اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’جس نےجنازے کو چاروں جانب سے اٹھایا ( کندھا دیا)تو اللہ تعالیٰ اس کے چالیس کبیرہ گناہ مٹادیں گے‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ چہارم)سند میں موجود راوی ابراہیم بن عبد اللہ کوفی اور عبد اللہ بن قیس کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ ابن جوزی l کا کلام ماقبل میں روایت پر کلام کے تحت گزر چکا ہے، ان کے علاوہ دیگر ائمہ کا کلام ملاحظہ ہو:
حافظ ابن جوزی l ’’الضعفاء والمتروكين‘‘[68] میں حافظ ازدی l کا قول نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’مجهولان كذابان، لا يكتب حديثهما‘‘. دونوں مجہول، جھوٹے ہیں، ان کی حدیث نہ لکھی جائے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی l نے ’’لسان الميزان‘‘[69] میں حافظ ازدی l کے قول کونقل کرنے پر اکتفاء کیا ہے۔
حافظ ذہبی l ’’المغني‘‘[70] میں لکھتے ہیں : ’’إبراهيم بن عبد الله الكوفي عن عبد الله بن قيس مجهولان‘‘. ابراہیم بن عبد اللہ کوفی عبد اللہ بن قیس سے روایت کرتا ہے،دونوں مجہول ہیں۔
نیز حافظ ذہبی l ’’ميزان الاعتدال‘‘[71] میں عبد اللہ بن قیس کے بارے میں حافظ ازدی l کا قول نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’ كذاب‘‘. جھوٹا ہے۔
حوالہ جات
[68] الضعفاءوالمتروكين:1/۴۰،رقم:۸۳،ت:أبو الفداء عبد الله القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰۶هـ .
[69] لسان الميزان:1/۳۰۲،رقم:۱۷۶،۱۷۷،ت:عبد الفتاح أبو غده،دارالبشارالإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۳هـ .
[70] المغني في الضعفاء:۱/52،رقم:106،ت:نور الدين عتر،إدارة إحياءا لتراث الإسلامي ـ قطر.
[71] ميزان الاعتدال:2/473،رقم:۴۵۱۴،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت.