التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابو علی حسین بن داؤد بن معاذ بلخی

المتوفی 282ھایک روایت میں تذکرہ

ابو علی حسین بن داؤد بن معاذ بلخی کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی ابو علی حسین بن داؤد بن معاذ بلخی (المتوفی 282ھ)کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

حافظ خطیب بغدادیl ’’تاريخ بغداد‘‘[22] میں فرماتے ہیں: ’’ولم يكن الحسين بن داود ثقة، فإنه روى نسخة عن يزيد بن هارون، عن حميد، عن أنس، أكثرها موضوع‘‘. حسین بن داؤد ثقہ نہیں ہے،اس نے یزید بن ہارون، عن حمید، عن انس r  کے طریق سے ایک نسخہ روایت کیا ہے، جس کا  اکثر حصہ من گھڑت ہے۔

حافظ ذہبیl نے ’’ميزان الاعتدال‘‘[23] میں، حافظ ابن حجر عسقلانی l نے ’’ لسان‘‘[24] میں اور حافظ ابن جوزیl نے ’’الضعفاء والمتروكين‘‘[25] میں حافظ خطیب بغدادیl کے کلام پر اکتفاء کیا ہے۔

امام حاکم l اپنی ’’تاریخ‘‘[26] میں فرماتے ہیں: ’’وله عندنا عجائب يستدل بها على حاله‘‘. اور ہمارے پاس اس کے عجائب ہیں جن کے ذریعے سے اس کی حالت پر استدلال کیا جاتا ہے۔

حافظ ذہبی l ’’تاريخ الإسلام‘‘[27] میں فرماتے ہیں: ’’ أحد المتروكين‘‘. وہ متروکین میں سے ایک ہے۔

علامہ سبط ابن عجمی l ’’الكشف الحثيث‘‘[28]میں حافظ ذہبی l کا قول نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں: ’’وقد قال ابن الجوزي في موضوعاته بعد الدعاء بحفظ القرآن دعاء منقول في الطريق الثالث: الحسين بن داود يعني: البلخي هذا، ثلاثتهم يعني: الجويباري الذي تقدم، وسليمان بن عيسى يعني: الآتي، والحسين بن داود يعني: هذا، كانوا يضعون الحديث، والله أعلم أيهم ابتدأ بوضعه؟ ثم سرقاه الآخران، وبدلا فيه وغيرا، انتهى‘‘.

ابن  جوزی l نے اپنی ’’موضوعات‘‘ میں دعاء حفظ قرآن کے بعد ایک دعا ذکر کی ہے، جس کی تیسری سند اس حسین بن داؤد یعنی بلخی سے منقول ہے، (اسے نقل کرکے ابن جوزیl) فرماتے ہیں: یہ تینوں یعنی جویباری جس کا ذکر گزر گیا ہے، اور سلیمان بن عیسی یعنی جو عنقریب آرہا ہے، اور یہ حسین بن داؤد حدیث گھڑتے تھے، اللہ خوب جانتا ہے کہ اس حدیث کو ان میں سب سے پہلے کس نے گھڑا ہے، پھر دوسرے دو نے اس کا سرقہ کرکے اس میں تبدیلی کی ہے، انتہی۔

علامہ ابن عراق l نے ’’تنزيه الشريعة‘‘[29] میں حسین بن داؤد کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے حافظ خطیب بغدادیl اور امام حاکم l کا قول نقل کیا ہے۔

حوالہ جات

[22] تاريخ بغداد:8/576،رقم:4053،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي،الطبعة الأولى1422هـ .

[23] ميزان الإعتدال:۱/534،رقم:1998،ت:على محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

[24] لسان الميزان:3/162،رقم:2510،ت:عبد الفتاح أبو غدة،دار البشائر الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى1423هـ .

[25] الضعفاء والمتروكين لابن الجوزي:1/212،رقم:881 ،ت:أبو الفداء عبد الله القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى1406هـ .

[26] انظر لسان الميزان:3/163،رقم:2510،ت:عبد الفتاح أبو غدة،دار البشائر الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1423هـ .

[27] تاريخ الإسلام:6/740،رقم:222،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي،الطبعة الأولى1424هـ.

[28] الكشف الحثيث:ص:98،رقم:238،ت:صبحي السامرائي،مكتبة النهضة العربية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1407هـ .

[29] تنزيه الشريعة:1/52،رقم:10،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الثانية1401هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