اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’آپ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’الجمعة حج المساكين‘‘. جمعہ مسکینوں کا حج ہے‘‘، ایک مقام پر ہے: ’’الجمعة حج فقراء أمتي‘‘. جمعہ میری امت کے فقراء کا حج ہے‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (گیارہواں حصہ)سند میں موجود راوی ہشام بن عبید اللہ رازی سِنّی بستی (المتوفی ۲۲۱ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ ابو بکر اعین l فرماتے ہیں: ’’سألت أحمد بن حنبل: أكتب عن هشام بن عبيد الله؟ فقال: لا، ولا كراهة‘‘[25]. میں نے احمد بن حنبل l سے پوچھا: کیا میں ہشام بن عبید اللہ سے (حدیث) لکھ لیا کروں؟ تو احمد بن حنبل l نے فرمایا: نہیں، اور کوئی کراہت بھی نہیں[26]۔
حافظ ابو حاتم l نے ہشام بن عبید اللہ رازی کو ’’صدوق‘‘ کہا ہے[27]۔
حافظ ابو حاتم l ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: ’’صدوق، ما رأيت أحدا في بلدنا أعظم قدرا ولا أجل قدرا من هشام بن عبيد الله بالري، ومن أبي مُسْهِر بدمشق‘‘[28]. صدوق ہے، میں نے اپنے شہر میں قدر ومنزلت کے اعتبار سے ہشام بن عبید اللہ رازی سے بڑھ کر کسی کو نہیں دیکھا، اور دمشق میں ابو مُسْہِر سے بڑھ کر کسی کو نہیں دیکھا۔
حافظ ابن ابی حاتم l ’’الجرح والتعديل‘‘[29] میں فرماتے ہیں: ’’وهو ثقة، يحتج بحديثه‘‘. یہ ثقہ ہے، اس کی حدیث سے احتجاج کیا جائےگا۔
حافظ ابو اسحاق شیرازی l فرماتے ہیں: ’’هو لين في الرواية، وفي داره مات محمد بن الحسن رحمه الله‘‘[30]. یہ روایت میں لین ہے، اور ان کے گھر میں محمد بن حسن رحمہ اللہ کا انتقال ہوا ہے۔
حافظ ابن حبان l ’’المجروحين‘‘[31] میں فرماتے ہیں: ’’ كان ينتحل مذهب الكوفيين، يروي عن مالك، وابن أبي ذئب، وكان يهم في الروايات ويخطئ، إذا روى عن الأثبات، فلما كثر مخالفته الأثبات، بطل الاحتجاج به‘‘. یہ کوفہ والوں کے مذہب سے آراستہ تھا، یہ مالک اور ابن ابی ذئب سے روایت کرتا ہے، اسے ثبت راویوں سے نقل کرتے ہوئے روایات میں وہم ہوتا، اور خطاء کرتا تھا، چنانچہ جب اس کی ثبت راویوں سے مخالفت کی کثرت ہوگئی تو اس سے احتجاج باطل ہوگیا۔
حافظ ابن حجر عسقلانی l ’’لسان‘‘[32] میں حافظ ابن حبان l کا کلام ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
’’قلت: والحديث الذي أورده له ابن حبان عن ابن أبي ذئب، خطأ بلا شك، فينظر فيمن دونه، وأما الخبر الذي أورده له عن مالك، فقد ذكر الدارقطني في الغرائب أنه تفرد به عن مالك، وأنه وهم فيه، ودخل عليه حديث في حديث، ثم راجعت سند ابن حبان في حديث الغنم، فوجدت الراوي عن هشام ضعيفا جدا، وصفه الدارقطني بوضع الحديث، كما تقدم في ترجمته في العبادلة، فبرئ هشام من عهدته‘‘.
