] میں عمرو بن ہاشم بَیْرُوتی سے منقول ایک روایت ذکر کرکے فرماتے ہیں: ’’فسمعت أبي يقول: هذا غلط، إنما هو عن علي بن عبد الله، قال: عرض على رسول الله صلى الله عليه وسلم ... بلا أبيه، وهذا مما أنكر على عمرو بن هاشم‘‘. میں نے اپنے والد کو فرماتے سنا ہے: یہ غلط ہے، یہ صرف ’’علی بن عبد اللہ قال عرض علی رسول اللہ ﷺ ۔۔۔‘‘کے طریق سے ہے، لفظ ’’ابیہ‘‘ کے بغیر، اور یہ عمرو بن ہاشم کی منکر احادیث میں سے ہے۔
کچھ آگے جاکر حافظ عبد الرحمن بن ابی حاتم l فرماتے ہیں: ’’فأحسب أنه سمع أبو زرعة من عمرو بن هاشم بمكة على الصحة، ثم لعله لقن بعد ذلك عن أبيه، فتلقن، فسمع موسى بن سهل منه على تلقين الخطأ‘‘. میرا گمان ہے کہ ابو زرعہ l نے مکہ میں عمرو بن ہاشم سے درستگی کے ساتھ سماعت کی تھی، پھر ممکن ہے کہ اس کے بعد عمرو بن ہاشم کو ’’عن ابیہ‘‘ کی تلقین کی گئی ہو، سو انہوں نے تلقین قبول کرلی، پھر موسی بن سہل نے عمرو بن ہاشم سے خطاء کی تلقین کے ساتھ سنا ہو[45]۔
حافظ عقیلی l ’’الضعفاء‘‘[46] میں عمرو بن ہاشم کے ترجمہ میں فرماتے ہیں: ’’عن ابن عجلان، مجهول النقل، ولا يتابع على حديثه‘‘. یہ ابن عجلان سے روایت کرتا ہے، مجہول النقل ہے، اور اس کی حدیث میں متابعت نہیں ہوتی۔
حافظ ابن عدی l نے ’’الكامل‘‘[47] میں سلیمان بن ابی کریمہ کے ترجمہ میں عمرو بن ہاشم کو ’’ليس به بأس‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابن خزیمہ l اپنی ’’صحيح‘‘[48] میں عمرو بن ہاشم کی ایک حدیث تخریج کرکے فرماتے ہیں: ’’وإن كان عمرو بن هاشم أو محمد بن ميمون لم يغلط في هذه اللفظة، أعني قوله: قبل السلام، فإن هذا الباب يرد إلى الدعاء قبل السلام‘‘. اگر عمرو بن ہاشم یا محمد بن میمون اس لفظ، یعنی آپ کے قول ’’سلام سے پہلے‘‘میں غلطی کے مرتکب نہیں ہیں، تو یہ باب، سلام سے پہلے دعا کی جانب لوٹایا جائےگا۔
حافظ ابن خزیمہ l نے اپنی ’’صحيح‘‘[49] میں ایک دوسرے مقام پر عمرو بن ہاشم کی حدیث کسی کلام کے بغیر تخریج کی ہے۔
حافظ ضیاء الدین مقدسی l نے بھی ’’المختارة‘‘[50] میں مختلف مقامات پر عمرو بن ہاشم کی احادیث تخریج کی ہیں۔
حافظ ذہبی l ’’ميزان‘‘[51] میں عمرو بن ہاشم کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’صدوق، وقد وثق‘‘. صدوق ہے، اور اسے ثقہ کہا گیا ہے۔
حافظ ذہبی l ’’المغني‘‘[52] میں عمرو بن ہاشم کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’وثق، وقال ابن وارة: ليس بذاك، كتب عن الأوزاعي صغيرا‘‘. اسے ثقہ کہا گیا ہے، اور ابن وارہ l فرماتے ہیں: یہ ’’لیس بذاک‘‘ہے، اس نے چھوٹی عمر میں اوزاعی سے لکھا ہے۔
حافظ ہیثمیl’’مجمع الزوائد‘‘[53]میں ایک حدیث کے تحت فرماتے ہیں: ’’وفيه عمرو بن هاشم البَيْرُوتي، والأكثر على توثيقه‘‘. اور اس میں عمرو بن ہاشم بَیْرُوتی ہے، اور اکثر نے اس کی توثیق کی ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی l ’’تقريب‘‘[54] میں عمرو بن ہاشم کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’صدوق، يخطئ‘‘. صدوق ہے، خطاء کرتا ہے۔
حوالہ جات
[43] الجرح والتعدیل:6/268،رقم:1479،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .
[44] علل الحدیث لابن أبي حاتم:5/19،رقم:1775،ت:سعد بن عبد الله الحميد وخالد بن عبدالرحمن الجريسي،مکتبة الملک الفهد ـ الریاض،الطبعة الأولى۱۴۲۷هـ .
[45] علل الحدیث لابن أبي حاتم:5/19،رقم:1775،ت:سعد بن عبد الله الحميد وخالد بن عبدالرحمن الجريسي،مکتبة الملک الفهد ـ الریاض،الطبعة الأولى۱۴۲۷هـ .
[46] الضعفاء الكبير:۳/294،رقم:۱۲99،ت:عبد المعطي أمين قلعجي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۴هـ .
[47] الكامل في ضعفاء الرجال:4/250،رقم:740،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[48] صحيح ابن خزيمة:1/364،رقم:738،ت:محمد مصطفى الأعظمي،المكتب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة 1400هـ .
[49] صحيح ابن خزيمة:۳/۹۲،رقم:۱۶۸۲،ت:محمد مصطفى الأعظمي،المكتب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة 1400هـ .
[50] الأحاديث المختارة:4/36۷،رقم:1532،وكذا في:5/280،رقم:1917،وكذا في:12/346،رقم:381،ت: عبد الملك بن عبد الله بن دهيش،دار خضر ـ بيروت،الطبعة الرابعة1421هـ .
[51] ميزان الاعتدال:3/290،رقم:6462،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[52] المغني في الضعفاء:2/154،رقم:4721،ت:أبو الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1418هـ .
[53] مجمع الزوائد ومنبع الفوائد:۱/۲۶،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربى ـ بيروت .
[54] تقريب التهذيب:ص:428،رقم:5127،ت:محمد عوامة،دار الرشيد ـ سوريا،الطبعة الثالثة1411هـ .