روایت: ’’إن الشاب المؤمن لو يقسم على الله تعالى لأبره‘‘.اگر مومن نوجوان اللہ تعالی پر کسی بات کی قسم کھالے تو اللہ تعالیٰاس کی قسم کو ضرور پورا فرماتے ہیں۔
حکم: حافظ ابو حاتم l کی صراحت کے مطابق یہ الفاظ صحابئ رسول ﷺابو الولید عتبہ بن عبد سلمی r کا قول ہے، اس لئے اسے صرف انہی کی جانبمنسوب کرنا چاہیے، اسے آپ ﷺ کی جانب منسوب کرنا درست نہیں ہے۔
تفصیل
روایت پر ائمہ کا کلام
حوالہ جات
[1] علل الحديث لابن أبي حاتم:5/108،رقم:1842،ت:خالد بن عبدالرحمن،مکتبة الملک الفهد ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۲۷هـ .
[2] علل الحديث لابن أبي حاتم:5/108،رقم:1842،ت:خالد بن عبدالرحمن،مکتبة الملک الفهد ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴۲۷هـ .
[3] مسند الشاميين:2/429،رقم:1629،ت:حمدي عبد المجيد السلفي،مؤسسة الرسالةـ بيروت،الطبعة الأولى 1409 هـ . .
[4] الزهد لابن المبارك:ص:117،رقم:348،ت:حبيب الرحمن الأعظمي،مؤسسةالريان ـ بيروت .
[5] الزهد لأبي داؤد:ص:339،رقم:410،ت:أبو تميم ياسر بن إبراهيم بن محمد،دار المشكاة ـ القاهرة، الطبعة الأولى1414هـ .
[6] الصحيح للبخاري:6/52،ت:محمد زهير بن ناصر الناصر،دار طوق النجاة ـ بيروت،الطبعة الأولى 1422هـ .
ملتی جلتی احادیث
روایت: ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا:’’ اے اللہ کے رسول! کیا میرا کالا رنگ اور میرے چہرے کی بد صورتیمیرے جنت میں داخلے سے مانع ہے‘‘، اس قصہ میں یہ بھی ہے کہ یہصحابی r اپنے نکاح کا سامان خریدنے بازار گئے، جہاں جہاد فی سبیل اللہکی آواز لگی تو یہ نکاح کا سامان لینے کے بجائے سامانِ جہاد خرید کر جہادمیں شریک ہو ئے اور وہاں شہید ہوگئے، اس قصہ کے آخر میں ہےکہان کی شہادت کے بعد آپﷺ نے فرمایا: ’’میرا اس سے چہرا پھیرنااس وجہ سے تھا کہ میں نے حور عین بیویوں کو دیکھا جوکھلی پنڈلیوں اورآشکارہ پازیب کے ساتھ تیزی سے اس کی جانب آرہی تھیں، چنانچہ میں نے حیاء کی وجہ سے ان سے چہرا پھیر لیا ‘‘۔
روایت: ’’علامة إعراض الله تعالى عن العبد اشتغاله بما لا يعنيه‘‘. بندہ کا غیر ضروری باتوں میں مشغول ہونا بندہ کی طرف سےاللہ تعالی کے منہ پھیر لینے کی علامت ہے۔
روایت: ’’جس نےجنازے کو چاروں جانب سے اٹھایا ( کندھا دیا)تو اللہ تعالیٰ اس کے چالیس کبیرہ گناہ مٹادیں گے‘‘۔
روایت: حضرت لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا: اے بیٹے!علماء کی مجالس کو لازم پکڑو، حکماء کے کلام کو سنو، اس لئے کہ اللہ تعالیمردہ دل کو حکمت کے نور سے ایسے زندہ کرتے ہیں جیسےبارش کے قطروں سے مردہ زمین کو زندہ کرتے ہیں۔
روایت: جب تم کسی شہر جاؤ تو وہاں کی پیاز کھاؤ،بیماریاں تم سےدور کردی جائیں گی۔