التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابو الحسن محمد بن محمد بن اشعث کوفی ثم مصری

2 روایات میں تذکرہ

ابو الحسن محمد بن محمد بن اشعث کوفی ثم مصری کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی ابو الحسن محمد بن محمد بن اشعث کوفی ثم مصری کے بارے میں ائمہ کرام کے اقوال

حافظ ابن عدی l ’’الکامل‘‘[74] میں فرماتے ہیں:’’مقيم بمصر، کتبت عنه بها، حمله شدة میله إلى التشیع أن أخرج إلینا نسخته قریبا من ألف حدیث، عن موسى بن إسماعیل بن موسى بن جعفر بن محمد، عن أبیه، عن جده إلى أن ینتهي إلى علي والنبي صلی اﷲ علیه وسلم کتاب کتاب [کذا في الأصل] یخرجه إلینا بخط طري على کاغذ جدید فیها مقاطیع، وعامتها مسندة، مناکیر کلها أو عامتها، فذکرنا روایته هذه الأحادیث عن موسى هذا لأبي عبد اﷲ الحسین بن علي بن الحسن بن علي بن عمر بن علي بن الحسین بن علي بن أبي طالب، وکان شیخا من أهل البیت بمصر، وهو أخ الناصر وکان أکبر منه، فقال لنا: موسى، هذا جاري بالمدینة أربعین سنة، ما ذکر قط أن عنده شیئا من الروایة لا عن أبیه، ولا عن غیره‘‘.

یہ مصر میں مقیم تھا، میں نے مصر میں اس سے روایتیں لکھی تھیں،تشیع کی طرف ان کے شدتِ میلان نے ان کو اس بات پر ابھارا کہ ہمارے سامنے ایک ہزار احادیث پر مشتمل ایک نسخہ نکالا، جس کی حدیثیں موسی بن اسماعیل بن موسی بن جعفر بن محمد، عن ابیہ، عن جده، الى ان ینتهی الى علیr والنبی ﷺ کی سند سے تھیں (یعنی سند میں موجود موسی نے اپنی سند سے بواسطہ حضرت علی r، حضور ﷺ سے روایات نقل کی تھیں)، محمدبن اشعث ہمارے سامنے ایک کتاب لائے، اس کتاب میں موجود نئے کاغذ پر تازہ خط سے لکھا گیا تھا، اس نسخہ کی اکثر حدیثیں مسند تھیں، جو سب کی سب یا اکثر مناکیر تھیں، ہم نے ابو عبداللہ حسین بن علی بن حسن بن علی بن عمر بن علی بن حسین بن علی بن ابی طالب سے تذکرہ کیا کہ یہ احادیث محمد بن اشعث نے موسی سے نقل کی ہیں، اور یہ’’ابو عبد اللہ‘‘ مصر میں اہل بیت کے شیخ تھے،جو ابو عبداللہ ناصر کے بھائی تھے،اور عمر میں ان سے بڑے تھے، ابو عبد اللہ حسین بن علی نے ہمیں بتایا کہ یہ موسی (یعنی جن سے محمد بن اشعث نے یہ احادیث نقل کی ہیں) چالیس برس تک مدینہ آتے رہے ہیں، اس نے تو کبھی بھی اس کا تذکرہ نہیں کیاکہ اس کے پاس ایسی کوئی روایتیں ہیں، نہ اپنے والد کی سند سے اور نہ ہی کسی اور کی سند سے۔

اس کے بعد حافظ ابن عدیl نےابن اشعث کی چند روایات تخریج کیں، پھر فرماتے ہیں: ’’وهذه النسخة کتبتها عنه، وهي قریبة من ألف حدیث، وکتبت عامتها عنه، وهذه الأحادیث وغیرها من المناکیر في هذه النسخة، وفیها أخبار مما یوافق متونها متون أهل الصدق، وکان متهما في هذه النسخة، ولم أجد له فیها أصلا، کان یخرج إلینا بخط طري وکاغذ جدید‘‘[75]. میں نےمحمد بن اشعث کا یہ نسخہ ان سے لکھ لیا تھا، اور وہ تقریباً ایک ہزار حدیثوں پر مشتمل تھا، میں نے اس نسخہ کی اکثر روایتیں محمد بن اشعث سے لکھی تھیں، اور یہ حدیثیں (جو حافظ ابن عدیl نے ماقبل میں ذکر کی ہیں) اور اس کے علاوہ مناکیر اس نسخہ میں موجود ہیں، اور اس نسخہ میں ایسے متون بھی ہیں، جواہل صدق کے متون کے موافق ہیں، اور اس نسخہ میں محمد بن اشعث متہم ہے،اوراس نسخہ کی اصل مجھے نہیں ملی، اسے ابن اشعث نئے کاغذ اور تازہ خط کے ساتھ ہمارے پاس لایا تھا۔

