التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابو محمد حبیب بن ابی حبیب کاتبِ مالک حنفی مصری

المتوفی ۲۱۸ھایک روایت میں تذکرہ

ابو محمد حبیب بن ابی حبیب کاتبِ مالک حنفی مصری کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی ابو محمد حبیب بن ابی حبیب کاتبِ مالک حنفی مصری (المتوفی ۲۱۸ھ) کے بارے میں ائمہ کا کلام

حافظ عباس دوری l ’’تاريخ‘‘[13] میں فرماتے ہیں: ’’قال يحيى: كان حبيب الذي بمصر، الذي يقال له: عرض حبيب، قال: كان يقرأ على مالك بن أنس، وكان يخطرف للناس، يصفح ورقتين وثلاثة، سمعت يحيى يقول: سألوني بمصر عنه؟ فقلت: ليس أمره بشيء، قال يحيى: وكان ابن بكير سمع من مالك بعرض حبيب، وهو أشر العرض‘‘. یحیی l نے فرمایا کہ وہ حبیب جو مصر کا ہے، جس کے بارے میں ’’عرض حبیب‘‘ کہا جاتا ہے، پھر فرمایا وہ مالک بن انس پر قراءت کرتا تھا، لوگوں کےلئے پڑھنے میں جلدی کرتا تھا، دو دو اور تین تین صفحات پلٹ دیتا تھا، میں نے یحیی l سے سنا: لوگوں نے مجھ سے مصر میں اس کے بارے میں پوچھا تو میں نے کہا: ’’لیس امرہ بشیء‘‘، یحیی l فرماتے ہیں: ابن بکیر نے مالک l سے ’’عرض حبیب‘‘ سنا ہے، اور وہ سب سے بری ’’عرض‘‘ہے۔

حافظ یحیی بن معینl ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: ’’حبيب كاتب مالك بن أنس كذاب‘‘[14]. حبیب کاتبِ مالک بن انس کذاب ہے۔

حافظ ابن جنیدl ’’سؤالات‘‘[15] میں فرماتے ہیں: ’’سمعت يحيى بن معين يقول: إذا جزت باب الأنبار إلى أقصى قرية بأفريقية، فأحسن حالاتهم العرض، ثم ذكر حبيبا صاحب مالك، فقال: كذاب خبيث، رجل سوء، يخرطف [ كذا في الأصل]، يضع الحديث، يقرأ على مالك فيخرطف [ كذا في الأصل] الأحاديث العشر ورقات وأكثر وأقل‘‘.میں نے یحیی بن معین l کو کہتے ہوئے سنا: جب میں ’’باب انبار‘‘ سے گزر کر افریقہ کی دور کی بستی میں پہنچا، تو آپ نے عرض میں ان کی اچھی حالت کو بیان کیا، پھر آپ نے حبیب صاحبِ مالک کا ذکر کرتے ہوئے کہا: جھوٹا ہے ، خبیث ہے، برا آدمی ہے، جلدی جلدی پڑھتا تھا، حدیث گھڑتا تھا، مالک پر قراءت کرتا تھا، اور احادیث میں جلدی کرتا تھا، دس اوراق اس سے زیادہ اور اس سے کم۔

حافظ یحیی بن معینl ایک مقام پر فرماتے ہیں:’’أشر السماع من مالك عرض حبيب، كان يقرأ على مالك، فإذا انتهى إلى آخر القراءة صفح أوراقا وكتب: بلغ، وعامة سماع المصريين عرض حبيب‘‘[16]. ’’عرض حبیب‘‘ مالک l کی سماعت میں سب سے بری ہے، یہ مالک l پر قراءت کرتا تھا، سو جب یہ قراءت کے ختم تک پہنچتا تو کئی اوراق پلٹ کر لکھتا: ’’بلغ‘‘ (یعنی یہاں تک پہنچ گیا)، اور مصر والوں کی عام طور پر سماعت ’’عرض حبیب‘‘ہے۔

