التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابو عبد اللہ سوار بن مصعب ہمدانی کوفی

ایک روایت میں تذکرہ

ابو عبد اللہ سوار بن مصعب ہمدانی کوفی کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی ابو عبد اللہ سوار بن مصعب ہمدانی کوفی کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

امام بخاریl ’’التاريخ الكبير‘‘[33] میں فرماتے ہیں: ’’منكر الحديث‘‘.

امام ابو داود l فرماتے ہیں: ’’غيرثقة‘‘[34].

حافظ بزارl فرماتے ہیں: ’’لين الحديث‘‘[35].

امام نسائی l ’’الضعفاء والمتروكين‘‘[36] میں فرماتے ہیں: ’’متروك الحديث‘‘.اور دوسری جگہ لکھتے ہیں:’’ ليس بثقة، ولايكتب حديثه‘‘[37]. ثقہ نہیں ہے، اور اس کی حدیث کو نہیں لکھا جائے گا۔

حافظ ابن حبان l ’’المجروحين‘‘[38] میں فرماتے ہیں: ’’ كان ممن يأتي بالمناكير عن المشاهير حتى يسبق إلى القلب أنه كان المتعمد لها‘‘. یہ مشہور لوگوں سے مناکیر لاتا ہے، یہاں تک کہ دل میں یہ بات آگئی کہ یہ جان بوجھ کر یہ نقل کرتا ہے۔

حافظ ابو حاتم l ’’الجرح والتعديل‘‘[39] میں فرماتے ہیں: ’’متروك الحديث، لا يكتب حديثه، ذاهب الحديث‘‘.

امام احمد بن حنبل l فرماتے ہیں: ’’متروك الحديث‘‘[40].

حافظ یحییٰ بن معین l فرماتے ہیں: ’’ضعيف، ليس بشيء‘‘ [41].

حافظ عقیلی l ’’الضعفاء الكبير‘‘[42] میں سوار بن مصعب کی بعض روایات ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ’’ولا يتابع عليه، ولا على كثير من حديثه‘‘.اس کی متابعت ان روایات میں بھی نہیں کی گئی، اور نہ ہی اس کی بہت سی روایات کی متابعت کی جاتی ہے۔

حافظ ابن عدی l ’’الكامل في الضعفاء‘‘ [43] میں لکھتے ہیں: ’’وعامة ما يرويه ليس محفوظ، وهو ضعيف كما ذكروه‘‘.اور اکثر جو یہ روایت کرتا ہے محفوظ نہیں ہے، اور یہ ضعیف ہے، جیسے کہ محدثین نے ذکر کیا ہے۔

امام حاکم l فرماتے ہیں: ’’روى عن الأعمش و ابن أبي خالد المناكير، وعن عطية الموضوعات‘‘ [44].اعمش اور ابن ابی خالد سے مناکیر نقل کرتا ہے، اور عطیہ کے انتساب سے موضوع روایات نقل کرتا ہے۔

حافظ ابن قیسرانی l ’’تذكرة الحفاظ‘‘[45] میں فرماتے ہیں: ’’يروي المناكير عن المشاهير‘‘.مشہور لوگوں سے مناکیر روایت کرتا ہے۔

حوالہ جات

[33] التاريخ الكبير:4/۱۶۹،رقم:۲۳۵۹،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[34]  سؤالات أبي عبيد الآجري:2/۲۹۸،رقم:۱۹۰۸،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،مؤسسة الريان ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۱۸هـ .

[35] لسان الميزان:4/۲۱۷،رقم:۳۷۳۶،ت:عبد الفتاح أبو غده،دار البشار الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۳هـ .

[36] الضعفاءوالمتروكين:ص:۱۲۴،رقم:۲۷۳،ت:بوران الضناوي،كمال يوسف الحوت،مؤسسة الكتب الثقافية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۵هـ .

[37] لسان الميزان:4/۲۱۷،رقم:۳۷۳۶،ت:عبد الفتاح أبو غده،دار البشار الإسلامية ـ بيروت،ا لطبعة الأولى ۱۴۲۳هـ .

[38] المجروحين:1/۳۵۶،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت .

[39] الجرح التعديل:4/۲۷۲،رقم:۱۱۷۵،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۱هـ .

[40] الجرح التعديل:4/272،رقم:۱۱۷۵،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۱هـ .

[41] الجرح التعديل:4/272،رقم:۱۱۷۵،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۱هـ .

[42] الضعفاء الكبير:2/۱۶۹،رقم:۶۸۳،ت:عبد المعطي أمين قلعجي،دارالكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۴هـ .

[43] الكامل:4/۵۳۵،رقم:۸۷۱،ت:عادل أحمد،علي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[44] لسان الميزان:4/۲۱۷،رقم:۳۷۳۶،ت:عبد الفتاح أبو غده،دار البشار الإسلامية ـ بيروت،ا لطبعة الأولى ۱۴۲۳هـ .

[45] تذكرةالحفاظ:ص:۳۵۱،ت:حمدي بن عبد المجيد،دار الصميعي ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۱۵هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