التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

عیسی بن ابراہیم بن طہمان قرشی ہاشمی

المتوفی مابین 1۵1ھ – 1۶0ھایک روایت میں تذکرہ

عیسی بن ابراہیم بن طہمان قرشی ہاشمی کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی عیسی بن ابراہیم بن طہمان قرشی ہاشمی  (المتوفی مابین 1۵1ھ – 1۶0ھ[45])کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

حافظ یحیی بن معین l نے عیسی بن ابراہیم کو ’’ليس بشيء‘‘ کہا ہے[46]۔

حافظ یحیی بن معین l نے ایک دوسرے مقام پر اسے ’’ليس حديثه بشيء‘‘ کہا ہے[47]۔

امام احمد بن حنبلl ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’عيسى بن إبراهيم وسعيد بن سنان ليسا بشيء‘‘[48]. عیسی بن ابراہیم اور سعید بن سنان (دونوں) ’’لیس بشیء‘‘ہیں۔

امام بخاری l ’’التاريخ الصغير‘‘[49] میں فرماتے ہیں: ’’عنده مناكير‘‘. اس کے پاس مناکیر ہیں۔

امام بخاری l نے ’’التاريخ الكبير‘‘[50] اور ’’الضعفاء‘‘[51] میں عیسی بن ابراہیم کو ’’منكر الحديث‘‘کہا ہے۔

حافظ ابو حاتم l نے اسے ’’متروك الحديث‘‘کہا ہے[52]۔

حافظ ابو حاتم l نے ایک دوسرے مقام پر اسے ’’ذاهب الحديث‘‘ کہا ہے[53]۔

امام ابو داؤد l فرماتے ہیں: ’’ليس بشيء، لا أدري من أين هو؟ حدث عنه بقية‘‘[54]. لیس بشیء ہے، میں نہیں جانتا یہ کہاں سے ہے؟ اس سے بقیہ نے حدیث بیان کی ہے۔

امام نسائی l نے ’’الضعفاء‘‘[55] میں عیسی بن ابراہیم کو ’’منكر الحديث‘‘ کہا ہے۔

امام نسائی l نے ایک دوسرے مقام پر اسے ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے[56]۔

حافظ ابن جارود l نے عیسی بن ابراہیم کو ’’ليس بشيء‘‘ کہا ہے[57]۔

حافظ ابو یحیی زکریا بن یحیی ساجی l فرماتے ہیں: ’’منكر الحديث، فيه نظر‘‘[58]. منکر الحدیث ہے، اس میں نظر ہے۔

حافظ عقیلی l ’’الضعفاء الكبير‘‘[59] میں فرماتے ہیں: ’’حديثه غير محفوظ، ولا يعرف إلا به‘‘. اس کی حدیث محفوظ نہیں ہے، اور اس کی معرفت اسی سے ہوتی ہے۔

حافظ ابن حبان l ’’المجروحين‘‘[60] میں عیسی بن ابراہیم کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’يروي المناكير عن جعفر بن بُرْقان، قال: كأنه جعفر آخر، لا يجوز الاحتجاج به إذا انفرد‘‘. جعفر بن بُرْقان کے انتساب سے مناکیر روایت کرتا ہے، گویا کہ یہ دوسرا جعفر ہے، جب یہ متفرد ہوجائے تو اس سے احتجاج جائز نہیں ہے۔

حافظ ابن عدی l ’’الكامل‘‘[61] میں عیسی بن ابراہیم کے ترجمہ میں  چند روایات ذکرکرنے کے بعد فرماتے ہیں: ’’وهذه الأحاديث التي ذكرت أسانيدها هي عامة ما يرويه عيسى بن إبراهيم الهاشمي، وعامة رواياته لا يتابع عليها‘‘. اور یہ احادیث جن کی اسانید میں نے ذکر کی ہیں، ان میں سے اکثر کو عیسی بن ابراہیم ہاشمی روایت کرتا ہے، اور اس کی اکثر روایات میں متابعت نہیں کی جاتی۔

امام بیہقی l ’’السنن‘‘[62] میں ایک روایت کے تحت عیسی بن ابراہیم کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’منكر الحديث، ضعفه يحيى بن معين والبخاري وغيرهما‘‘. منکر الحدیث ہے، یحیی بن معین l ، بخاری l وغیرہ نے اس کی تضعیف کی ہے۔

امام حاکم l نے اسے ’’واهي الحديث بمرة‘‘ کہا ہے[63]۔

حافظ ابن قیسرانی l نے ’’ذخيرة الحفاظ‘‘[64] میں اسے ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔

حافظ عبد الحق اشبیلی l ’’الأحكام الوسطى‘‘[65] میں فرماتے ہیں:  ’’ضعيف عندهم، بل متروک‘‘. یہ محدثین کے نزدیک ضعیف، بلکہ متروک ہے۔

حافظ ذہبی l نے عیسی بن ابراہیم کو ایک روایت کے تحت ’’تلخيص الموضوعات‘‘[66] میں ’’هالك‘‘ اور ’’سير‘‘[67] میں ’’غير ثقة‘‘ کہا ہے۔