حافظ ابن برقیl فرماتے ہیں: ’’كان حبيب يضع الأحاديث‘‘[17]. حبیب احادیث گھڑتا تھا۔

علامہ ابو بکر محمد بن سہل بن عسکرl فرماتے ہیں: ’’كتبنا عن حبيب كاتب مالك عشرين حديثا، فأتينا ابن المديني، فعرضنا عليه، فقال: هذا كله كذب‘‘[18]. ہم نے حبیب کاتبِ مالک سے بیس احادیث لکھیں، پھر ہم نے ابن مدینی l کی خدمت میں حاضر ہوکر ان کو پیش کیا، انہوں نے فرمایا: یہ سب جھوٹی ہیں۔

حافظ عبد اللہ بن احمد بن حنبلl فرماتے ہیں: ’’سمعت أبي، وذكر حبيبا الذي كان يقرأ لهم على مالك بن أنس، فقال: ليس بثقة، قدم علينا رجل، أحسبه قال: من خراسان، كتب عن حبيب كتابا عن ابن أخي ابن شهاب، عن عمه، عن سالم والقاسم، فإذا هي أحاديث ابن لهيعة، عن خالد بن أبي عمران، عن القاسم وسالم، فقال أبي: أحالها على ابن أخي ابن شهاب، عن عمه، قال أبي: وكان حبيب يحيل الحديث، ولم يكن أبي يوثقه، ولايرضاه، وقال: كان حبيب يحيل الحديث، ويكذب، وأثنى عليه شرا وسوءا‘‘[19]. میں نے اپنے والد سے سنا اس حال میں کہ وہ حبیب کا ذکر کررہے تھے، وہ شخص جو مالک بن انس پر لوگوں کے لئے قراءت کرتا تھا، احمد بن حنبل l نے فرمایا: یہ لیس بثقہ ہے، ہمارے پاس ایک شخص آیا میرا خیال ہے کہ آپ نے کہا تھا کہ وہ خراسان کا تھا، اس نے حبیب سے ابن اخی ابن شہاب، عن عمہ، عن سالم والقاسم کے طریق سے ایک کتاب لکھی تھی، تو دیکھا کہ وہ احادیث ابن لہیعۃ، عن خالد بن ابی عمران، عن القاسم وسالم کے طریق سے تھیں، تو میرے والد نے فرمایا: اس نے ابن اخی ابن شہاب، عن عمہ پر اس کو احالہ کیا ہے، میرے والد نے فرمایا: حبیب حدیث کا احالہ کرتا تھا، اور میرے والد نے اس کی توثیق نہیں کی اور میرے والد اس سے راضی نہیں تھے، اور میرے والد نے کہا: حبیب حدیث کا احالہ کرتا تھا اور جھوٹ بولتا تھا، اور میرے والد اس کے شر وبد حالی کو بیان کیا۔

امام ابو داؤدl فرماتے ہیں: ’’حبيب كاتب مالك من أكذب الناس‘‘[20]. حبیب کاتبِ مالک لوگوں میں سب سے بڑا جھوٹا ہے۔

حافظ ابو حاتم l فرماتے ہیں: ’’متروك الحديث، روى عن ابن أخي الزهري أحاديث موضوعة‘‘[21]. یہ متروک الحدیث ہے، زہری کے بھتیجے کے انتساب سے من گھڑت احادیث بیان کرتا تھا۔

امام نسائیl نے حبیب کاتبِ مالک کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے[22]۔

حافظ ابو یحیی زکریا بن یحیی ساجیl فرماتے ہیں: ’’ كذاب، يضع الحديث، كان إذا قرأ على مالك للغرباء صفح ورقتين وأقل وأكثر، لا يقرأ على مالك يغالطه، فيترك بعض حديثه، فيحمل ذلك عنه‘‘[23]. جھوٹا ہے، حدیث گھڑتا ہے، جب وہ مسافروں کے لئے مالک l پر قراءت کرتا تھا تو ایک دو، کچھ کم زیادہ صفحات پلٹ دیتا تھا، مالک l کو مغالطہ میں ڈال کر ان پر قراءت نہیں کرتا تھا، سو وہ ان کی بعض احادیث چھوڑ دیتا، پھر مالک l سے یہی تحمل کر لیا جاتا تھا۔

