اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: علم کا صرف اللہ تعالی کےلئے سیکھنا اللہ تعالی کے خوف کے حکم میں ہے، اور اس کی طلب (یعنی تلاش کےلئے کہیں جانا) عبادت ہے، اور اس کا یاد کرنا تسبیح ہے، اور اس کی تحقیقات میں بحث کرنا جہاد ہے، اور اس کا پڑھنا صدقہ ہے، اور اس کا اہل پر خرچ کرنا اللہ تعالی کے یہاں قربت ہے‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ ہفتم)سند میں موجود راوی ابو زید عبد الرحیم بن زید عمی حواری بصری (المتوفی ۱۸۴ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ محمد بن مثنیl فرماتے ہیں: ’’ما سمعت عبد الرحمن يحدث عن عبد الرحيم بن زيد العمي شيئا قط‘‘[39]. میں نے عبد الرحمن (یعنی ابن مہدی l) کو کبھی بھی عبد الرحیم بن زید عمی سے حدیث نقل کرتے نہیں سنا۔
حافظ یحیی بن معین l نے عبد الرحیم بن زید کو ’’ ليس بشيء‘‘ کہا ہے[40]۔
امام علی بن مدینی l نے عبد الرحیم بن زید کو ’’ضعيف‘‘ کہا ہے[41]۔
امام بخاری l عبد الرحیم بن زید کے بارے میں ’’ التاريخ الكبير‘‘[42] ، ’’ التاريخ الصغير‘‘[43] اور ’’الضعفاء‘‘[44] میں فرماتے ہیں: ’’تركوه‘‘. محدثین نے اسے ترک کردیا تھا۔
حافظ جوز جانی l نے ’’أحوال الرجال‘‘[45] میں عبد الرحیم بن زید کو ’’غير ثقة‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابو زرعہ l نے اسے ’’واهي، ضعيف الحديث‘‘ قرار دیا ہے[46]۔
امام ابو داؤد l نے عبد الرحیم بن زید کو ’’ ضعيف‘‘ کہا ہے[47]۔
نیز امام ابو داؤد l ایک دوسری جگہ ارشاد فرماتے ہیں: ’’ لا يكتب حديثه‘‘ [48]. اس کی حدیث کو نہیں لکھا جائے گا۔
امام نسائی l نے ’’الضعفاء‘‘[49] میں عبد الرحیم بن زید کو ’’متروك‘‘ کہا ہے۔
امام نسائی l ایک دوسرے مقام پر عبد الرحیم بن زید کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ ليس بثقة، ولا يكتب حديثه‘‘[50]. ثقہ نہیں ہے، اور اس کی حدیث نہیں لکھی جائے گی۔
حافظ ابن جارود l نے عبد الرحیم بن زید کو ’’ ليس بشيء‘‘ کہا ہے[51]۔
حافظ ساجی l فرماتے ہیں: ’’عنده مناكير‘‘[52] . اس کے پاس مناکیر ہیں۔
حافظ ابو القاسم عبداللہ بن احمد بلخی l نے ’’قبول الأخبار‘‘[53] میں عبد الرحیم بن زید کو ’’ ليس بشيء‘‘ کہا ہے۔
حافظ عقیلی l ’’الضعفاء الكبير‘‘[54] میں عبد الرحیم بن زید عمی کی ایک حدیث تخریج کرکے فرماتے ہیں: ’’ لا يتابع عليه، ولا على كثير من حديثه‘‘. اس حدیث میں اس کی متابعت نہیں ہوئی ہے، اور اس کی بہت سی احادیث میں متابعت نہیں ہوئی ہے۔
حافظ ابو حاتمl فرما تے ہیں: ’’عبد الرحيم بن زيد العمى ترك حديثه، كان يفسد أباه، يحدث عنه بالطامات‘‘[55]. عبد الرحیم بن زید کی حدیث کو ترک کردیا گیا ہے، وہ اپنے والد کے انتساب سے طامات روایت کرکے ان کو خراب کرتا تھا۔
حافظ ابو حاتمl ایک دوسرے مقام پر فرما تے ہیں: ’’عبد الرحيم بن زيد متروك الحديث، وزيد العمي ضعيف الحديث‘‘[56].عبد الرحیم بن زید متروک الحدیث ہے، اور زید عمی ضعیف الحدیث ہے۔
حافظ ابن حبانl ’’المجروحین‘‘[57]میں فر ماتے ہیں: ’’يروي عن أبيه العجائب، لا يشك من الحديث صناعته أنها معمولة أو مقلوبة كلها، يروي عن أبيه، روى عنه العراقيون، فأما ما روى عن أبيه فالجرح ملزق بأحدهما أو بهما، وهذا لا سبيل إلى معرفته، إذ الضعيفان إذا انفرد أحدهما عن الآخر بخبر لا يتهيأ حكم القدح في أحدهما دون الآخر، وإن كان وجود المناكير في حديث منهما معا أو من أحدهما استحق الترك‘‘.
