اس روایت کی تحقیق سے4 میں سے 1
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’ أوحى الله إلى الدنيا: يا دنيا! اخدمي من خدمني، وأتعبي يا دنيا! من خدمك‘‘. اللہ تعالیٰ نے دنیا کی طرف وحی فرمائی، اے دنیا! تو اس کی خدمت کر جو میری خدمت کرے، اور اے دنیا! تو اسے تھکا دے جو تیری خدمت کرے‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (تیرہواں حصہ)سند میں موجود راوی ابوعمرو یزید بن ابان رقاشی بصری کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ فضل بن موسی سِیْسنَانی l ، حافظ سلیمان اعمش l کا قول نقل کرتے ہیں: ’’ أتيت يزيد الرقاشي وهو يقص، فجلست في ناحية أستاك، فقال لي: أنت هاهنا؟ قلت: أنا هاهنا في سنة، وأنت في بدعة‘‘[31]. میں یزید رقاشی کے پاس آیا، وہ قصے بیان کر رہا تھا، میں ایک کونے میں ہو کر مسواک کرنے لگا، یزید رقاشی نے مجھ سے کہا: تم یہاں ہو؟ میں نے کہا: میں یہاں سنت میں مشغول ہوں، اور تم بدعت میں مشغول ہو۔
حافظ ابن سعدl ’’ الطبقات‘‘[32] میں فرتے ہیں: ’’وكان ضعيفا، قدريا‘‘. یہ ضعیف تھا، قدری تھا۔
حافظ عمرو بن علی فلاس l فرماتے ہیں: ’’ كان يحيى بن سعيد لا يحدث عن يزيد الرقاشي، وكان عبد الرحمن يحدث عنه‘‘[33]. یحیی بن سعید، یزید رقاشی سے احادیث روایت نہیں کرتے تھے،جبکہ عبدالرحمن ان سے احادیث روایت کرتے تھے۔
علامہ ابوطالب احمد بن حمید مُشْکَانی l فرماتے ہیں: ’’قلت لأحمد بن حنبل: فيزيد الرقاشي لم ترك حديثه، بهوى كان فيه؟ قال: لا، ولكن كان منكر الحديث، وكان شعبة يحمل عليه، وكان قاصا‘‘[34]. میں نے احمد بن حنبل l سے کہا کہ یزیدرقاشی کی احادیث کیوں ترک کی گئی ہیں،اس ہوی (بدعت) کی وجہ سے جو ان میں موجود تھی؟ احمد بن حنبل l نے فرمایا: ایسا نہیں ہے،بلکہ وہ منکر الحدیث ہے،اور شعبہ l ان پر ’’حمل‘‘فرماتے تھے،اور یہ قصہ گوتھا۔
حافظ عبداللہ بن احمد اپنے والد امام احمد بن حنبل l سے نقل کرتے ہیں: ’’يزيد الرقاشي فوق أبان بن أبي عياش، وكان يضعفه، وقال: كان شعبة يشبهه بأبان بن أبي عياش‘‘[35].یزیدرقاشی، ابان بن ابی عیاش سے بڑھ کر ہے،اور میرے والد ان کی تضعیف کرتے تھے،اور فرماتے کہ شعبہ l ، یزید رقاشی کو ابان بن ابی عیاش کے مشابہ قرار دیتے تھے۔
حافظ یحیی بن معین l فرماتے ہیں: ’’أما يزيد الرقاشي: فليس بشيء، هو ضعيف‘‘[36] . یزید رقاشی لیس بشیء، ضعیف ہے۔
حافظ یحیی بن معین l کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: ’’رجل صالح، لكن حديثه ليس بشيء‘‘[37].یہ نیک شخص ہے،لیکن اس کی حدیث لیس بشیء ہے۔
امام مسلم l نے’’الكنى‘‘[38] میں اسے ’’متروک الحدیث‘‘ کہا ہے۔
امام نسائی l نے ’’الضعفاء‘‘[39] میں یزید کو ’’متروک [ الحدیث]‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابوحاتم l فرماتے ہیں: ’’ كان واعظا بكاء، كثير الرواية عن أنس بما فيه نظر، صاحب عبادة، وفي حديثه صنعة‘‘[40].یہ واعظ،بہت زیادہ رونے والا شخص تھا،انس r سے کثرت سے روایات نقل کرتا تھا جس میں نظر ہے، عبادت گزار تھا، اور اس کی حدیث میں کاریگری ہے۔
امام شعبہ l فرماتے ہیں: ’’لأن أزني أحب إلي من أن أروي عن يزيد الرقاشي‘‘[41]. میں زنا کروں، مجھے یہ زیادہ پسند ہے اس سے کہ میں یزید رقاشی سے روایت کروں۔
امام شعبہ l ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: ’’ لأن أقطع الطريق أحب إلي من أن أروي عن يزيد الرقاشي‘‘[42]. میں راہ زنی کروں مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ میں یزید رقاشی سے روایت کروں۔
امام ابو داؤد l فرماتے ہیں: ’’رجل صالح، سمعت يحيى بن معين ذكره فقال: رجل صدق‘‘[43]. یہ نیک شخص ہے، میں نے یحیی بن معین lکو فرماتے ہوئے سنا کہ یہ سچا شخص ہے۔
حافظ یعقوب بن سفیان فَسَوی l فرماتے ہیں: ’’فيه ضعف‘‘[44]. اس میں ضعف ہے۔
حافظ ابن حبان l ’’ المجروحين‘‘[45] میں فرماتے ہیں: ’’وكان من خيار عباد الله، من البكائين بالليل في الخلوات، والقائمين بالحقائق في السبرات، ممن غفل عن صناعة الحديث وحفظها، واشتغل بالعبادة وأسبابها حتى كان يقلب كلام الحسن، فيجعله عن أنس عن النبي عليه الصلاة والسلام، وهو لا يعلم، فلما كثر في روايته ما ليس من حديث أنس وغيره من الثقات بطل الاحتجاج به، فلا تحل الرواية عنه إلا على سبيل التعجب، وكان قاصا، يقص بالبصرة ويبكي الناس، وكان شعبة يتكلم فيه بالعظائم‘‘.
اللہ کے نیک بندوں میں سے تھا، رات کی تنہائی میں بہت زیادہ رونے والوں، ٹھنڈی صبح میں حقائق کے ساتھ قیام کرنے والوں میں تھا،حدیث کے حفظ اور اس میں مہارت سے بے خبر تھا، عبادت اور اس کے اسباب میں اتنا مشغول تھا کہ حسن l کے کلام کو انس r کا کلام سمجھ کر نبی علیہ الصلاۃ والسلام کی طرف بے خبر ی میں منسوب کر دیتا تھا،جب اس کی روایات میں کثرت سے انس r وغیرہ ثقات کی روایات میں ایسا ہوا تو اب اس سے احتجاج باطل ہے، اس سے روایت سوائے تعجب کے حلال نہیں ہے،وہ قصہ گوئی کرتا تھا، بصرہ میں لوگوں کو قصے سنا سنا کر رلاتا تھا، شعبہ l نے اس کے متعلق بڑی بڑی باتیں کہی ہیں۔
حافظ ابن عدی l ’’الكامل‘‘[46] میں فرماتے ہیں: ’’وليزيد الرقاشي أحاديث صالحة، عن أنس وغيره، ونرجوا أنه لا بأس به برواية الثقات عنه من البصريين والكوفيين وغيرهم‘‘.یزیدرقاشی کی انس r وغیرہ سے صالح احادیث ہیں،اور مجھے امید ہے کہ یہ لابأس بہ ہے اُن روایات میں جو اس سے بصری، کوفی وغیرہ ثقہ لوگ روایت کریں۔
حافظ ابو احمد حاكمl نے یزید کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے[47]۔
حافظ ذہبی l ’’المغنی‘‘[48] میں لکھتے ہیں: ’’العابد، عن أنس، قال النسائي وغيره: متروك‘‘.عابد ہے، یہ انس r سے روایت کرتا ہے، نسائی l وغیرہ نے اسے متروک کہا ہے۔
حافظ ذہبی l نے’’الکاشف‘‘[49] میں اسے ’’ضعیف‘‘ اور ’’تلخيص المستدرك‘‘[50] میں ’’واه‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابن کثیرl ’’البداية والنهاية‘‘[51] میں ایک روایت کے تحت یزید بن ابان کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’فإنه غير مقبول الرواية عند الأئمة‘‘. ائمہ کے نزدیک اس کی روایت مقبول نہیں ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی l نے یزید کو ’’تقريب التهذيب‘‘[52] میں ’’زاهد، ضعيف‘‘ کہا ہے۔
حوالہ جات
[31] المجروحين:۳/۹۸،ت:محمودابراهيم زايد،دارالمعرفةـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .
