اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: علم کا صرف اللہ تعالی کےلئے سیکھنا اللہ تعالی کے خوف کے حکم میں ہے، اور اس کی طلب (یعنی تلاش کےلئے کہیں جانا) عبادت ہے، اور اس کا یاد کرنا تسبیح ہے، اور اس کی تحقیقات میں بحث کرنا جہاد ہے، اور اس کا پڑھنا صدقہ ہے، اور اس کا اہل پر خرچ کرنا اللہ تعالی کے یہاں قربت ہے‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ ہفتم)سند میں موجود راوی ابو طاہر موسی بن محمد بن عطاء بلقاوی مقدسی دمیاطی کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ موسی بن سہل رملی l فرماتے ہیں: ’’ أشهد عليه أنه كان يكذب‘‘[15]. میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ یہ جھوٹ بولتا ہے۔
حافظ ابو زرعہ l فرماتے ہیں: ’’ أتيته، فحدث عن الهيثم بن حميد، وفلان وفلان، وكان يكذب‘‘[16]. میں ابو طاہر مقدسی کے پاس گیا تو وہ ہیثم بن حمید اور فلاں فلاں کے انتساب سے حدیث بیان کرنے لگا، اور وہ جھوٹ بولتا تھا۔
حافظ ابو عثمان سعيد بن عمرو برذعیl فرماتے ہیں: ’’وقال لي أبو زرعة: أتينا رجلا بالشام، فحدث عن الهيثم بن حميد، وفلان، وفلان، وكان يكذب، قلت: أي شيء اسمه؟ قال: كان يقال له: أبو طاهر المقدسي، فذكر أشياء رآها منه، وينسبه إلى الكذب‘‘[17]. مجھ سے ابو زرعہ l نے کہا: ہم شام میں ایک شخص کے پاس گئے، تو اس نے ہیثم بن حمید اور فلاں فلاں کے انتساب سے روایت بیان کی، اور وہ جھوٹ بولتا تھا، میں نے کہا: اس کا نام کیا ہے؟ ابو زرعہ l نے فرمایا: اسے ابو طاہر مقدسی کہا جاتا ہے، چنانچہ ابو زرعہ l نے چند اشیاء کو ذکر کیا جو اس میں دیکھی تھیں، اور اسے جھوٹ کی طرف منسوب کیا۔
حافظ ابو حاتم l فرماتے ہیں: ’’رأيته عند هشام بن عمار، ولم أكتب عنه، وكان يكذب، ويأتي بالأباطیل ‘‘[18]. میں نے اسے ہشام بن عمار کے پاس دیکھا تھا، اور میں نے اس سے نہیں لکھا، اور یہ جھوٹ بولتا ہے، اور باطل اشیاء لاتا ہے۔
امام نسائی l نے ابو طاہر مقدسی کو ’’ ليس بثقة‘‘ کہا ہے[19]۔
حافظ عقیلی l ’’الضعفاء الكبير‘‘[20] میں فرماتے ہیں: ’’يحدث عن الثقات، بالبواطيل في الموضوعات ‘‘. یہ ثقہ لوگوں کے انتساب سے باطل اور من گھڑت حدیثیں بیان کرتا ہے۔
حافظ ابن حبانl ’’المجروحین‘‘[21]میں فر ماتے ہیں: ’’وكان يدور بالشام، ويضع الحديث على الثقات، ويروي ما لا أصل له عن الأثبات، لا تحل الرواية عنه ولا كتابة حديثه إلا على سبيل الاعتبار للخواص‘‘. یہ شام میں گھومتا تھا، ثقہ راویوں کے انتساب سے حدیث گھڑتا تھا، اور ثقہ راویوں کے انتساب سے ایسی احادیث روایت کرتا تھا جن کی کوئی اصل نہیں ہے، اس سے روایت کرنا اور اس کی حدیث کو لکھنا حلال نہیں ہے مگر اعتبار کے طور پر خواص کےلئے۔
حافظ ابن یونس lفرماتے ہیں: ’’روى عن مالك موضوعات، وهو متروك الحديث‘‘[22] . اس نے مالک l کے انتساب سے من گھڑت روایات بیان کی ہیں، اور یہ متروک الحدیث ہے۔
حافظ عبد الغنی بن سعید l نے ابو طاہر مقدسی کو ’’ضعيف‘‘ کہا ہے[23]۔