میں (حافظ ابن حجر عسقلانی l) کہتا ہوں: ہشام کی جس حدیث کو ابن حبان lابن ابی ذئب کے طریق سے لائے ہیں وہ بلاشبہ غلط ہے، سو ان کے علاوہ میں غور کیا جائے، تاہم ابن حبان l ہشام کی جس روایت کو مالک l کے طریق سے لائے ہیں، دار قطنی l نے ’’غرائب‘‘میں ذکر کیا ہے کہ ہشام اس حدیث میں مالک l سے روایت کرنے میں متفرد ہے، اور ہشام کو اس میں وہم ہوگیا ہے، اور ان پر ایک حدیث دوسری حدیث میں داخل ہوگئی ہے، پھر میں (حافظ ابن حجر عسقلانی l)نے ’’حدیث غنم‘‘ میں ابن حبان l کی سند کی مراجعت کی، تو میں نے ہشام سے روایت کرنے والے راوی کوشدید ضعیف پایا، دار قطنی l نے اسے حدیث گھڑنے کے ساتھ موصوف کیا ہے، جیسا کہ عبادلہ میں اس کے ترجمہ میں گزر گیا، لہذا ہشام اس حدیث کی ذمہ داری سے بری ہے۔
حافظ ذہبی l ’’تاريخ الإسلام‘‘[33] میں ہشام بن عبیداللہ رازی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ كان من كبار أئمة السنة‘‘. یہ سنت کے بڑے ائمہ میں سے ہیں۔
حافظ ذہبی l نے ’’تذكرة الحفاظ‘‘[34] میں ہشام بن عبید اللہ رازی کا ترجمہ قائم کرکے اسے ’’فقیہ، احد الاعلام‘‘ کہا ہے، پھر چند سطروں کے بعد فرماتے ہیں: ’’ كان داعية إلى السنة، محطا على الجهمية، وقد لينوه في الحديث، وفي داره مات محمد بن الحسن‘‘. یہ سنت کی طرف داعی تھے، اور جہمیہ کی سرکوبی کرنے والے تھے، اور محدثین نے انہیں حدیث میں ’’لین‘‘ قرار دیا ہے، اور ان کے گھر میں محمد بن حسن l کی وفات ہوئی ہے۔
حوالہ جات
[25] سؤالات البرذعي:ص:474،رقم:1011،ت:أبو عمر محمد بن علي الأزهري،الفاروق الحديثية ـ القاهرة، الطبعة الأولى۱430هـ .
[26] تاہم ’’تاریخ جرجان‘‘ کی عبارت میں ’’ولا کراہۃ‘‘ کی جگہ ’’ولا کرامۃ‘‘ہے، ملاحظہ ہو: ’’حدثنا أبو الحسين يعقوب بن موسى الأردبيلي الفقيه ببغداد، حدثنا أحمد بن طاهر الأردبيلي، حدثنا سعيد بن عمرو البرذعي، حدثنا إسحاق بن موسى الجرجاني، حدثنا أبو بكر الأعين، قال: سألت أحمد بن حنبل: أكتب عن هشام بن عبيد الله؟ قال: لا، ولا كرامة‘‘. (تاريخ جرجان:ص:160،رقم:183،عالم الكتب ـ بيروت،الطبعة الرابعة۱407هـ) .
[27]الجرح والتعدیل:9/67،رقم:256،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .
[28] تذكرة الحفاظ:۱/۲۸۴ ،رقم:۳۸۷،ت:زكريا عميرات،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۱۹هـ .
[29] الجرح التعديل:9/67،رقم:256،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷2هـ .
[30] تاریخ الإسلام:5/7۲۰،رقم:458،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى 1424هـ .
[31]المجروحين:۳/۹۰،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفةـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .
[32] لسان الميزان:8/336،رقم:8264،ت:عبد الفتاح أبو غدة،دار البشائر الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴23هـ .
[33] تاریخ الإسلام:5/719،رقم:458،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى 1424هـ .
[34] تذكرة الحفاظ:1/284،رقم:387،ت:زكريا عميرات،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۱۹هـ .