اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’جس نےجنازے کو چاروں جانب سے اٹھایا ( کندھا دیا)تو اللہ تعالیٰ اس کے چالیس کبیرہ گناہ مٹادیں گے‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ چہارم)ابو الخطاب معروف بن عبد اللہ خیاط دمشقی کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ ابن حبان l نےمعروف کو ’’ثقات‘‘ میں ذکر کیا ہے۔[53]
امام ابو حاتم l ’’الجرح التعديل‘‘[54] میں فرماتے ہیں: ’’ليس بالقوي‘‘.
حافظ ابن عدی l ’’الكامل‘‘[55] میں معروف خیاط کے ترجمہ میں زیر بحث روایت اور اس کے علاوہ چند دیگر احادیث ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں: ’’وهذه الأحاديث لمعروف عن واثلة منكرة جدا ... ومعروف الخياط هذا عامة ما يرويه وما ذكرته أحاديث، لا يتابع عليه‘‘.
اور معروف کی حضرت واثلہr سے یہ احادیث انتہائی منکر ہیں۔۔۔اور یہ معروف خیاط جو اکثر روایات نقل کرتا ہےاوراس کی جو احادیث میں نے ذکر کی ہیں ان میں اس کی متابعت نہیں کی جاتی۔
حافظ ابن قیسرانی l ’’ذخيرة الحفاظ‘‘[56] میں لکھتے ہیں: ’’معروف منكر الحديث‘‘.معروف منکر الحدیث ہے۔
حافظ مغلطائیl ’’إكمال‘‘[57] میں لکھتے ہیں: ’’معروف الخياط صدوق‘‘. معروف خیاط صدوق ہے۔
حافظ ذہبی l ’’تاريخ الإسلام‘‘[58] میں فرماتے ہیں: ’’أحد الضعفاء‘‘.
حافظ ابن حجر عسقلانی l ’’تقريب التهذيب‘‘[59] میں لکھتے ہیں: ’’ضعيف‘‘.
حافظ سیوطیl ’’الجامع الكبير‘‘[60] میں فرماتے ہیں: ’’ومعروف ليس بالقوي‘‘.
نیز حافظ سیوطی l معروف کی ایک دوسری روایت کے تحت لکھتے ہیں: ’’منكر الحديث جدا‘‘.معروف انتہائی منکر الحدیث ہے۔[61]
حوالہ جات
[53] الثقات:5/439،دائرة المعارف العثمانية ـ حيدر آباد الدكن،الطبعة الأولى1393هـ .
[54] الجرح التعديل:8/۳۲۲،رقم:۱۴۷۴،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۱هـ .
[55] الكامل:8 /۳۵،رقم:۱۸۰۷،ت:عادل أحمد،علي محمد معوض،دارالكتب العلميةـ بيروت .
[56] ذخيرة الحفاظ:3/۱۳۹۴،رقم:۳۰۴۱،ت:عبد الرحمن الفريوائي،دارالسلف ـ الرياض،الطبعة الأولى 1416هـ .
[57] إكمال تهذيب الكمال:11/289،رقم:4663،ت:أبوعبدالرحمن عادل بن محمد،الفاروق الحديثة ـ القاهرة، الطبعة الأولى۱۴22هـ .
[58] تاريخ الإسلام:4/747،رقم:284،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۴هـ .
[59] تقريب التهذيب:ص:540،رقم:6794،ت:محمدعوامه،دار الرشيد ـ حلب،الطبعة الثالثة1411هـ .
[60] الجامع الكبير:9/146،دار السعادة،الطبعة1426هـ .
[61] الجامع الكبير:5/۷۰۱،دار السعادة،الطبعة1426هـ .