قاضی منصور بن اسماعیل l فرماتے ہیں: ’’ كان يضع الحديث على مالك والمُوَقَّرِي‘‘[24] . مالک l اور موقری کے انتساب سے احادیث گھڑتا تھا۔
حافظ ابن عدی l ’’الكامل‘‘[25] میں فرماتے ہیں: ’’منكر الحديث، ويسرق الحديث‘‘. یہ منکر الحدیث ہے، اور حدیث میں سرقہ کرتا ہے۔
امام دارقطنیl نے ’’الضعفاء‘‘[26] میں ابو طاہر مقدسی کو ’’ضعيف‘‘ کہا ہے۔
نیز امام دار قطنیl نے ’’ العلل الواردة‘‘[27] میں اسے ’’متروک الحديث‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابو نعیم اصبہانی l نے ’’المسند المستخرج‘‘ [28] میں ابو طاہر مقدسی کو ’’ لا شيء‘‘ کہا ہے۔
امام بیہقی l نے ’’السنن الكبرى‘‘[29] میں ایک روایت کے تحت موسی بن محمد بلقاوی کو ’’منکر الحديث، ضعيف‘‘ کہا ہے۔
حافظ سمعانی l ’’الأنساب‘‘[30]میں موسی بن محمد بن عطاء کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ كان كذابا، مهجورا‘‘.
حافظ ذہبی l نے ’’المغني‘‘[31] میں ابو طاہر مقدسی کو ’’ کذاب، متهم‘‘ کہا ہے۔
حافظ ذہبی l نے ’’ميزان الاعتدال‘‘[32] میں موسی بن محمد بلقاوی کو ’’أحد التلفى‘‘ کہا ہے۔
نیز حافظ ذہبی l ’’ميزان الاعتدال‘‘[33] میں موسی بن محمد قرشی کے ترجمہ میں فرماتے ہیں: ’’ الظاهر أنه البلقاوي الكذاب‘‘. بظاہر یہ بلقاوی ہے جو کذاب ہے۔
حافظ عراقی l ’’ التقييد‘‘[34] میں فرماتے ہیں: ’’والبلقاوي هذا كذاب‘‘. اور یہ بلقاوی کذاب ہے۔
حافظ ابن ناصر الدین دمشقی l ’’جامع الآثار‘‘[35] میں ایک روایت کے تحت موسی بن محمد بلقاوی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’وكان واهیا‘‘. اور یہ واہی تھا۔
حافظ ابن ناصر الدین دمشقی l ’’جامع الآثار‘‘[36] میں ایک دوسرے مقام پر ایک روایت کے تحت موسی بن محمد بلقاوی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ أحد المتروكين، رمي بالوضع والسرقة‘‘. متروکین میں سے ایک ہے، اس پر حدیث گھڑنے اور سرقہ کرنے کا اتہام ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی l ’’ لسان المیزان‘‘[37] میں عبد الجلیل مدنی کے ترجمہ میں ایک روایت نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ’’وقال ابن عساكر: هذا منكر، وأبو طاهر هو موسى بن محمد بن عطاء كذاب، وعبد الجليل مجهول‘‘. ابن عساکر l فرماتے ہیں: یہ روایت منکر ہے، اور ابو طاہر موسی بن محمد بن عطاء کذاب ہے، اور عبد الجلیل مجہول ہے۔
علامہ ابن عراق l ’’تنزيه الشريعة‘‘[38] میں موسی بن محمد بن عطاء دمیاطی بلقاوی کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے فرماتے ہیں: ’’عن مالك، كذبه أبو زرعة وأبو حاتم، وقال ابن حبان: كان يضع الحديث، وقال ابن عدي: كان يسرق الحديث‘‘. مالک l کے انتساب سے روایت کرتا ہے، ابو زرعہ l اور ابو حاتم l نے اسے جھوٹا کہا ہے، اور ابن حبان l فرماتے ہیں کہ حدیث گھڑتا تھا، اور ابن عدی l فرماتے ہیں کہ حدیث میں سرقہ کرتا تھا۔
حوالہ جات
[15] الجرح التعديل:۸/۱۶۱،رقم:۷۱۵،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۱هـ .
