اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: علم کا صرف اللہ تعالی کےلئے سیکھنا اللہ تعالی کے خوف کے حکم میں ہے، اور اس کی طلب (یعنی تلاش کےلئے کہیں جانا) عبادت ہے، اور اس کا یاد کرنا تسبیح ہے، اور اس کی تحقیقات میں بحث کرنا جہاد ہے، اور اس کا پڑھنا صدقہ ہے، اور اس کا اہل پر خرچ کرنا اللہ تعالی کے یہاں قربت ہے‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ ہفتم)سند میں موجود راوی علی بن محمد بن عبد اللہ بن ہیثم اصبہانی طبرانی من اجداد سِیْنان کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
موصوف کے بارے میں تلاشِ بسیار کے باوجود ائمہ رجال کا کلام نہیں مل سکا، تاہم حافظ ابن ماکولا l نے ’’الإكمال‘‘[119] میں، حافظ ابن ناصر الدین دمشقیl نے ’’توضيح المشتبة‘‘[120] میں اور حافظ ا بن حجرعسقلانی l نے ’’تبصير المنتبه‘‘[121] میں موصوف کا اسی طرح یعنی علی بن محمد کے الفاط سے تذکرہ کیا ہے، البتہ کسی نے جرح یا تعدیل کی حیثیت سے کوئی کلام نہیں کیا۔
نیز علامہ جمال الدین علی بن یوسف قِفْطی l نے ’’إنباه الرواة‘‘[122] میں موصوف کا ترجمہ ان الفاظ سے قائم کیا ہے:
’’علي بن محمد بن عبد الله بن الهيثم بن بختيار بن خرزاد بن سنين بن سينات بن الهيثم، المعروف بأبي القاسم بن أبى جعفر الأديب الأصبهاني المديني، راوية لكتب اللغة، يروي كتب أبي عبيد القاسم بن سلام، سمعها من الطبراني، ومات بأصبهان في ذي القعدة سنة سبع وعشرين وأربعمائة‘‘.
علی بن محمد بن عبد اللہ بن ہیثم بن بختیار بن خرزاد بن سنین بن سینات بن ہیثم، جو ابو القاسم بن ابو جعفر ادیب اصبہانی مدینی کے نام سے مشہور ہیں، لغت کی کتب کے راوی ہیں، ابو عبید قاسم بن سلام کی کتب روایت کرتے ہیں، جس کو طبرانی l سے سنا ہے، ذی القعدہ ۴۲۷ ھ کو اصبہان میں وفات پائی۔
حوالہ جات
[119] الإكمال في رفع الإرتياب:4/415،الفاروق الحديثية ـ القاهرة .
[120] توضيح المشتبة:5/240،ت:محمد نعيم العرقسوسي،مؤسسة الرسالة ـ بيروت .
[121] تبصير المنتبه بتحرير المشتبه:2/710،ت:علي محمد البجاوي،المؤسسة المصرية العامة .
[122] إنباه الرواة على أنباه النحاة:2/310،رقم:491،ت:محمد أبو الفضل إبراهيم،دار الفكر العربي ـ القاهرة،الطبعة الأولى1406هـ .