اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: علم کا صرف اللہ تعالی کےلئے سیکھنا اللہ تعالی کے خوف کے حکم میں ہے، اور اس کی طلب (یعنی تلاش کےلئے کہیں جانا) عبادت ہے، اور اس کا یاد کرنا تسبیح ہے، اور اس کی تحقیقات میں بحث کرنا جہاد ہے، اور اس کا پڑھنا صدقہ ہے، اور اس کا اہل پر خرچ کرنا اللہ تعالی کے یہاں قربت ہے‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ ہفتم)سند میں موجود راوی ابو سعید مسیب بن شریک تمیمی شَقَری کوفی (المتوفی ۱۸۶ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کے اقوال
حافظ ابن سعدl ’’الطبقات الکبرى‘‘[92] میں مسیب بن شریک کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’وكان ضعيفا في الحديث، لا يحتج به‘‘. اور یہ حدیث میں ضعیف ہے، اس سے احتجاج نہ کیا جائے۔
حافظ ابن محرز l فرماتے ہیں: ’’ سمعت يحيى، وذكر المسيب بن شريك فقال أبو خيثمة: لم يكن يكذب، فقال يحيى: ولكنه كان مغفلا، ضعيف‘‘[93]. یحیی l سے میری سماعت کے دوران مسیب بن شریک کا تذکرہ ہوا، تو ابو خیثمہ l نے کہا کہ مسیب بن شریک جھوٹ نہیں بولتا تھا، تو یحیی بن معین l نے فرمایا: لیکن وہ مغفل، ضعیف ہے۔
حافظ یحیی بن معین l نے ایک دوسرے مقام پر مسیب بن شریک کو ’’ليس بشيء‘‘ کہا ہے[94]۔
امام علی بن مدینیl فرماتے ہیں: ’’ المسيب بن شريك كتبت عنه كتابا كثيرا، ولم أترك عندي عنه إلا ثلاثة أحاديث‘‘[95]. میں نے مسیب بن شریک سے بہت زیادہ لکھا، اور میں نے اس کی صرف تین حدیثیں ترک کی ہیں۔
حافظ ابن ابی مریم l فرماتے ہیں: ’’قال لي غير يحيى بن معين: أجمع الناس على طرح هؤلاء النفر، ليس بذاكر لحديثهم، فلا يعتد بهم، منهم: مسيب بن شريك، كان ببغداد ‘‘[96]. مجھے یحیی بن معینl کے علاوہ نے کہا: محدثین نے اس جیسے لوگوں کے ترک کرنے پر اجماع کیا ہے، وہ ان کی حدیثوں کا ذکر نہیں کرتے، وہ ان کو معتد بہ نہیں سمجھتے تھے، ان میں ایک مسیب بن شریک ہے، یہ بغداد میں رہتا تھا۔
حافظ عبد اللہ بن احمد بن حنبل l فرماتے ہیں: ’’سألت أبي عن المسيب بن شريك، فقال: ثقة، فقلت: أيش أنكر عليه؟ فقال: حديث رواه عن الأعمش‘‘[97]. میں نے والد سے مسیب بن شریک کے بارے میں پوچھا، تو فرمایا کہ ثقہ ہے، میں نے کہا: اس پر کس وجہ سے انکار کیا جاتا ہے؟ تو والد نے فرمایا: اس حدیث کی وجہ سے جس کو یہ اعمش سے روایت کرتا ہے۔
حافظ عبد اللہ بن احمد بن حنبل l ’’العلل‘‘[98] میں ایک سوال کے سیاق میں اپنے والد سے مسیب بن شریک کے بارے میں پوچھتے ہیں: ’’ترى المسيب بن شريك كان يكذب، قال: معاذ الله! ولكنه كان يخطىء‘‘. آپ کا خیال ہے کہ مسیب بن شریک جھوٹ بولتا تھا، والد نے فرمایا: اللہ کی پناہ! لیکن وہ خطاء کرتا تھا۔
