التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابو نصر فتح بن نصر فارسی کنانی مصری

ایک روایت میں تذکرہ

ابو نصر فتح بن نصر فارسی کنانی مصری کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی ابو نصر فتح بن نصر فارسی کنانی مصری کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

حافظ ابو حاتم l فرماتے ہیں: ’’كتبنا فوائده لأن نسمع منه، فتكلموا فيه، وضعفوه، فلم نسمع منه‘‘[85]. ہم اس سے سننے کےلئے اس کے فوائد لکھا کرتے تھے، پھر محدثین نے اس پر کلام کیا، اور ضعیف قرار دیا، تو ہم نے اس سے نہیں سنا۔

امام سمعانی l نے ’’الأنساب‘‘[86] میں حافظ ابو حاتم l کے کلام پر اعتماد کیا ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی l ’’لسان‘‘[87] میں فتح بن نصر کے ترجمہ میں فرماتے ہیں: ’’وقال الدارقطني: الفتح بن نصر بن عبد الرحمن الفارسي ضعيف، متروك، وأورد له هذا الباطل عن حسان بن غالب، عن مالك، عن ابن شهاب، عن سعيد، عن أبي هريرة رضي الله عنه رفعه: من سرح رأسه ولحيته بالمشط في كل ليلة عوفي من أنواع البلاء، وزيد في عمره، وقال: إنه موضوع، وقد تقدم في ترجمة حسان بن غالب، وأن الدارقطني ضعفه‘‘. اور دارقطنی l فرماتے ہیں: فتح بن نصر بن عبد الرحمن فارسی ضعیف، متروک ہے، اور دارقطنی l یہ باطل حدیث حسان بن غالب، عن مالک، عن ابن شہاب، عن سعید، عن ابی ہریرہ r کے طریق سے مرفوعاً لائے ہیں: جس نے کسی رات اپنے سر اور داڑھی میں کنگھی کی، تو کئی اقسام کی بلاؤں سے عافیت پائے گا، اور اس کی عمر میں اضافہ ہوگا، اور دارقطنی l نے کہا: یہ من گھڑت ہے، اور یہ حدیث حسان بن غالب کے ترجمہ میں گزر چکی ہے، اور یہ کہ دارقطنی l نے حسان کو ضعیف قرار دیا ہے۔

حوالہ جات

[85] الجرح والتعدیل:۷/۹۱،رقم:۵۱۸ ،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .

[86] الأنساب:11/154،دائرة المعارف العثمانية ـ حيدر آباد الدكن،الطبعة الأولى1397هـ .

[87] لسان المیزان:6/317،رقم:6015،ت:عبد الفتاح أبو غدة،دار البشائر الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1423هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