روایت: ’’ کالا جوتا پہننا نسیان کا باعث ہے‘‘، اس بارے میں کوئی حدیث وغیرہ نظر میں نہیں ہے۔
تفصیل
’’سوال: حضرت میں نےآپ سے یہ سنا کہ کالا جوتا پہننا مکروہ ہے، یہ کہا ں ہے اور وجہ کیا ہے؟
جواب: مجھے یہ یاد نہیں ہے کہ میں نے یہ کبھی کہا ہو کہ کالا جوتا پہننا مکروہ ہے، البتہ میں یہ کہا کرتا ہوں کہ علامہ سخاوی l نے بعض سے نقل کیا ہے کہ کالا جوتا مورثِ نسیان ہے۔
علامہ مذکور اپنی کتاب ’’المقاصد الحسنۃ‘‘ (ص: ۴۰۸) میں تحریر فرماتے ہیں: ×وتزعم العامة أن لبس النعال السود يورث النسيان÷. [عام لوگوں کا خیال ہے کہ کالا جوتا پہننا مورثِ نسیان ہے] اس بارے میں کوئی حدیث وغیرہ نظر میں نہیں ہے، نہ علامہ مذکور نے تحریر فرمائی ہے، یہ سب چیزیں تجرباتی ہیں ۔
اگر اس کے علاوہ آپ کو کوئی تحقیق ہو تو تحریر فرمائیں ممنون ہوں گا‘‘[1]۔
حوالہ جات
[1] الیواقیت الغالیۃ:کالا جوتا پہننا کیسا ہے؟۲/۶۱۔
حافظ سخاوی l ’’المقاصد الحسنۃ‘‘ (ص:۵۰۷،رقم:۱۲۴۰)میں مذکورہ روایت بحوالہ ابو عثمان عمرو بن بحر الجاحظ (المتوفی: ۲۵۵) نقل فرماکر،اسی طرح مورثِ نسیان چند اور چیزیں ذکر کرکے تحریر فرماتے ہیں : ’’ولا يصح في المرفوع شيء‘‘. یعنی ایسی کوئی چیز آپ ﷺ سے صحیح نہیں ہے،علامہ عجلونی l نے ’’ کشف الخفاء‘‘ (۲/۳۷۵،رقم:۲۷۹۸)میں حافظ سخاوی l کے قول کو نقل کرنے پر اکتفاء کیا ہے ۔
حافظ ابوبکر ابن المقرئ l نے اپنی ’’معجم‘‘ (ص:۴۰۳،رقم:۱۳۳۱)میں اس جیسی روایت ابو نصر یحیی بن ابی کثیریمامی (المتوفی:۱۳۲ھ او قبلہ )کے قول کے طور پر نقل کی ہے،ملاحظہ ہو: ’’حدثنا هيثم، ثنا أحمد الدَوْرَقِي، حدثنا شبابة، حدثنا أيوب بن عتبة، سمعت يحيى بن أبي كثير، يقول: كان يقال: إياكم وهذه النعال السود، فإنها تورث الهم‘‘.
ملتی جلتی احادیث
روایت: ناخن کاٹنے کا یہ طریقہ، حدیث میں نہیں ہے، البتہ امام نَوَوِی l کی رائے ہے کہ اس طرح کاٹا جائے۔
روایت: ’’سنت نے کافر، بدعتی اور فاسق کو خاص کر دیا ہے ۔۔۔ ان کو سلام کا جواب دینا واجب نہیں ہے‘‘، ان لفظوں کے ساتھ کوئی حدیث میرے علم میں نہیں۔
روایت: ’’مجھے میرے رب نے تعلیم دی اور مجھے علم میں خوب اچھا بنایا، مجھے میرے رب نے ادب سکھایا اور مجھے ادب میں خوب اچھا بنایا‘‘، جملہ اول تو کہیں نہیں دیکھا، البتہ دوسرے جملے کے بارے میں حافظ ابن تیمیہ l وحافظ سخاوی l فرماتے ہیں کہ اس کی کوئی ثابت سند نہیں ہے۔
روایت: ’’جو شخص کسی مالدار کے پاس آکر اس کے سامنے خاکساری کرے تو اس کا دو تہائی دین چلا گیا‘‘، یہ واہی (شدید ضعیف) ہے۔
روایت: ’’مومن کے جھوٹے میں شفاء ہے‘‘، یہ لفظ حدیث کی کسی کتاب میں نہیں ہے،لیکن علامہ سخاوی l وغیرہ کا خیال ہے کہ اس کا مضمون صحیح ہے۔