[16] الجرح التعديل:۸/۱۶۱،رقم:۷۱۵،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۱هـ .
[17] سؤالات البرذعي لأبي زرعة:ص:212،رقم:365،ت:أبو عمر محمد بن علي الأزهري،الفاروق الحديثية ـ القاهرة،الطبعة الأولى۱430هـ .
[18] الجرح التعديل:۸/۱۶۱،رقم:۷۱۵،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۱هـ .
[19] انظر لسان الميزان:8/217،رقم:8030 ،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مکتبة المطبوعات الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۳هـ .
[20] الضعفاء الكبير:۴/۱۶۹،رقم:۱۷۴۳،ت:عبد المعطی أمین قلعجی،دار الکتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۸هـ .
[21] المجروحين:۲/۲۴۳،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .
[22] انظر لسان الميزان:8/21۸،رقم:8030 ،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مکتب المطبوعات الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۳هـ .
[23] انظر لسان الميزان:8/21۸،رقم:8030 ،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مکتب المطبوعات الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۳هـ .
[24] انظر لسان الميزان:8/21۸،رقم:8030 ،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مکتب المطبوعات الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۳هـ .
[25] الكامل في الضعفاء:۸/۶۴،رقم:۱۸۲۹،ت:عادل أحمد عبدالموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[26] الضعفاء والمتركون:369،رقم:524،ت:موفق بن عبد الله،مکتبة المعارف ـ الرياض،الطبعة الأولى ۱۴۰۴هـ .
[27] العلل الواردة:1/۱22،ت:محفوظ الرحمن زين الله السلفي،دار طيبة ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴05هـ .
[28] المسند المستخرج على صحيح مسلم:1/79،رقم:208،ت:محمد حسن محمد حسن إسماعيل،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1417هـ .
[29] السنن الكبرى للبيهقي:3/۳۹۵،رقم:۶۱۳۱،ت:محمد عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1424هـ .
[30] الأنساب:12/391،مجلس دائرة المعارف العثمانية ـ حيدر آباد الدكن،الطبعة الاولى۱397هـ .
[31] المغني في الضعفاء:۲/۴۴۲،رقم:۶۵۲۱،ت:أبو الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۱۸هـ .
[32] ميزان الاعتدال:۴/۲19،رقم:۸۹15 ،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[33] ميزان الاعتدال:۴/۲۲۱،رقم:۸۹۲۲ ،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[34] التقييد والإيضاح:ص:60،ت:عبد الرحمن محمد عثمان،المكتبة السلفية ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1389هـ .
[35] جامع الآثار في السير و مولد المختار:۴/۴۳۶،ت:أبو يعقوب نشأت كمال،دار الفلاح ـ الفيوم،الطبعة الأولى1431هـ .
[36] جامع الآثار في السير و مولد المختار:۳/۹۵،ت:أبو يعقوب نشأت كمال،دار الفلاح ـ الفيوم،الطبعة الأولى1431هـ .
[37] لسان الميزان:5/62،رقم:4556،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مکتب المطبوعات الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۳هـ .
[38] تنزيه الشريعة:۱/1۲۱،رقم:۳۹۰،ت:عبد الله محمد الصديق الغماري،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية ۱۴۰۱هـ .