حافظ ابو محمد ابن جارود نیشاپوری l نے اسے ’’ليس بشيء‘‘ کہا ہے[24]۔

علامہ مالک بن عیسی بن نصر قَفْصِی l فرماتے ہیں: ’’ كاتب مالك ضعيف جدا‘‘[25]. مالک l کا کاتب ’’ضعیف جداً‘‘ہے۔

علامہ عوام بن اسماعیل واسطی l فرماتے ہیں: ’’جاء حبيب كاتب مالك بن أنس يقرأ على سفيان بن عيينة، قال: حدثكم المسعودي، عن جِرَاب التميمي، فقال له سفيان: ليس هو جِرَاب، هو جَوَّاب، وقرأ عليه: حدثكم أيوب، عن ابن شيرين، فقال له سفيان: ليس هو ابن شيرين، هو ابن سيرين‘‘[26]. حبیب کاتبِ مالک آیا اور سفیان بن عیینہ پر حدیث کی قراءت کرنے لگا، اور کہا: ’’آپ کو مسعودی نے جِرَاب تمیمی سے حدیث بیان کی‘‘، تو سفیان l نے اس کو کہا: وہ ’’جِرَاب‘‘ نہیں، وہ تو ’’جَوَّاب‘‘ہے، پھر وہ قراءت کرنے لگا ’’آپ کو ایوب نے حدیث بیان کی ابن شیرین سے‘‘، تو سفیان l نے اس سے کہا: وہ ’’ابن شیرین‘‘نہیں، وہ تو ’’ابن سیرین‘‘ہے۔

حافظ ابن حبانl ’’المجروحین‘‘[27]میں فرماتے ہیں: ’’يروي عن مالك وربيعة، كان يورق بالمدينة على الشيوخ، ويروي عن الثقات الموضوعات، كان يدخل عليهم ما ليس من أحاديثهم، فكل من سمعه بعرضه، فسماعه ليس بشيء، فإنه كان إذا قرأ أخذ الجزء بيده، ولم يعطهم النسخ، ثم يقرأ البعض ويترك البعض ويقول: قد قرأت كله، ثم يعطيهم فينسخونها، فسماع ابن بكير وقتيبة عن مالك كان بعرض حبيب، سمعت محمد بن عبد الله الجنيد يقول: سمعت قتيبة بن سعيد يقول: سمعت هذه الأحاديث من مالك وحبيب يقرأ، فلما فرغ، قلت: يا أبا عبد الله! هذه أحاديثك تعرفها أوريها عنك؟ فقال: نعم، وربما قال له: غيري‘‘.

یہ مالک اور ربیعہ سے روایت کرتا ہے، یہ مدینہ میں شیوخ کا کاتب تھا، اور ثقات کے انتساب سے من گھڑت احادیث روایت کرتا تھا، جو چیز ان کی احادیث میں سے نہیں ہوتی تھی وہ اس میں داخل کردیتا تھا، چنانچہ جن لوگوں نے اس کے ’’عرض‘‘ کے ساتھ اس سے سماعت کی ہے تو ان کی سماعت لیس بشیء ہے، کیونکہ جب وہ قراءت کرتا تو جزء اپنے ہاتھ میں رکھتا تھا، اور سامعین کو نسخے نہیں دیتا تھا، پھر بعض حصہ پڑھتا اور بعض چھوڑ دیتا اور کہتا کہ میں نے سب پڑھ لیا ہے، پھر سامعین کو وہ نسخہ دے دیتا تھا، وہ اس سے نقل کرلیتے تھے، ابن بکیر اور قتیبہ کا مالک سے سماع حبیب کے ’’عرض‘‘کے ذریعہ سے ہے، (حافظ ابن حبانl فرماتے ہیں) میں نے محمد بن عبد اللہ جنید سے سنا، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے قتیبہ بن سعید کو کہتے ہوئے سنا، وہ کہتے ہیں: میں نے مالک l سے یہ احادیث سنیں اس حال میں کہ حبیب قراءت کررہا تھا، جب وہ فارغ ہوا تو میں نے عرض کیا: اے ابو عبد اللہ! (یعنی مالک l) یہ آپ کی احادیث ہیں، آپ ان کو پہچانتے ہیں، میں ان کو آپ سے روایت کردوں؟ تو انہوں نے فرمایا: جی ہاں اور بسا اوقات ان سے فرماتے:یہ میرے علاوہ سے ہیں۔

