روایت: ’’سنت نے کافر، بدعتی اور فاسق کو خاص کر دیا ہے ۔۔۔ ان کو سلام کا جواب دینا واجب نہیں ہے‘‘، ان لفظوں کے ساتھ کوئی حدیث میرے علم میں نہیں۔
تفصیل
’’سوال: ’’جلالین‘‘ میں ہے: ×وخصت السنة الكافر والمبتدع والفاسق - إلى قوله - لايجب الرد عليهم بل يكره (في تفسير: وإذا حييتم بتحية فحيوا باحسَنَ منها. پ:۵ رکوع: ۸، جلالین، ص: ۸۳/۱)÷. [سنت نے کافر، بدعتی اور فاسق کو خاص کردیا ہے ۔۔۔۔ کہ ان کو سلام کا جواب دینا واجب نہیں ہے، بلکہ مکروہ ہے]
دریافت طلب بات یہ ہے کہ فاسق کا لفظ حدیث میں ہے، یا علماء کبار کا استنباط ہے؟ جیسا کہ ’’تقویۃ الایمان‘‘ میں مولانا اسماعیل شہیدl (ص: ۳۰۸) پر تحریر فرماتے ہیں :
×عن عبد الله بن عمر رضي الله تعالى عنه قال: مر رجل وعليه ثوبان أحمران، فسلم على النبي صلى الله عليه وسلمفلم يرد عليه. رواه أبو داود والترمذي÷. [عبد اللہ بن عمر r سے مروی ہے کہ ایک شخص جو دو سرخ کپڑے پہنے ہوئے تھا، اس نے نبی ﷺ کو سلام کیا، لیکن آپ ﷺ نے اسے سلام کا جواب نہیں دیا، اسے ابو داؤد l وترمذی l نے تخریج کیا ہے]
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ فاسق وفاجر کو سلام کا جواب دینا اچھا نہیں تاکہ باز آجائے، پھر محبت اور دوستی کا تو ذکر ہی کیا ہے، اھ۔
×وكما في البخاري(ص: ۹۲۵/۲): باب من لم يسلم على من افترف ذنبا ولم يرده حتى يتبين توبته÷. [اور جیسا کہ ’’بخاری‘‘ میں ہے: یہ باب ہے اس شخص کے بارے میں جو گناہ کا ارتکاب کرنے والے كو سلام نہ کرے اور نہ ہی اسے سلام کا جواب دے، حتیٰ کہ اس کی توبہ واضح ہوجائے]
ویسے حدیث: ×تطعم الطعام، وتقرأ السلام على من عرفت ومن لم تعرف÷. [کھانا کھلاؤ، اور سلام کرو خواہ تم اسے پہچانتے ہو یا نہیں] تو مطلق ہے، کیا اس حدیث کی وجہ سے فاسق وفاجر کو سلام نہیں کرسکتے ہیں؟
اگر کرسکتے ہیں تو پھر حضرت گنگوہی l ’’فتاوی رشیدیہ‘‘ میں یہ کیوں تحریر فرمارہے ہیں: حقوقِ اسلام قرآن وحدیث صرف انہیں لوگوں کے واسطے ہے جو نیک اور پرہیزگار ہیں، فاسق وفاجر سے بالکل انقطاع چاہیئے، لہٰذا فاسق وفاجر کی شرکتِ جنازہ عیادت مریض نہ کرے ۔
سوال یہ ہے کہ حضور والا حضرت گنگوہی l کی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں یا اختلاف؟ اگر اتفاق کرتے ہیں تو پھر بڑے بڑے علماءاکرام فاسق وفاجر کی جنازہ سے کیوں نہیں گریز کرتے ہیں؟ مجوزین کے دلائل کیا ہیں؟
حضرت! دل کی بات کیا بتاؤں، ڈاڑھی منڈا اور پتلون پہننے والے اور تارکِ صلوۃ وصوم ونحوہم من الآثام سے قطعاً طبیعت نہیں چاہتی ہے کہ سلام کروں یا پھر جواب ہی دوں، مذکورہ بالاباتیں کرنا (ياَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوْا اتَّقُوا اللهَ وَكُوْنُوْا مَعَ الصَّادِقِيْنَ). أی: نية وقولا وعملا كما في روح المعاني (رکوع: ۴، پ: ۱۱) [اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ رہو، یعنی نیت، قول، عمل کے اعتبار سے، جیسا کہ ’’روح المعانی‘‘ میں ہے] کے بھی خلاف ہے، ویسے آپ جو مشورہ دیں گے عمل کروں گا ۔
جواب: ×خصت السنة الكافر والمبتدع والفاسق÷. [سنت نے کافر، بدعتی اور فاسق کو خاص کردیا ہے] بایں الفاظ میرے علم میں کوئی حدیث نہیں، آپ نے جو مطلب سمجھا ہے وہی مراد ہے، کسی حدیث سے کافر،اور کسی سے فساق ومبتدعین کا مسئلہ ثابت ہوتا ہے، اور ’’فتاوی رشیدیہ‘‘ میں جو کچھ لکھا ہے وہی حکم ہے، نصوص مطلقہ دوسرے نصوص سے مقید کی جائیں گی، ہاں! اگر مصلحت مثلاً دفع شر یا تالیفِ قلب ہو تو اس کی گنجائش ہے[1]۔
حوالہ جات
[1]الیواقیت الغالیۃ:کیا فاسق کو سلام کرسکتے ہیں؟۲/۳۹۷۔
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’اگر کوئی شخص جماعت کا رہبر ہوگا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ رہبر بنا کر جنت میں لےجائیں گے‘‘،ان لفظوں کے ساتھ یہ حدیث نہیں ملی۔
روایت: ’’مؤمن کے دل کو خوش کرنا ساٹھ برس کی عبادت سے بہتر ہے‘‘، یہ حدیث ان لفظوں کے ساتھ اب تک نہیں ملی، غالباً اس کا مضمون ایک دوسری حدیث سے ماخوذ ہے۔
[قرنِ صحابہ گذر جانے کے بعد کسی جن صحابی کے دیکھنے سے برتقدیرِ صحت میری ناقص رائے میں تابعیت کا شرف حاصل نہ ہوگا، اس لئے کہ یہ فضیلت قرن کے ساتھ خاص ہے]
روایت: ’’دنیا کے واسطے عمل اس طرح کر، گویا کہ تو ہمیشہ زندہ رہے گا، اور آخرت کے واسطے عمل اس طرح کر گویا کہ تو کل مرنے والا ہے‘‘،یہ روایت ان لفظوں سے حدیث نہیں ہے،بلکہ اقوالِ سلف میں سے ہے۔
روایت: ’’نکاح میری سنت میں سے ہے، جس نے میری سنت سے اعراض کیا، وہ مجھ سے نہیں ہے‘‘، یہ الفاظ مجموعی طور پر کہیں نہیں ہیں، بلکہ دو حدیثوں سے مرکب ہیں۔