اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’جس نےجنازے کو چاروں جانب سے اٹھایا ( کندھا دیا)تو اللہ تعالیٰ اس کے چالیس کبیرہ گناہ مٹادیں گے‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ چہارم)سند میں موجود راوی علی بن ابی سارہ ازدی بصری (اور ان کو علی بن محمد بن ابی سارہ شیبانی بھی کہاجاتاہے) کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
امام بخاری l ’’التاريخ الكبير‘‘[13] میں فرماتے ہیں: ’’فيه نظر‘‘.
امام ابو داود l فرماتے ہیں: ’’قد ترك الناس حديثه‘‘[14]. محدثین نے اس کی حدیث کو ترک کردیا ہے۔
نیز ایک دوسرے مقام پر لکھتے ہیں: ’’تركوا حديثه‘‘[15].محدثین نے اس کی حدیث کو ترک کردیا ہے۔
حافظ ابن حبان l ’’المجروحين‘‘ [16] میں فرماتے ہیں: ’’ كان ممن يروي عن ثابت مالا يشبه حديث ثابت، حتى غلب على روايته المناكير التي يرويها عن المشاهير، فاستحق الترك‘‘.
یہ ثابت سے ایسی روایات نقل کرتا ہے جو ثابت کی حدیث کے مشابہ نہیں ہوتیں، یہاں تک کہ اس کی منکر روایات زیادہ ہوگئیں جنہیں یہ مشہور لوگوں سے روایت کرتا ہے، اسی وجہ سے یہ ترک کا مستحق ہے۔
اس کے بعد حافظ ابن حبان lنے زیرِ بحث روایت نقل کی ہے۔
امام ابو حاتم l ’’الجرح التعديل‘‘[17] میں فرماتے ہیں: ’’شيخ ضعيف الحديث‘‘.
حافظ عقیلی l ’’الضعفاء الكبير‘‘ [18] میں فرماتے ہیں: ’’عن ثابت، ولا يتابع عليه من جهة تَثْبُتُ... ولا يتابعه إلا من هو مثله أو قريبا منه‘‘.
’’ثابت سے روایت کرتا ہے، اور کسی ثابت شدہ طریق سے اس کی متابعت نہیں کی جاتی۔۔۔ اوراس کی متابعت صرف اس جیسے یا اس سے قریب قریب کے لوگ کرتے ہیں‘‘۔
حافظ ابن شاہین l فرماتے ہیں: ’’ ليس بشيء‘‘[19].
حافظ ابن قیسرانیl ’’تذكرة الحفاظ‘‘ [20] میں فرماتے ہیں: ’’متروك الحديث‘‘.
حافظ ذہبی l ’’الكاشف‘‘ [21] میں لکھتے ہیں: ’’متروك‘‘.
حافظ ابن حجر عسقلانی l ’’تقريب التهذيب‘‘[22] میں لکھتے ہیں: ’’ضعيف‘‘.
حافظ سیوطی l فرماتے ہیں: ’’علي بن أبي سارة ضعيف‘‘[23].علی بن ابی سارہ ضعیف ہے۔
حوالہ جات
[13] التاريخ الكبير:6/۲۷۸،رقم:۲۳۹۷،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[14] سؤالات أبي عبيد الآجري:1/367،رقم:669،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،مؤسسة الريان ـ بيروت، الطبعة الأولى1418هـ .
[15] سؤالات أبي عبيد الآجري:2/143،رقم:1402،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،مؤسسة الريان ـ بيروت، الطبعة الأولى1418هـ .
[16] المجروحين :2/۱۰۴،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت .
[17] الجرح التعديل:6/۱۸۹،رقم:۱۰۳۷،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۱هـ .
[18] الضعفاء الكبير:3/۲۳۲،رقم:۱۲۳۳،ت:عبد المعطي أمين قلعجي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۴هـ .
[19] تاريخ أسماءالضعفاءوالكذابين:ص:۱۲۴،رقم:۳۷۶،ت:عبدالرحيم محمد أحمد القشقري،الطبعة الأولى ۱۴۰۹هـ .
[20] تذكرةالحفاظ:ص:۳۲۱،رقم:۸۰۶،ت:حمدي بن عبدالمجيد،دارالصميعي ـ الرياض،الطبعة الأولى ۱۴۱۵هـ .
[21] الكاشف:2/40،رقم:3917،ت:محمدعوامه،دار القبلة للثقافة الإسلامية ـ جده،الطبعة الأولى1413هـ .
[22] تقريب التهذيب:ص:401،رقم:4735،ت:محمدعوامه،دار الرشيد ـ حلب،الطبعة الثالثة1411هـ .
[23] اللآلئ المصنوعة:2/۳۳۷،ت:ابو عبد الرحمن صلاح بن محمد،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۱۷هـ .