حافظ ابن عدیl ’’الكامل‘‘[28] میں حبیب بن ابی حبیب کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’كاتب مالك بن أنس يضع الحديث‘‘. یہ مالک بن انس کا کاتب تھا، حدیث گھڑتا تھا۔

نیز حافظ ابن عدیl ’’الكامل‘‘[29] میں مزید فرماتے ہیں: ’’وعامة حديث حبيب موضوع المتن مقلوب الإسناد، ولا يحتشم حبيب في وضع الحديث على الثقات، وأمره بين في الكذابين، وإنما ذكرت طرفا منه ليستدل به على ما سواه‘‘. حبیب کی احادیث عام طور پر متن کے اعتبار سے من  گھڑت اور سند کے اعتبار سے مقلوب ہوتی ہیں، حبیب ثقات پر حدیث کے گھڑنے میں عار محسوس نہیں کرتا، اس کا معاملہ جھوٹوں میں بالکل واضح ہے، میں نے اس کی احادیث کا کچھ حصہ اس لئے بیان کیا ہے تاکہ اس کے ذریعہ سے ان کے علاوہ پر استدلال کیا جاسکے۔

حافظ ابو الفتح ازدیl نے اسے ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے[30]۔

حافظ ابو احمد حاکمl نے اسے ’’ذاهب الحديث‘‘ کہا ہے[31]۔

حافظ ابو احمد حاکمl ایک مقام پر فرماتے ہیں: ’’روى أحاديث شبيهة بالموضوعة عن مالك، وابن أبي ذئب، وهشام بن سعد‘‘[32]. یہ مالک، ابن ابی ذئب اور ہشام بن سعد کے انتساب سے ایسی احادیث بیان کرتا ہے جو من گھڑت احادیث کے مشابہ ہوتی ہیں۔

حافظ دارقطنیl نے ’’الضعفاء‘‘[33] میں حبیب کاتبِ مالک l کو ’’متروك‘‘ کہا ہے۔

امام حاکمl ’’تاريخ نيسابور‘‘[34] میںفرماتے ہیں: ’’ذهب حديث حبيب في الذاهبين‘‘.حبیب کی حدیث جانے والوں میں چلی گئی۔

حافظ ابن عبد البر l ’’الاستذكار‘‘[35] میں فرماتے ہیں: ’’ولكن حبيبا متروك، لا يشتغل بحديثه، ويقولون: إنه كذاب فيما يحدث به‘‘.لیکن حبیب متروک ہے، اس کی حدیث میں مشغول نہیں ہوا جائے گا، اور محدثین فرماتے ہیں: یہ اپنی احادیث میں جھوٹ بولتا تھا۔

حافظ ابن قیسرانی l نے ’’ذخيرة الحفاظ‘‘[36] میں ایک روایت کے تحت اسے ’’كذاب‘‘ کہا ہے۔

حافظ ہیثمی l نے ’’مجمع الزوائد‘‘[37] میں ایک روایت کے تحت اسے  ’’متروك‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی l ’’التقريب‘‘[38] میں فرماتے ہیں: ’’متروك، كذبه أبو داود وجماعة‘‘. متروک ہے، ابو داؤد l اور ایک جماعت نے اسے جھوٹا کہا ہے۔

علامہ ابن عراق l ’’تنزيه الشريعة‘‘[39] میں حبیب بن ابی حبیب کاتبِ مالک کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے فرماتے ہیں: ’’قال ابن عدي: أحاديثه موضوعة‘‘. ابن عدی l فرماتے ہیں کہ اس کی احادیث من گھڑت ہیں۔

حوالہ جات

[13] تاريخ يحيى بن معين برواية الدوري:2/352،رقم:5282،ت:عبد الله أحمد حسن،دار القلم ـ بيروت .

[14] انظر الضعفاء الكبير:1/۲65رقم:۳۲۵،ت:عبد المعطی أمین قلعجی،دار الکتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰۴هـ .

[15] سؤالات ابن الجنيد:ص:489،رقم:888 ،ت:أحمد محمد نور سيف،مكتبة الدار ـ بالمدينة المنورة، الطبعة الأولى1408هـ .

