روایت: ناخن کاٹنے کا یہ طریقہ، حدیث میں نہیں ہے، البتہ امام نَوَوِی l کی رائے ہے کہ اس طرح کاٹا جائے۔
تفصیل
’’سوال: ناخن کاٹنے کی ترتیب کیا ہے؟
جواب: ناخن کاٹنے میں کوئی ترتیب حدیث میں نہیں آئی ہے، امام نَوَوِی l کی رائے ہے کہ دائیں ہاتھ کے شہادت کی انگلی سے شروع کرے اور ترتیب وار چھوٹی تک کاٹتا جائے، پھر انگوٹھے کا کاٹے اور بائیں ہاتھ میں چھوٹی انگلی سے شروع کرے اور انگوٹھے پر ختم کرے‘‘[1]۔
حوالہ جات
[1] الیواقیت الغالیۃ :جمعہ کے دن سرمہ لگانا ثابت ہے....،۲/۴۱۵۔
حافظ ابن حجر l’’فتح الباری‘‘ (باب قص الشارب،۱۰/ ۳۴۵) میں لکھتے ہیں : ’’لم يثبت في ترتيب الأصابع عند القص شيء من الأحاديث‘‘.انگلیوں کے ناخن کاٹنے کی ترتیب سے متعلق احادیث میں کچھ بھی ثابت نہیں ہے، حافظ ابن حجر l نےحافظ ابن دقیق العید l کے حوالہ سے بھی ’’فتح الباري‘‘ میں اس خاص طریقے کے ’’بے اصل‘‘ ہونے کی جانب اشارہ فرمایا ہے،عبارت ملاحظہ ہو: ’’وقد أنكر بن دقيق العيد الهيئة التي ذكرها الغزالي ومن تبعه وقال: كل ذلك لا أصل له، وإحداث استحباب لا دليل عليه، وهو قبيح عندي بالعالم، ولو تخيل متخيل أن البداءة بمسبحة اليمنى من أجل شرفها فبقية الهيئة لا يتخيل فيه ذلك، نعم البداءة بيمنى اليدين ويمنى الرجلين له أصل، وهو كان يعجبه التيامن‘‘.
حافظ سخاوی l نے بھی ’’المقاصد الحسنۃ ‘‘ (ص:۳۵۳،رقم:۷۷۰)میں یہی لکھا ہے کہ ناخن کاٹنے کا کوئی طریقہ نبیﷺ سے ثابت نہیں ہے،عبارت ملاحظہ ہو: ’’حديث: قص الأظفار، لم يثبت في كيفيته ولا في تعيين يوم له عن النبي صلى الله عليه وسلم شيء، وما يعزى من النظم في ذلك لعلي رضي الله عنه، ثم لشيخنا رحمه الله فباطل عنهما، وقد أفردت لذلك مع بيان الآثار الواردة فيه جزءا‘‘.
حافظ سخاوی lکے قول پر علامہ عجلونی l نے ’’ كشف الخفاء‘‘ (۲/ ۱۱۳،رقم:۱۸۷۵)میں،امام شوکانی lنے ’’الفوائد المجموعۃ‘‘(۱/ ۲۴۸،رقم:۵۶۹)میں،ملاعلی قاری l نے ’’الاسرار المرفوعۃ‘‘ (ص:۲۵۷،رقم:۳۲۹)میں،علامہ پٹنی lنے ’’تذكرة الموضوعات‘‘ (ص:۱۶۰)میں،اورعلامہ قاؤقجی lنے ’’اللؤلؤ المرصوع ‘‘ (ص:۱۳۳، رقم:۳۷۱)میں اکتفاء کیا ہے ۔
ملتی جلتی احادیث
[قرنِ صحابہ گذر جانے کے بعد کسی جن صحابی کے دیکھنے سے برتقدیرِ صحت میری ناقص رائے میں تابعیت کا شرف حاصل نہ ہوگا، اس لئے کہ یہ فضیلت قرن کے ساتھ خاص ہے]
روایت: ’’مومن کے جھوٹے میں شفاء ہے‘‘، یہ لفظ حدیث کی کسی کتاب میں نہیں ہے،لیکن علامہ سخاوی l وغیرہ کا خیال ہے کہ اس کا مضمون صحیح ہے۔
روایت: ’’دنیا کے واسطے عمل اس طرح کر، گویا کہ تو ہمیشہ زندہ رہے گا، اور آخرت کے واسطے عمل اس طرح کر گویا کہ تو کل مرنے والا ہے‘‘،یہ روایت ان لفظوں سے حدیث نہیں ہے،بلکہ اقوالِ سلف میں سے ہے۔
روایت: ’’ گناہ، کفر کا قاصد ہے‘‘۔
میرا (حضرت جونپوری lکا)خیال یہ ہے کہ یہ حدیث نہیں ہے۔
اذان کے بعددعائے وسیلہ میں لفظ ×الدرجة الرفيعة÷ مجموعی طور پر ثابت نہیں ہے،اسی طرح ×وارزقنا شفاعته يوم القيامة÷ کے الفاظ بھی کہیں نہیں ملے، ہاں اس کے ہم معنی الفاظ وارد ہیں۔