حافظ ابن جوزی l نے ’’الضعفاء والمتروکین‘‘[76] میں حافظ ابن عدی l کے قول پر اعتماد کیا ہے۔

حافظ ابن قیسرانی l نے ’’ذخيرة الحفاظ‘‘[77] میں ایک حدیث کے تحت محمد بن اشعث کو ’’كذاب‘‘ کہا ہے۔

حافظ حمزہ بن یوسف l فرماتے ہیں:’’وسألت أبا الحسن الدارقطني عن محمد بن محمد بن الأشعث الكوفي؟ فقال آية من آيات الله، ذلك الكتاب هو وضعه أعني: العلويات‘‘[78]. میں نے محمد بن محمد بن اشعث کوفی کے بارے میں دار قطنی l سے پوچھا تو آپ نے فرمایا: یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے، اس نے یہ کتاب ’’علویات‘‘ گھڑی ہے۔

حافظ ذہبیlنے ’’ميزان الاعتدال‘‘[79] میں حافظ ابن عدی l اور امام دار قطنی l کے قول پر اعتماد کیا ہے۔

علامہ سبط ابن عجمی l نے ’’الكشف الحثيث‘‘[80]میں’’میزان‘‘ میں موجود حافظ ذہبی l کے قول پر اکتفاء کرکے محمد بن اشعث کو متہمین میں شمار کیا ہے۔

حافظ ذہبی l ’’ديوان‘‘[81] میں فرماتے ہیں: ’’شيعي جلد، اتهمه ابن عدي‘‘. کٹر شیعہ تھا، ابن عدی l نے اسے متہم قرار دیا ہے۔

حافظ ذہبی l نے ’’تلخيص الموضوعات‘‘[82] میں ایک روایت کے تحت اسے ’’ متهم‘‘ کہا ہے۔

نیز حافظ ذہبی l ’’المهذب‘‘[83] میں ایک حدیث کے تحت فرماتے ہیں: ’’بل ذا موضوع، من صنعة ابن الأشعث، فياليتك صنت كتابك عن إيراده‘‘. بلکہ یہ من گھڑت ہے، ابن اشعث نے اسے گھڑا ہے، کاش آپ (یعنی امام بیہقی l) اپنی کتاب کو اس حدیث کے لانے سے بچا کر رکھتے۔

حافظ ابن حجر عسقلانیl ’’لسان المیزان‘‘[84] میں ’’میزان‘‘ میں موجود حافظ ذہبی l کا کلام نقل کرکے فرماتے ہیں: ’’وقد وقفت على بعض الکتاب المذکور، وسماه السنن، ورتبه على الأبواب، وکله بسند واحد، وأورد الدار قطني في غرائب مالک من روایته، عن محمد بن سعدان البزار، عن القعنبي حدیثا، وقال: کان ضعیفا‘‘. مجھے اس کتاب کے بعض حصے پر واقفیت ہوئی ہے،اور محمد بن اشعث نے اس کا نام ’’سنن‘‘ رکھا تھا، جسے اس نے ابواب پر مرتب کیا تھا، اور تمام حدیثیں ایک ہی سند سے تھیں، اور دار قطنیl نے ’’غرائب مالک‘‘ میں اس کی ایک روایت نقل کی ہے، جو اس نے محمد بن سعدان بزار، عن قعنبی کے طریق سے نقل کی تھی، اور دار قطنی l نے کہا ہے کہ ابن اشعث ضعیف ہے۔

حافظ ابن حجر l’’الغرائب الملتقطة‘‘[85] میں ایک حدیث کے تحت فرماتے ہیں: ’’ابن الأشعث كذبوه‘‘. ابن اشعث کو محدثین نے کذاب کہا ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی l نے ’’الإصابة‘‘[86] میں ابن الاشعث کو ’’أحد المتروكين المتهمين‘‘ کہا ہے۔

حافظ سیوطی l نے ’’جمع الجوامع‘‘[87] میں ایک دوسری حدیث کے تحت محمد بن محمد اشعث کو’’متهم‘‘  قرار دیا ہے۔

علامہ ابن عراق l ’’تنزيه الشريعة‘‘[88] میں محمد بن محمد بن اشعث کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے فرماتے ہیں: ’’قال الدارقطني آية من آيات الله، وضع ذلك الكتاب يعني: السنن المسندة عن آل البيت‘‘. دارقطنی l فرماتے ہیں: یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے، اس نے یہ کتاب یعنی ’’سنن مسندہ‘‘ آل بیت کے انتساب سے گھڑی ہے۔

حوالہ جات

[74]الكامل في ضعفاء الرجال:7/565،رقم:1791،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[75]الكامل في ضعفاء الرجال:7/565،رقم:1791،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[76] الضعفاء والمتروکین:3/97،رقم:3181،ت:عبد الله القاضی،دار الکتب العلمیة ـ بیروت،الطبعة الأولى ۱۴06هـ .