[16] الكامل في ضعفاء الرجال:۳/۳۲۴،رقم:۵۳۱،ت:عادل أحمد عبد الموجود و علي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[17] انظر إكمال تهذيب الكمال:۳/۳۶۳،رقم:1152،ت:أبو عبد الرحمن عادل بن محمد،الفاروق الحديثة ـ القاهرة، الطبعة الأولى۱۴22هـ .

[18] انظر تاريخ الإسلام:15/104،رقم:75،ت:عمر عبد السلام تدمري،دار الكتاب العربي ـ بيروت،الطبعة الأولى 1411هـ .

[19] العلل ومعرفة الرجال:۲/52،رقم:1528،ت:وصي الله بن محمد عباس،دار الخاني ـ الرياض،الطبعة الثانية 1422هـ .

[20] انظر الضعفاء الكبير:1/۲65رقم:۳۲۵،ت:عبد المعطی أمین قلعجی،دار الکتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰۴هـ .

[21] الجرح والتعدیل:3/100،رقم:۴۶۶،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .

[22] الضعفاء والمتروکین:ص:۱71،رقم:161،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰۶هـ .

[23] انظر إكمال تهذيب الكمال:۳/۳۶۳،رقم:1152،ت:أبو عبد الرحمن عادل بن محمد،الفاروق الحديثة ـ القاهرة، الطبعة الأولى ۱۴22هـ .

[24] انظر إكمال تهذيب الكمال:۳/۳۶۴،رقم:1152،ت:أبو عبد الرحمن عادل بن محمد،الفاروق الحديثة ـ القاهرة، الطبعة الأولى۱۴22هـ .

[25] انظر إكمال تهذيب الكمال:۳/۳۶۳،رقم:1152،ت:أبو عبد الرحمن عادل بن محمد،الفاروق الحديثة ـ القاهرة، الطبعة الأولى ۱۴22هـ .

[26] انظر الضعفاء الكبير:1/۲65رقم:۳25،ت:عبد المعطی أمین قلعجی،دار الکتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰۴هـ .

[27] المجروحين:۱/۲65،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .

[28] الكامل في ضعفاء الرجال:۳/۳۲۴،رقم:۵۳۱،ت:عادل أحمد عبد الموجود و علي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت.

[29] الكامل في ضعفاء الرجال:۳/۳۲۹،رقم:۵۳۱،ت:عادل أحمد عبد الموجود و علي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت.

[30] انظر الضعفاء والمتروكين لابن الجوزي:1/189رقم:752 ،ت:أبو الفداء عبد الله القاضي،دار الکتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰6هـ .

[31] انظر إكمال تهذيب الكمال:۳/۳۶۳،رقم:1152،ت:أبو عبد الرحمن عادل بن محمد،الفاروق الحديثة ـ القاهرة، الطبعة الأولى۱۴22هـ .

[32] انظر تاريخ الإسلام:15/104،رقم:75،ت:عمر عبد السلام تدمري،دار الكتاب العربي ـ بيروت،الطبعة الأولى1411هـ .

[33] الضعفاء والمتروکون:1/185،رقم:171،ت:موفق بن عبد الله بن عبد القادر،مكتبة المعارف ـ الرياض، الطبعة الأولى ۱۴۰۴هـ .

[34] انظر إكمال تهذيب الكمال:۳/۳۶۳،رقم:1152،ت:أبو عبد الرحمن عادل بن محمد،الفاروق الحديثة ـ القاهرة، الطبعة الأولى۱۴22هـ .

[35] الاستذكار:6/264،ت:سالم محمد عطا ومحمد علي معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1423هـ .

[36] ذخيرةالحفاظ:1/475،رقم:680،ت:عبد الرحمن بن عبد الجبار الفريوائي،دار السلف ـ الرياض،الطبعة الأولى ۱۴۱6هـ .

[37] مجمع الزوائد ومنبع الفوائد:9/52،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربى ـ بيروت .

[38] تقريب التهذيب:ص:150،رقم:10۸۷،ت:محمد عوامة،دار الرشيد ـ سوريا،الطبعة الثالثة۱۴۱۱هـ .

[39] تنزيه الشريعة:1/47،رقم:11،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الثانية1401هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