[32] الطبقات الكبرى:۷/۱۸۲،رقم:۳۱۸۸،ت:محمد عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1418هـ .
[33] الجرح والتعديل:۹/۲۵۱،رقم:۱۰۵۳،دائرة المعارف العثمانية ـ حيدرآباد الدكن،الطبعة الأولى۱۳۷۱هـ .
[34] الجرح والتعديل:۹/۲۵۱،رقم:۱۰۵۳،دائرة المعارف العثمانية ـ حيدرآباد الدكن،الطبعة الأولى۱۳۷۱هـ .
[35] الجرح والتعديل:۹/۲۵2،رقم:۱۰۵۳،دائرة المعارف العثمانية ـ حيدرآباد الدكن،الطبعة الأولى۱۳۷۱هـ .
[36] معرفة الرجال برواية ابن محرز:1/71،رقم:167،ت:محمد كامل القصار،مطبوعات مجمع اللغة العربية ـ دمشق،الطبعة1405هـ .
[37] المجروحين:۳/۹۸،ت:محمودابراهيم زايد،دارالمعرفةـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .
[38] الكنى والأسماء:ص:۵۷۱،رقم:۲۳۲۳،ت:عبد الرحيم محمد أحمد القشقري،الجامعةالإسلامية ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى۱۴۰۴هـ .
[39] الضعفاء والمتروکين:253،رقم:673،ت:بوران الضناوي،کمال یوسف الحوت،مؤسسة الکتب الثقافية ـ بيروت، الطبعة۱۴۰۵هـ .
[40] الجرح والتعديل:۹/۲۵۲،رقم:۱۰۵۳،دائرة المعارف العثمانية ـ حيدرآباد الدكن،الطبعة الأولى۱۳۷۱هـ .
[41] الضعفاء الکبیر:4/373، رقم:1983،ت:عبد المعطی أمین قلعجی، دارالکتب العلمیةـ بیروت،الطبعة الأولى1404هـ .
[42] الضعفاء الکبیر:4/373، رقم:1983،ت:عبد المعطی أمین قلعجی، دارالکتب العلمیةـ بیروت،الطبعة الأولى1404هـ .
[43] سؤالات أبي عبيد الآجري:ص:320،رقم:491،ت:محمد علي قاسم العمري،المجلس العلمي ـ المدينة المنورة، الطبعة1399.
[44] تهذيب الكمال:۳۲/۶۹،رقم:۶۹۵۸،ت:بشار عواد معروف،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴13هـ .
[45] المجروحين:۳/۹۸،ت:محمودابراهيم زايد،دارالمعرفةـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .
[46] الكامل:9/131،رقم:2158،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[47] تهذيب الكمال:۳۲/۶۹،رقم:۶۹۵۸،ت:بشار عواد معروف،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴13هـ .
[48] المغني في الضعفاء:2/534،رقم:۷۰۸3،ت:أبو الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى1418هـ .
[49] الكاشف:۲/۳۸۰،رقم:۶۲۷۷،ت:محمدعوامة،دارالقبلة للثقافة الإسلامية ـ جده،الطبعة الأولى۱۴۱۳هـ .
[50] تلخيص المستدرك بذيل المستدرك على الصحيحين:۲/597،ت:يوسف عبد الرحمن المرعشلي،دار المعرفة ـ بيروت .
[51] البداية والنهاية:۷/۴۱۷،ت:عبد الله بن عبد المحسن التركي،دار هجر ـ مصر،الطبعة الأولى1417هـ .
[52] تقريب التهذيب:ص:599،رقم:7683،ت:محمد عوامة،دار الرشيد ـ سوريا،الطبعة الثالثة1411هـ .