[77] ذخيرة الحفاظ:1/2۳۲،رقم:93،ت:عبد الرحمن بن عبد الجبار الفريوائي،دار السلف ـ الرياض،الطبعة الأولى ۱۴۱6هـ .

[78] سؤالات حمزه بن يوسف السهمي:ص:101،رقم:52،ت:موفق بن عبد الله بن عبد القادر،مكتبة المعارف ـ الرياض،الطبعة الأولى ۱۴04هـ .

[79] میزان الاعتدال:۴/۲8،رقم:۱۸۳۱،ت:علي محمد البجاوي،دارالمعرفةـ بيروت .

[80] الكشف الحثيث:ص:247،رقم:726،ت:صبحي السامرائي،مكتبة النهضة العربية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1407هـ .

[81] ديوان الضعفاء:ص:۳۷۲،رقم:۳۹۵۷،ت:حماد بن محمد الأنصاری،مطبعة النهضة الحديثية ـ  مكة المكرمة .

[82] تلخيص الموضوعات: ص:۱۸۹،رقم:۴۴۶،ت:أبو تميم ياسر بن إبراهيم بن محمد،مكتبة الرشد ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴۱۹هـ .

[83] المهذب في اختصار السنن الكبير:ص:3470،رقم:13686،ت:أبو تميم ياسر بن إبراهيم،دار الوطن ـ الرياض، الطبعة الأولى1422هـ .

[84] لسان الميزان:۷/۴۷۶،رقم:7۳۵۷،ت:عبد الفتاح أبو غدة،دار البشائر الإسلامية ـ بيروت،الطبعة  الأولى۱۴23هـ .

[85] الغرائب الملتقطة:۱/۲۵4،رقم:۴۶،ت:العربي الدائز الفرياطبي،جمعية دار البر ـ دبئي،الطبعة الأولى 1439هـ .

[86] الإصابة:1/581،رقم:1135،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1415هـ .

[87] جمع الجوامع:17/729،رقم:1047،دار السعادة ـ الأزهر،الطبعة1426هـ .

[88] تنزيه الشريعة:1/113،رقم:256،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1401هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

سند میں موجود راوی ابو الحسن محمد بن محمد بن اشعث کوفی ثم مصری کے بارے میں ائمہ کرام کے اقوال

حافظ ابن عدی l ’’الکامل‘‘[8] میں فرماتے ہیں:’’مقيم بمصر، کتبت عنه بها، حمله شدة میله إلی التشیع أن أخرج إلینا نسخته قریبا من ألف حدیث، عن موسى بن إسماعیل بن موسى بن جعفر بن محمد، عن أبیه، عن جده إلى أن ینتهي إلى علي والنبي صلی اﷲ علیه وسلم کتاب کتاب [کذا في الأصل] یخرجه إلینا بخط طري علی کاغذ جدید فیها مقاطیع، وعامتها مسندة، مناکیر کلها أو عامتها، فذکرنا روایته هذه الأحادیث عن موسى هذا لأبي عبد اﷲ الحسین بن علي بن الحسن بن علي بن عمر بن علي بن الحسین بن علي بن أبي طالب، وکان شیخا من أهل البیت بمصر، وهو أخ الناصر وکان أکبر منه، فقال لنا: موسى، هذا جاري بالمدینة أربعین سنة، ما ذکر قط أن عنده شیئا من الروایة لا عن أبیه، ولا عن غیره‘‘.