عبد الرحیم اپنے والد سے عجائب روایت کرتا ہے، اہل صناعت کو اس میں شک نہیں ہے کہ وہ تمام روایات بنائی گئی ہیں یا مقلوب ہیں، یہ اپنے والد سے روایت کرتا ہے، اور اس سے اہل عراق روایت کرتے ہیں، تاہم جو اس نے اپنے والد سے روایت کی ہے اس میں جرح دونوں میں سے کسی ایک کے ساتھ یا دونوں کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، اور اس کی معرفت کا کوئی طریقہ نہیں ہے، کیونکہ دو ضعیف راویوں میں سے ایک دوسرے سے خبر کو روایت کرنے میں متفرد ہوجائے تو ایک کو چھوڑ کر دوسرے پر جرح کا حکم لگانا ممکن نہیں ہوتا، اور اگر مناکیر دونوں کی احادیث میں ایک ساتھ موجود ہوں یا ان میں سے کسی ایک کی احادیث میں موجود ہوں تو وہ ترک کا مستحق ہوتا ہے۔
حافظ ابن عدیl ’’الكامل‘‘[58]میں عبد الرحیم بن زید کی بعض احادیث تخریج کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ’’وعبد الرحيم بن زيد يروي عن أبيه، عن شقيق، عن عبد الله غير حديث منكر، وله أحاديث غير ما ذكرت كلها ما لا يتابعه الثقات عليها‘‘. اور عبد الرحیم بن زید نے اپنے والد سے شقیق، عن عبد اللہ کے طریق سے ایک سے زائد منکر احادیث روایت کی ہیں، اور میری ذکر کردہ احادیث کے علاوہ اس کی اور بھی ایسی احادیث ہیں جن میں ثقہ راویوں نے اس کی متابعت نہیں کی ہے۔
امام ابو عبد اللہ حاکم نیشاپوریl ’’المدخل‘‘[59] میں فرماتے ہیں: ’’روى عن أبيه أحاديث عليه الحمل فيها، لا على أبيه‘‘. اس نے اپنے والد سے ایسی احادیث روایت کی ہیں جن میں حمل اسی پر ہے، اس کے والد پر نہیں ہے۔
حافظ ابو نعیم اصبہانی l ’’المسند المستخرج‘‘ [60] میں فرماتے ہیں: ’’عن أبيه أحاديث منكرة‘‘. یہ اپنے والد کے انتساب سے منکر احادیث روایت کرتا ہے۔
امام بیہقی l نے ’’شعب الإیمان‘‘[61] میں ایک روایت کے تحت عبد الرحیم کو ’’ ليس بالقوي‘‘ کہا ہے۔
امام بیہقی l ’’شعب الإیمان‘‘[62] میں ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: ’’عبد الرحيم بن زيد العمي ضعيف، يأتي بما لا يتابعه الثقات عليه، والله أعلم‘‘. عبد الرحیم بن زید ضعیف ہے، ایسی اشیاء لاتا ہے جس میں ثقات اس کی متابعت نہیں کرتے، واللہ اعلم۔
حافظ ابن عبد البر l ’’ التمهيد‘‘[63] میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’وليس يشتغل أهل العلم بالنقل بمثل حديث عبد الرحيم بن زيد العمي وأبيه، وقد أجمعوا على تركهما ‘‘. اور اہل علم بالنقل عبد الرحیم بن زید اور اور اس کے والد جیسوں کی حدیث میں مشغول نہیں ہوتے، اور ان دونوں کے ترک پر محدثین نے اجماع کیا ہے۔
حافظ ابن سمعانی l فرماتے ہیں: ’’ كان ضعيفا‘‘[64]. یہ ضعیف تھا۔
