اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’رسول اللہﷺ نے فرمایا: جبریلe نے مجھ سے عرض کیا کہ یقیناً آپ کے بعد عمرr کی موت پر اسلام روئے گا‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (بارہواں حصہ)سند میں موجود راوی ابو القاسم حسان بن غالب بن نجیح رُعَیْنی مصری (المتوفی ۲۲۳ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ ابن یونس l ، حسان بن غالب کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’كان ثقة‘‘[72]. یہ ثقہ تھا۔
حافظ ابن حبان l ’’المجروحين‘‘[73] میں فرماتے ہیں: ’’يقلب الأخبار على [الثقات]، ويروي عن الأثبات الملزقات، لا يحل الاحتجاج به بحال، ولا الرواية عنه إلا على سبيل الاعتبار‘‘. ثقہ راویوں پر اخبار میں قلب کرتا ہے، ثبت راویوں کے انتساب سے ملزق احادیث روایت کرتا ہے، اس سے احتجاج کرنا کسی بھی حال میں حلال نہیں ہے، اور نہ ہی اس سے روایت کرنا حلال ہے، سوائے اعتبار کے۔
حافظ ابو الفتح ازدی l نے حسان بن غالب کو ’’منكر الحديث‘‘ کہا ہے[74]۔
حافظ دار قطنی l نے اسے ’’ضعيف، متروك ‘‘ کہا ہے[75]۔
امام حاکم l ’’ المدخل‘‘[76]میں فرماتے ہیں: ’’روى عن مالك بن أنس أحاديث موضوعة ‘‘. مالک بن انس l کے انتساب سے من گھڑت احادیث روایت کرتا ہے۔
حافظ ابو نعیم l ’’المسند المستخرج‘‘[77] میں فرماتے ہیں: ’’روى عن مالك بن أنس بالمناكير‘‘. یہ مالک بن انس l کے انتساب سے مناکیر روایت کرتا ہے۔
حافظ ابن جوزی l ’’المنتظم‘‘[78] میں فرماتے ہیں: ’’وكان ثقة‘‘. اور یہ ثقہ تھا۔
حافظ ابن جوزی l ’’الموضوعات‘‘[79] میں ایک دوسری روایت ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ’’هذا حديث موضوع، والبلاء فيه من حسان بن غالب المصري‘‘. یہ روایت من گھڑت ہے، اور اس میں آفت حسان بن غالب مصری کی وجہ سے ہے۔
حافظ ذہبی l نے ’’ميزان‘‘[80] میں اسے ’’متروك‘‘ کہا ہے۔
اس کے بعد حافظ ذہبی l نے حافظ ابن حبان l کا قول نقل کیا، پھر ’’ومن مصائبہ‘‘ کہہ کر اس کی احادیث نقل کرکے امام حاکم l کا قول نقل کیا ہے۔
علامہ سبط ابن عجمی l ’’ الكشف الحثيث‘‘[81] میں حافظ ذہبی l کی عبارت نقل کرکے فرماتے ہیں: ’’ففي قوله: ومن مصائبه: أنه من وضعه، ويقوي ذلك قول الحاكم، والله أعلم‘‘. ذہبی l کے قول: ’’اور اس کے مصائب میں سے ہے‘‘، میں یہ ہے کہ یہ حدیث اس کی گھڑی ہوئی ہے، اور حاکم l کے قول سے اسے تقویت ملتی ہے، واللہ اعلم۔
اسی طرح حافظ ذہبی l ہی ’’تلخيص الموضوعات‘‘[82] میں ایک دوسری حدیث کے تحت فرماتے ہیں: ’’وضعه حسان بن غالب‘‘. حسان بن غالب نے اسے گھڑا ہے۔
حافظ ہیثمی l نے ’’مجمع الزوائد‘‘[83] میں ایک روایت کے تحت اسے ’’متروك‘‘ کہا ہے۔
علامہ ابن عراق l ’’تنزيه الشريعة‘‘[84] میں حسان بن غالب کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے فرماتے ہیں: ’’قال الحاكم: له عن مالك أحاديث موضوعة، وقال ابن حبان: يقلب الأخبار، ويروي عن الأثبات الملزقات‘‘. حاکم l فرماتے ہیں کہ اس کی مالک l کے انتساب سے من گھڑت احادیث ہیں، اور ابن حبان l فرماتے ہیں: اخبار میں قلب کرتا ہے، اور ثبت راویوں کے انتساب سے ملزق احادیث روایت کرتا ہے۔
حوالہ جات
[72] انظرتاريخ الإسلام:5/553،رقم:98،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى 1424هـ .
[73] المجروحين:1/271،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .
[74] انظر لسان المیزان:3/18،رقم:2212،ت:عبد الفتاح أبو غدة،دار البشائر الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1423هـ .
[75] انظر لسان المیزان:3/18،رقم:2212،ت:عبد الفتاح أبو غدة،دار البشائر الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1423هـ .
[76] المدخل إلى الصحيح:ص:132،رقم:46،ت:ربيع بن هادي عمير المدخلي،مؤسسة الرسالة ـ بيروت، الطبعة الأولى 1404 هـ .
[77] المسند المستخرج:1/63،رقم:55،ت:محمد حسن محمد حسن إسماعيل الشافعي،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى1417هـ .
[78] المنتظم في تاريخ الملوك والأمم:11/86،رقم:1269،ت:محمد عبد القادر عطا ومصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۱۲هـ .
[79] كتاب الموضوعات:3/۵۴،ت:عبد الرحمن محمد عثمان،المكتبة السلفية ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى 138۸هـ .
[80] ميزان الاعتدال:1/479،رقم:1810،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت.
[81] الكشف الحثيث:ص:۸۹ ،رقم:۲۰۹،ت:صبحي السامرائي،مكتبة النهضة العربية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1407هـ .
[82] تلخيص كتاب الموضوعات: ص:۲۶۶،رقم:۷۰۹ ،ت:أبو تميم ياسر بن إبراهيم بن محمد،مكتبة الرشد ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴۱۹هـ .
[83] مجمع الزوائد:۵/۲۴۶،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربى ـ بيروت .
[84] تنزيه الشريعة:1/47،رقم:16،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1401هـ .