امام احمد بن حنبلl ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: ’’ترك الناس حديثه‘‘[99]. لوگوں نے اس کی حدیث کو ترک کردیا ہے۔
امام بخاری l نے ’’التاريخ الكبير‘‘[100] ، ’’التاريخ الصغير‘‘[101] اور ’’الضعفاء الصغير‘‘[102] میں مسیب بن شریک کے بارے میں ’’سكتوا عنه‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابراہیم بن یعقوب جوزجانی l ’’أحوال الرجال‘‘[103] میں فرماتے ہیں: ’’سكت الناس عن حديثه‘‘. لوگوں نے اس کی حدیث سے سکوت اختیار کیا ہے۔
امام مسلم l نے ’’الكنى‘‘[104] میں مسیب بن شریک کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔
امام فلاس l فرماتے ہیں: ’’والمسيب بن شريك متروك الحديث، قد اجتمع أهل العلم على ترك حديثه‘‘[105]. مسیب بن شریک متروک الحدیث ہے، اہل علم اس کی حدیث کے ترک پر متفق ہیں۔
حافظ ابو حاتم l فرماتے ہیں: ’’ضعيف الحديث، كأنه متروك‘‘[106]. ضعیف الحدیث ہے، گویا کہ وہ متروک ہے۔
امام نسائی l نے ’’ الضعفاء‘‘[107] میں مسیب بن شریک کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔
حافظ حسین بن ادریس l نے مسیب بن شریک کو ’’متروك‘‘ کہا ہے[108]۔
حافظ زکریا بن یحیی ساجیl مسیب بن شریک کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’متروك الحديث، يحدث بمناكير‘‘[109]. متروک الحدیث ہے، مناکیر بیان کرتا ہے۔
حافظ ابن حبان l ’’المجروحین‘‘[110] میں فرماتے ہیں: ’’وكان شيخا صالحا، كثير الغفلة، لم تكن صناعة الحديث من شأنه، يروي فيخطأ[ كذا في الأصل]، ويحدث فيهم من حيث لا يعلم، فظهر من حديثه المعضلات التي يرويها عن الأثبات، لا يجوز الاحتجاج به ولا الرواية عنه، إلا على سبيل التعجب‘‘.
مسیب بن شریک نیک شخص، کثیر الغفلہ تھا، صناعت حدیث ان کا فن نہ تھا، روایت بیان کرتا تو خطاء کرتا تھا، اور حدیث بیان کرتے ہوئے ان کو وہم ہوجاتا تھا جس کا اس کو علم بھی نہیں ہوتا تھا، چنانچہ ان کی احادیث میں ایسی معضل روایات ظاہر ہوئیں جن کو وہ اثبات سے روایت کرتا تھا، اس سے احتجاج اور روایت نقل کرنا جائز نہیں ہے، مگر تعجب کے طور پر۔
حافظ ابو احمدحاکم l ’’ الأسامي‘‘[111] میں فرماتے ہیں: ’’ ليس بالقوي عندهم‘‘. محدثین کے نزدیک لیس بالقوی ہے۔
حافظ دار قطنیl نے ’’ الضعفاء‘‘[112] میں مسیب بن شریک کو ’’ضعيف‘‘ کہا ہے۔
حافظ دار قطنیl نے اپنی ’’سنن‘‘[113] میں ایک روایت کے تحت مسیب بن شریک کو ’’متروك‘‘ کہا ہے۔
حافظ ذہبی l ’’ المقتنى‘‘[114] میں فرماتے ہیں: ’’ ليس بالقوي عندهم‘‘. محدثین کے نزدیک لیس بالقوی ہے۔
حافظ ذہبی l ’’المغني‘‘[115] اور ’’ديوان‘‘[116] میں فرماتے ہیں: ’’تركوه‘‘. محدثین نے اسے ترک کردیا ہے۔
حوالہ جات
[92] الطبقات الكبرى:۷/۲۳۹،رقم:۳۴۹۰،ت:محمد عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1418هـ .