حافظ ذہبی l نے ’’ميزان‘‘[68] میں موسی بن ابی حبیب کے ترجمہ میں اسے ’’متروك‘‘ کہا ہے۔

حافظ ہیثمی l نے ’’مجمع الزوائد‘‘[69] میں ایک روایت کے تحت عیسی بن ابراہیم کو ’’متروك‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی l ’’نتائج الأفكار‘‘[70] میں ایک روایت کے تحت عیسی بن ابراہیم کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’وهو ضعيف جدا، نسبوه إلى الوضع‘‘. وہ شدید ضعیف ہے، محدثین نے اسے حدیث گھڑنے کی طرف منسوب کیا ہے۔

علامہ ابن عراق l ’’تنزيه الشريعة‘‘[71] میں عیسی بن ابراہیم ہاشمی  کووضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے فرماتے ہیں: ’’اتهمه ابن الجوزي‘‘. ابن جوزی l نے اسے متہم قرار دیا ہے۔

حوالہ جات

[45] امام بخاری l نے  ’’التاریخ الصغیر‘‘میں عیسی بن ابراہیم ہاشمی کو ان افراد میں ذکر کیا ہے جن کا انتقال 1۵۱ھ سے 1۶0 ھ کے درمیان ہوا ہے(التاريخ الصغير:2/۱۰۴،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى 1406هـ).

[46] تاريخ يحيى بن معين برواية الدوري:2/128،رقم:3713،ت:عبد الله أحمد حسن،دار القلم ـ بيروت .

[47] تاريخ يحيى بن معين برواية الدوري:2/164،رقم:3990،ت:عبد الله أحمد حسن،دار القلم ـ بيروت .

[48]  من كلام الإمام أبي عبد الله أحمد بن حنبل في علل الحديث ومعرفة الرجال:ص:117،رقم:271، ت:صبحي البدري السامرائي،مكتبة المعارف ـ الرياض،الطبعة الأولى1409هـ .

[49] التاريخ الصغير:2/۱۲۹،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ .

[50] التاريخ الكبير:۶/205،رقم:8873 ،ت:مصطفى عبد القادر أحمد عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية ۱۴۲۹هـ .

[51] الضعفاء الصغير:ص:91،رقم:269،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى 1406 هـ .

[52] الجرح والتعديل:6/27۲،رقم:1505،دار الكتب العلمية ـ  بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .

[53] الجرح والتعديل:۳/۱۲۵،رقم:۵۶۸،دار الكتب العلمية ـ  بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .

[54] سؤالات أبي عبيد الآجري:۲/۲۵۱،رقم:۱۷۵۱،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،مؤسسة الريان ـ بيروت، الطبعة الأولى1418هـ .

[55] الضعفاء والمتروكين:ص:177،رقم:448،ت:بوران الضناوي وكمال يوسف الحوت،مؤسسة الكتب الثقافية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۵هـ .

[56] الكامل:6/439،رقم:1394،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت.

[57] لسان المیزان:۶/۲۵۹،رقم:۵۹۱۵،ت:عبد الفتاح أبو غدة،دار البشائر الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1423هـ .

[58] لسان المیزان:6/259،رقم:5۹15،ت:عبد الفتاح أبو غدة،دار البشائر الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1423هـ .

[59] الضعفاء الكبير:3/۳۹۵،رقم:۱۳۳۴،ت:عبدالمعطي أمين قلعجي،دار الكتب العلميةـ بيروت، الطبعة 1404هـ .

[60] المجروحين:2/121،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .

[61] الكامل في ضعفاء الرجال:6/4۴۱،رقم:1394،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض، دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[62] السنن الكبرى:10/26،رقم:19742،ت:محمد عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الثالثة1424هـ .

[63] لسان المیزان:6/259،رقم:5915،ت:عبد الفتاح أبو غدة،دار البشائر الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1423هـ .

[64] ذخيرةالحفاظ:ص:۹۲۹،رقم:۱۹۱۶،ت:عبد الرحمن بن عبد الجبار الفريوائي،دار السلف ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴۱6هـ .

[65] الأحكام الوسطى:۴/۱۸۲،ت:حمدي السلفي وصبحي السامرائي،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة۱۴16هـ .

[66] تلخيص الموضوعات:ص:۷۹،رقم:۱۷۳،ت:أبو تميم ياسر بن إبراهيم بن محمد،مكتبة الرشد ـ الرياض، الطبعة الأولى ۱۴۱۹هـ .  

[67] سير أعلام النبلاء:14/546،ت:شعيب الأرنؤوط،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى1403 هـ .

[68] ميزان الاعتدال:4/202،رقم:8856،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

[69] مجمع الزوائد:۵/۱۶۷،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربى ـ  بيروت .

[70] نتائج الأفكار:4/244،ت:حمدي عبد المجيد السلفي،دار ابن كثير ـ بيروت،الطبعة الثانية1429هـ .

[71] تنزيه الشريعة:1/۹۴،رقم:۳۷۲،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ  بيروت، الطبعة الثانية۱۴01هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