میں نے مصر میں اس سے روایتیں لکھی تھیں،تشیع کی طرف ان کے شدتِ میلان نے ان کو اس بات پر ابھارا کہ ہمارے سامنے ایک ہزار احادیث پر مشتمل ایک نسخہ نکالا، جس کی حدیثیں موسی بن اسماعیل بن موسی بن جعفر بن محمد، عن ابیہ، عن جده، الى ان ینتهی الى علی  والنبی ﷺ کی سند سے تھیں (یعنی سند میں موجود موسی نے اپنی سند سے بواسطہ حضرت علی r، حضورﷺ سے روایات نقل کی تھیں)، محمدبن اشعث ہمارے سامنے ایک کتاب لائے، اس کتاب میں موجود نئے کاغذ پر تازہ خط سے لکھا گیا تھا، اس نسخے کی اکثر حدیثیں مسند تھیں، جو سب کی سب یا اکثر مناکیر تھیں، ہم نے ابو عبداللہ حسین بن علی بن حسن بن علی بن عمر بن علی بن حسین بن علی بن ابی طالب سے تذکرہ کیا کہ یہ احادیث محمد بن اشعث نے موسی سے نقل کی ہیں، اور یہ’’ابو عبد اللہ‘‘ مصر میں اہل بیت کے شیخ تھے،جو ابو عبداللہ ناصر کے بھائی تھے،اور عمر میں ان سے بڑے تھے، ابو عبد اللہ حسین بن علی نے ہمیں بتایا کہ یہ موسی (یعنی جن سے محمد بن اشعث نے یہ احادیث نقل کی ہیں) چالیس برس تک مدینہ آتے رہے ہیں، اس نے تو کبھی بھی اس کا تذکرہ نہیں کیاکہ اس کے پاس ایسی کوئی روایتیں ہیں، نہ اپنے والد کی سند سے اور نہ ہی کسی اور کی سند سے۔

اس کے بعد حافظ ابن عدیl نےابن اشعث کی چند روایات تخریج کیں، پھر فرماتے ہیں: ’’وهذه النسخة کتبتها عنه، وهي قریبة من ألف حدیث، وکتبت عامتها عنه، وهذه الأحادیث وغیرها من المناکیر في هذه النسخة، وفیها أخبار مما یوافق متونها متون أهل الصدق، وکان متهما في هذه النسخة، ولم أجد له فیها أصلا، کان یخرج إلینا بخط طري وکاغذ جدید‘‘[9]. میں نےمحمد بن اشعث کا یہ نسخہ ان سے لکھ لیا تھا، اور وہ تقریباً ایک ہزار حدیثوں پر مشتمل تھا، میں نے اس نسخے کی اکثر روایتیں محمد بن اشعث سے لکھی تھیں، اور یہ حدیثیں (جو ابن عدیl نے ماقبل میں ذکر کی ہیں) اور اس کے علاوہ مناکیر اس نسخے میں موجود ہیں، اور اس نسخے میں ایسے متون بھی ہیں، جواہل صدق کے متون کے موافق ہیں، اور اس نسخے میں محمد بن اشعث متہم ہے،اوراس نسخے کی اصل مجھے نہیں ملی، اسے ابن اشعث نئے کاغذ اور تازہ خط کے ساتھ ہمارے پاس لایا تھا۔

حافظ ابن جوزی l نے ’’الضعفاء والمتروکین‘‘[10] میں حافظ ابن عدی l کے قول پر اعتماد کیا ہے۔

حافظ ابن قیسرانی l نے ’’ذخيرة الحفاظ‘‘[11] میں ایک حدیث کے تحت محمد بن اشعث کو ’’كذاب‘‘ کہا ہے۔

حافظ حمزہ بن یوسف l فرماتے ہیں:’’وسألت أبا الحسن الدارقطني عن محمد بن محمد بن الأشعث الكوفي؟ فقال آية من آيات الله، ذلك الكتاب، هو وضعه أعني: العلويات‘‘[12]. میں نے محمد بن محمد بن اشعث کوفی کے بارے میں دار قطنی l سے پوچھا تو آپ نے فرمایا: یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے، یہ کتاب ’’علویات‘‘ اس نے گھڑی ہے۔

حافظ ذہبیlنے ’’ميزان الاعتدال‘‘[13] میں حافظ ابن عدی l اور امام دار قطنی l کے قول پر اعتماد کیا ہے۔

علامہ سبط ابن العجمی l نے ’’الكشف الحثيث‘‘[14]میں’’میزان‘‘ میں موجود حافظ ذہبی l کے قول پر اکتفاء کرکے محمد بن اشعث کو متہمین میں شمار کیا ہے۔

حافظ ذہبی l ’’ديوان‘‘[15] میں فرماتے ہیں: ’’شيعي جلد، اتهمه ابن عدي‘‘. کٹر شیعہ تھا، ابن عدی l نے اسے متہم قرار دیا ہے۔

نیز حافظ ذہبی ’’المهذب‘‘[16] میں ایک حدیث کے تحت فرماتے ہیں:’’بل ذا موضوع، من صنعة ابن الأشعث، فياليتك صنت كتابك عن إيراده‘‘. بلکہ یہ من گھڑت ہے، ابن اشعث نے اسے گھڑا ہے، کاش آپ (یعنی امام بیہقی l) اپنی کتاب کو اس حدیث کے لانے سے بچا کر رکھتے۔