حافظ ابن قیسرانیl نے ’’ذخيرة الحفاظ‘‘[65] میں ایک روایت کے تحت عبد الرحیم کو ’’ضعيف‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابن عساکرl نے ’’معجم الشيوخ‘‘[66] میں ایک روایت کے تحت عبد الرحیم بن زید عمی کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔
حافظ ذہبی l ’’سير أعلام النبلاء‘‘[67] میں عبد الرحیم بن زید کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’أحد المتروكين‘‘ یہ متروکین میں سے ایک ہے۔
نیز حافظ ذہبی l ’’ الكاشف‘‘[68] میں فرماتے ہیں: ’’تركوه‘‘. محدثین نے اسے ترک کردیا ہے۔
حافظ ابن ملقن l ’’البدر المنير‘‘[69] میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’فهو متروك، واه‘‘. یہ متروک، واہی ہے۔
حافظ ابن حجرعسقلانی l نے ’’ التلخيص‘‘[70] میں ایک روایت کے تحت عبد الرحیم بن زید کو ایک مقام پر ’’متروك‘‘ اور دوسرے مقام پر ’’ كذاب‘‘ کہا ہے[71]۔
حافظ ہیثمی l نے ’’مجمع الزوائد‘‘[72] میں ایک حدیث کے تحت عبد الرحیم بن زید کو ’’متروك‘‘ کہا ہے۔
علامہ ابن عراق l ’’تنزيه الشريعة‘‘[73] میں عبد الرحیم بن زید کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے فرماتے ہیں: ’’قال يحيى: كذاب‘‘. یحیی l فرماتے ہیں کہ یہ کذاب ہے۔
حوالہ جات
[39] الضعفاء الكبير:۳/۷۸،رقم:1045،ت:عبد المعطی أمین قلعجی،دار الکتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۴هـ .
[40] تاريخ يحيى بن معين برواية الدوري:2/171،رقم:4039،ت:عبد الله أحمد حسن،دار القلم ـ بيروت .
[41] انظر تاريخ بغداد:۱2/367،رقم:5717،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۲هـ .
[42] التاريخ الكبير:۵/۳۶۸،رقم:۷۹۱۵،ت:مصطفى عبد القادر،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1429هـ .
[43] التاريخ الصغير:2/231،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ .
[44] الضعفاء للبخاري:ص:۸۱ ،رقم:۲۳۵،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ .
[45] أحوال الرجال:ص:334،رقم:360،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوى،حديث أكادمي ـ فيصل آباد ـ باكستان، الطبعة الأولى۱۴۱۱هـ .
[46] الجرح التعديل:5/340،رقم:1603،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۱هـ .
[47] سؤالات أبي عبيد الآجري:۱/۳۹۳،رقم:۷۶1،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،مؤسسة الريان ـ بيروت،الطبعة الأولى1418هـ .
[48] سؤالات أبي عبيد الآجري:۱/۳۹۳،رقم:۷۶۰،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،مؤسسة الريان ـ بيروت،الطبعة الأولى1418هـ .
[49] الضعفاء والمتروكين:ص:161،رقم:389،ت:بوران الضناوي وكمال يوسف الحوت،مؤسسة الكتب الثقافية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۵هـ .
