اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’رسول اللہﷺ نے فرمایا: جبریلe نے مجھ سے عرض کیا کہ یقیناً آپ کے بعد عمرr کی موت پر اسلام روئے گا‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (بارہواں حصہ)سند میں موجود راوی ابو نصر فتح بن نصر فارسی کنانی مصری کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ ابو حاتم l فرماتے ہیں: ’’كتبنا فوائده لأن نسمع منه، فتكلموا فيه، وضعفوه، فلم نسمع منه‘‘[85]. ہم اس سے سننے کےلئے اس کے فوائد لکھا کرتے تھے، پھر محدثین نے اس پر کلام کیا، اور ضعیف قرار دیا، تو ہم نے اس سے نہیں سنا۔
امام سمعانی l نے ’’الأنساب‘‘[86] میں حافظ ابو حاتم l کے کلام پر اعتماد کیا ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی l ’’لسان‘‘[87] میں فتح بن نصر کے ترجمہ میں فرماتے ہیں: ’’وقال الدارقطني: الفتح بن نصر بن عبد الرحمن الفارسي ضعيف، متروك، وأورد له هذا الباطل عن حسان بن غالب، عن مالك، عن ابن شهاب، عن سعيد، عن أبي هريرة رضي الله عنه رفعه: من سرح رأسه ولحيته بالمشط في كل ليلة عوفي من أنواع البلاء، وزيد في عمره، وقال: إنه موضوع، وقد تقدم في ترجمة حسان بن غالب، وأن الدارقطني ضعفه‘‘. اور دارقطنی l فرماتے ہیں: فتح بن نصر بن عبد الرحمن فارسی ضعیف، متروک ہے، اور دارقطنی l یہ باطل حدیث حسان بن غالب، عن مالک، عن ابن شہاب، عن سعید، عن ابی ہریرہ r کے طریق سے مرفوعاً لائے ہیں: جس نے کسی رات اپنے سر اور داڑھی میں کنگھی کی، تو کئی اقسام کی بلاؤں سے عافیت پائے گا، اور اس کی عمر میں اضافہ ہوگا، اور دارقطنی l نے کہا: یہ من گھڑت ہے، اور یہ حدیث حسان بن غالب کے ترجمہ میں گزر چکی ہے، اور یہ کہ دارقطنی l نے حسان کو ضعیف قرار دیا ہے۔