حافظ ابن حجر عسقلانیl ’’لسان المیزان‘‘[17] میں ’’میزان‘‘ میں موجود حافظ ذہبی l کا کلام نقل کرکے فرماتے ہیں: ’’وقد وقفت على بعض الکتاب المذکور، وسماه السنن، ورتبه على الأبواب، وکله بسند واحد، وأورد الدار قطني في غرائب مالک من روایته، عن محمد بن سعدان البزار، عن القعنبي حدیثا، وقال: کان ضعیفا‘‘. مجھے اس کتاب کے بعض حصے پر واقفیت ہوئی ہے،اور محمد بن اشعث نے اس کا نام ’’سنن‘‘ رکھا تھا، جسے اس نے ابواب پر مرتب کیا تھا، اور تمام حدیثیں ایک ہی سند سے تھیں، اور دار قطنیl نے ’’غرائب مالک‘‘ میں اس کی ایک روایت نقل کی ہے، جو اس نے محمد بن سعدان ، عن القعنبی کے طریق سے نقل کی تھی، اور دار قطنی l نے کہا ہے کہ ابن اشعث ضعیف ہے۔

حافظ ابن حجر l’’الغرائب الملتقطة‘‘[18] میں ایک حدیث کے تحت فرماتے ہیں: ’’ابن الأشعث كذبوه‘‘. ابن اشعث کو محدثین نے کذاب کہا ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی l نے ’’الإصابة‘‘[19] میں ابن الاشعث کو ’’أحد المتروكين المتهمين‘‘ کہا ہے۔

حافظ سیوطی l نے ’’جمع الجوامع‘‘[20]  میں ایک دوسری حدیث کے تحت محمد بن محمد اشعث کو’’ متہم‘‘  قرار دیا ہے۔ 

علامہ ابن عراق l ’’تنزيه الشريعة‘‘[21] میں محمد بن محمد بن اشعث کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے فرماتے ہیں: ’’قال الدارقطني آية من آيات الله، وضع ذلك الكتاب يعني: السنن المسندة عن آل البيت‘‘. دار قطنی l فرماتے ہیں: یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے، اس نے یہ کتاب یعنی ’’سنن مسندہ‘‘ آل بیت کے انتساب سے گھڑی ہے۔

حوالہ جات

[8]الكامل في ضعفاء الرجال:7/565،رقم:1791،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[9]الكامل في ضعفاء الرجال:7/565،رقم:1791،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[10] الضعفاء والمتروکین:3/97،رقم:3181،ت:عبد الله القاضی،دار الکتب العلمیة ـ بیروت،الطبعة الأولى ۱۴06هـ .

[11] ذخيرة الحفاظ:1/2۳۲،رقم:93،ت:عبد الرحمن بن عبد الجبار الفريوائي،دار السلف ـ الرياض،الطبعة الأولى ۱۴۱6هـ .

[12] سؤالات حمزه بن يوسف السهمي:ص:101،رقم:52،ت:موفق بن عبد الله بن عبد القادر،مكتبة المعارف ـ الرياض،الطبعة الأولى ۱۴04هـ .

[13] میزان الاعتدال:۴/۲8،رقم:۱۸۳۱،ت:علي محمد البجاوي،دارالمعرفةـ بيروت .

[14] الكشف الحثيث:ص:247،رقم:726،ت:صبحي السامرائي،مكتبة النهضة العربية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1407هـ .

[15] ديوان الضعفاء:ص:۳۷۲،رقم:۳۹۵۷،ت:حماد بن محمد الأنصاری،مطبعة النهضة الحديثية ـ  مكة المكرمة .

[16] المهذب في اختصار السنن الكبير:ص:3470،رقم:13686،ت:أبو تميم ياسر بن إبراهيم،دار الوطن ـ الرياض، الطبعة الأولى1422هـ .

[17]لسان الميزان:۷/۴۷۶،رقم:7۳۵۷،ت:عبد الفتاح أبو غدة،دار البشائر الإسلامية ـ بيروت،الطبعة  الأولى ۱۴23هـ .

[18] الغرائب الملتقطة:۱/۲۵4،رقم:۴۶،ت:العربي الدائز الفرياطبي،جمعية دار البر ـ دبئي،الطبعة الأولى 1439هـ .

[19] الإصابة:1/581،رقم:1135،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1415هـ .

[20] جمع الجوامع:17/729،رقم:1047،دار السعادة ـ الأزهر،الطبعة1426هـ .

[21] تنزيه الشريعة:1/113،رقم:256،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1401هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