[93] معرفة الرجال برواية ابن محرز:1/67،رقم:130،ت:محمد كامل القصار،مطبوعات مجمع اللغة العربية ـ دمشق،الطبعة1405هـ .
[94] تاريخ عثمان بن سعيد الدارمي:ص:214،رقم:796،ت:أحمد محمد نور سيف،دار المأمون للتراث ـ دمشق .
[95] تاریخ بغداد:۱۵/۱۷۷،رقم:۷۰۷۵،ت:بشار عواد،دار الغرب الإسلامی ـ بیروت،الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .
[96] الكامل في ضعفاء الرجال:۸/۱۲۲،رقم:۱۸۷۳،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[97] تاریخ بغداد:۱۵/۱۷۶،رقم:۷۰۷۵،ت:بشار عواد،دار الغرب الإسلامی ـ بیروت،الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .
[98] العلل ومعرفة الرجال:۲/۵۵۸،رقم:3۶۳۸،ت:وصي الله بن محمد عباس،دار الخاني ـ الرياض،الطبعة الثانية 1422هـ .
[99] انظر الجرح التعديل:8/294،رقم:1353،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷2هـ .
[100] التاريخ الكبير:7/286، رقم:11127،ت:مصطفى عبد القادر أحمد عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية ۱۴۲۹هـ .
[101] التاريخ الصغير:2/219،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ .
[102] الضعفاء الصغير:ص:115،رقم:361،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ .
[103] أحوال الرجال:ص:33۲،رقم:3۶۰،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،حديث أكادمي ـ فيصل آباد، باكستان،الطبعة الأولى1411هـ .
[104] الكنى و الأسماء:ص:3۶۳،رقم:۱۳۲۷،ت:عبد الرحيم محمد أحمد القشقري،الجامعة الإسلامية ـ المدينة المنورة، الطبعة الأولى۱۴04هـ .
[105] تاریخ بغداد:۱۵/۱۷۷،رقم:۷۰۷۵،ت:بشار عواد،دار الغرب الإسلامی ـ بیروت،الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .
[106] الجرح التعديل:8/294،رقم:1353،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷2هـ .
[107] الضعفاء والمتروکین:ص:۲۳۸،رقم:۵۷۱،ت:محمد إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۶هـ .
[108] تاریخ بغداد:۱۵/۱۷8،رقم:۷۰۷۵،ت:بشار عواد،دار الغرب الإسلامی ـ بیروت،الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .
[109] تاریخ بغداد:۱۵/۱۷8،رقم:۷۰۷۵،ت:بشار عواد،دار الغرب الإسلامی ـ بیروت،الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .
[110] المجروحين:۳/۲۴،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .
[111] الأسامي والكنى:3/409،رقم:2745،ت:أبي عمر محمد بن علي الأزهري،الفاروق الحديثية ـ القاهرة،الطبعة الأولى1436هـ .
[112] الضعفاء والمتروکون:ص:۳۶۰،رقم:۵۰۸،ت:موفق بن عبد الله بن عبد القادر،مكتبة المعارف ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴۰۴هـ .
[113] سنن الدار قطني:5/507،رقم:4747،ت:شعيب الأرنؤوط،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى1424هـ .
[114] المقتنى في سرد الكنى:1/۲۷۰،رقم:۲۶۰۲،ت:محمد صالح عبد العزيز المراد،المجلس العلمي ـ المدينة المنورة،الطبعة1408هـ .
[115] المغني في الضعفاء:2/407،رقم:6253،ت:أبو الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1418هـ .
[116] ديوان الضعفاء:ص:387،رقم:412،ت:حماد بن محمدالانصاري،مكتبة النهضة الحديثية ـ مكة المكرمة، الطبعة1387هـ .