التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: حضرت مولانا محمد یونس جونپوری صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا من گھڑت روایات پر تعاقب

روایت: ناخن کاٹنے کا یہ طریقہ، حدیث میں نہیں ہے، البتہ امام نَوَوِی l کی رائے ہے کہ اس طرح کاٹا جائے۔

تفصیل

’’سوال:  ناخن کاٹنے کی ترتیب کیا ہے؟

جواب: ناخن کاٹنے میں کوئی ترتیب حدیث میں نہیں آئی ہے، امام نَوَوِی l کی رائے ہے کہ دائیں ہاتھ کے شہادت کی انگلی سے شروع کرے اور ترتیب وار چھوٹی تک کاٹتا جائے، پھر انگوٹھے کا کاٹے اور بائیں ہاتھ میں چھوٹی انگلی سے شروع کرے اور انگوٹھے پر ختم کرے‘‘[1]۔

حوالہ جات

[1] الیواقیت الغالیۃ :جمعہ کے دن سرمہ لگانا ثابت ہے....،۲/۴۱۵۔

حافظ ابن حجر l’’فتح الباری‘‘ (باب قص الشارب،۱۰/ ۳۴۵) میں لکھتے ہیں : ’’لم يثبت في ترتيب الأصابع عند القص شيء من الأحاديث‘‘.انگلیوں کے ناخن کاٹنے کی ترتیب سے متعلق احادیث میں کچھ بھی ثابت نہیں ہے، حافظ ابن حجر l نےحافظ ابن دقیق العید l کے حوالہ سے بھی ’’فتح الباري‘‘ میں اس خاص طریقے کے ’’بے اصل‘‘ ہونے کی جانب اشارہ فرمایا ہے،عبارت ملاحظہ ہو: ’’وقد أنكر بن دقيق العيد الهيئة التي ذكرها الغزالي ومن تبعه وقال: كل ذلك لا أصل له، وإحداث استحباب لا دليل عليه، وهو قبيح عندي بالعالم، ولو تخيل متخيل أن البداءة بمسبحة اليمنى من أجل شرفها فبقية الهيئة لا يتخيل فيه ذلك، نعم البداءة بيمنى اليدين ويمنى الرجلين له أصل، وهو كان يعجبه التيامن‘‘.

حافظ سخاوی l نے بھی ’’المقاصد الحسنۃ ‘‘ (ص:۳۵۳،رقم:۷۷۰)میں یہی لکھا ہے کہ ناخن کاٹنے کا کوئی طریقہ نبیﷺ سے ثابت نہیں ہے،عبارت ملاحظہ ہو: ’’حديث: قص الأظفار، لم يثبت في كيفيته ولا في تعيين يوم له عن النبي صلى الله عليه وسلم شيء، وما يعزى من النظم في ذلك لعلي رضي الله عنه، ثم لشيخنا رحمه الله فباطل عنهما، وقد أفردت لذلك مع بيان الآثار الواردة فيه جزءا‘‘.

حافظ سخاوی lکے قول پر علامہ عجلونی l نے ’’ كشف الخفاء‘‘ (۲/ ۱۱۳،رقم:۱۸۷۵)میں،امام شوکانی lنے ’’الفوائد المجموعۃ‘‘(۱/ ۲۴۸،رقم:۵۶۹)میں،ملاعلی قاری l نے ’’الاسرار المرفوعۃ‘‘ (ص:۲۵۷،رقم:۳۲۹)میں،علامہ پٹنی lنے ’’تذكرة الموضوعات‘‘ (ص:۱۶۰)میں،اورعلامہ قاؤقجی lنے ’’اللؤلؤ المرصوع ‘‘ (ص:۱۳۳، رقم:۳۷۱)میں اکتفاء کیا ہے ۔