[50] إكمال تهذيب الكمال:۸/۲۶۰،رقم:3283،ت:أبو عبد الرحمن عادل بن محمد،الفاروق الحديثة ـ القاهرة، الطبعة الأولى۱۴22هـ .
[51] انظر إكمال تهذيب الكمال:8/260،رقم:3283،ت:أبو عبد الرحمن عادل بن محمد،الفاروق الحديثة ـ القاهرة، الطبعة الأولى ۱۴22هـ .
[52] انظر إكمال تهذيب الكمال:8/260،رقم:3283،ت:أبو عبد الرحمن عادل بن محمد،الفاروق الحديثة ـ القاهرة، الطبعة الأولى ۱۴22هـ .
[53] قبول الأخبار ومعرفة الرجال:2/294،رقم:646،ت:أبي عمرو الحسيني بن عمر،دارالكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى1421هـ .
[54] الضعفاء الكبير:۳/۷۸،رقم:1045،ت:عبد المعطی أمین قلعجی،دار الکتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۴هـ .
[55] الجرح والتعدیل:۵/۳۴۰،رقم:۱۶۰۳،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷1هـ .
[56] علل الحدیث لابن أبي حاتم:1/551،رقم:100،ت:سعد بن عبد اﷲ عبد الحمید وخالد بن عبد الرحمن الجریسي،مکتبة الملک الفهد ـ الریاض،الطبعة۱۴۲۷هـ .
[57] المجروحين:۲/۱۶۱،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .
[58] الكامل في ضعفاء الرجال:۶/۴۹۵،رقم:۱۴۲۰،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[59] المدخل إلى الصحيح:ص:۱۷۷،رقم:۱۴۳،ت:ربيع بن هادي عمير المدخلي،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى1404هـ .
[60] المسند المستخرج على صحيح مسلم:1/۷3،رقم:۱۴۵،ت:محمد حسن محمد حسن إسماعيل،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1417هـ .
[61] شعب الإيمان:5/297،رقم:3455،ت:عبد العلي عبد الحميد حامد،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الأولى1423هـ .
[62] شعب الإيمان:۶/۴۵،رقم:3۸۵۳،ت:عبد العلي عبد الحميد حامد،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الأولى1423هـ .
[63] التمهيد:13/105،ت:بشار عواد معروف،مؤسسة الفرقان للتراث الإسلامي،الطبعة الأولى1439هـ.
[64] انظر إكمال تهذيب الكمال:8/260،رقم:3283،ت:أبو عبد الرحمن عادل بن محمد،الفاروق الحديثة ـ القاهرة، الطبعة الأولى ۱۴22هـ .
[65] ذخيرةالحفاظ:ص:1838،رقم:4220، ت:عبد الرحمن بن عبد الجبار الفريوائي،دار السلف ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۱6هـ .
[66] معجم الشيوخ:3/1133،رقم:1475،ت:وفاء تقي الدين،دارالبشائرـ دمشق،الطبعة الأولى۱۴۲۱هـ .
[67] سير أعلام النبلاء:8/358،رقم:102،ت:شعيب الأرنؤوط،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الثالثة1405هـ .
[68] الكاشف:1/۶۵۰،رقم:۳۳۵۵،ت:محمد عوامه،دار القبلة للثقافة الإسلاميه ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴13هـ .
[69] البدر المنير:۲/۱۳۳،ت:أبومحمد عبد الله بن سلمان، دار الهجرة ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۲5هـ .
[70] تلخيص الحبير:۱/۲۶۶،ت:عادل أحمد عبد الموجود و علي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1419هـ .
[71] تلخيص الحبير:4/463،ت:عادل أحمد عبد الموجود و علي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1419هـ .
[72] مجمع الزوائد:۴/۲۵۲،دار الكتاب العربى ـ بيروت .
[73] تنزيه الشريعة:1/۷۹،رقم:۱۶۳،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴01هـ .