روایت: ایک کفن چور کا مردہ عورت سے زنا کرنا،پھر توبہ کرکےآپ ﷺ کی خدمت میں آنا۔
حکم: یہ روایت حافظ ابن الاثیر l اور حافظ ابن حجر l کے نزدیکثابت نہیں ہے، اور بعض حفاظ نے اسے من گھڑت تک کہا ہے،الحاصل اسے آپ ﷺ کے انتساب سے بیان نہیں کرسکتے۔
تفصیل
یہ روایت دو سندوں سے منقول ہے:
1 روایت بطریق عمر بن خطاب r 2 روایت بطریق ابوہریرہ r
روایت پر ائمہ حدیث کا کلام
حوالہ جات
[1] تنبيه الغافلين:ص:106،رقم:116،ت:يوسف علي بديوي،دار ابن كثير ـ بيروت،الطبعة الثالثة 1421هـ .
[2] تنبيه الغافلين:ص:۱۰۰،مترجم:عبدالمجيدأنور،مكتبة الحرمين ـ لاهور،باكستان .
[3] بحر العلوم:1/300،ت:علي محمدمعوض،عادل أحمدعبدالموجود،دارالكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1414هـ .
[4] الكشف والبيان:8/244،ت:أبو محمد بن عاشور،دار إحياء التراث العربي ـ بيروت،الطبعة الأولى1422هـ .
[5] اسدالغابة:1/421،رقم:502،ت:علي محمدمعوض،عادل أحمدعبدالموجود،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعةالثانية1424هـ .
[6] الإصابة:1/460،رقم:750،ت:علي محمدمعوض،عادل أحمدعبدالموجود،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى1415هـ .
[7] أسدالغابة:1/421،رقم:502،ت:علي محمدمعوض،عادل أحمدعبدالموجود،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعةالثانية1424هـ .
[8] الإصابة:1/۴۵۹،رقم:750،ت:علي محمدمعوض،عادل أحمدعبدالموجود،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى1415هـ .
[9] أسدالغابة:1/421،رقم:502،ت:علي محمد معوض،عادل أحمد عبد الموجود،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعةالثانية1424هـ .
[10] الإصابة:1/460،رقم:750،ت:علي محمد معوض،عادل أحمد عبد الموجود،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1415هـ .
[11] محمد بن علي بن الحسين بن بابويه أبو جعفر القُمِّي،نزل بغداد، وحدث بها عن أبيه، وكان من شيوخ الشيعة، ومشهوري الرافضة. (تاريخ بغداد:4/150،رقم:1342،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى1422هـ) .
رأس الإمامية، أبو جعفر محمد بن العلامة علي بن الحسين بن موسى بن بَابَوَيْه القُمِّي،صاحب التصانيف السائرة بين الرافضة،يضرب بحفظه المثل . (سير أعلام النبلاء:16/303،رقم:212،ت:شعيب الأرنوؤط،موسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعةالثالثة1405هـ ) .
[12] أمالي الصدوق:ص:42،رقم:3،موسسة الأعلمي للمطبوعات ـ بيروت،الطبعة الأولى1430هـ .
ملتی جلتی احادیث
روایت : حضرت ابوہریرہ r کے سامنے ایک عورت کا زنا، پھر ولد ِزنا کے قتل کا اقرار کرنا، بالآخر اس کی توبہ کا قبول ہونا۔
روایت: ’’إن الشاب المؤمن لو يقسم على الله تعالى لأبره‘‘.اگر مومن نوجوان اللہ تعالی پر کسی بات کی قسم کھالے تو اللہ تعالیٰاس کی قسم کو ضرور پورا فرماتے ہیں۔
روایت: ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا:’’ اے اللہ کے رسول! کیا میرا کالا رنگ اور میرے چہرے کی بد صورتیمیرے جنت میں داخلے سے مانع ہے‘‘، اس قصہ میں یہ بھی ہے کہ یہصحابی r اپنے نکاح کا سامان خریدنے بازار گئے، جہاں جہاد فی سبیل اللہکی آواز لگی تو یہ نکاح کا سامان لینے کے بجائے سامانِ جہاد خرید کر جہادمیں شریک ہو ئے اور وہاں شہید ہوگئے، اس قصہ کے آخر میں ہےکہان کی شہادت کے بعد آپﷺ نے فرمایا: ’’میرا اس سے چہرا پھیرنااس وجہ سے تھا کہ میں نے حور عین بیویوں کو دیکھا جوکھلی پنڈلیوں اورآشکارہ پازیب کے ساتھ تیزی سے اس کی جانب آرہی تھیں، چنانچہ میں نے حیاء کی وجہ سے ان سے چہرا پھیر لیا ‘‘۔
روایت : نبی کریم ﷺ کا گہوارے میں چاند سے گفتگو کرنا،اور آپ ﷺ کی انگلی کے اشارے سے چاند کا حرکت کرنا۔
روایت : حبیب بن مالک کا آپ ﷺ سے شقِ قمر کا معجزہ طلب کرنااور آپ ﷺ کی برکت سے اس کی بیٹی سطیحہ کا ٹھیک ہونا۔