روایت: ’’جو شخص کسی مالدار کے پاس آکر اس کے سامنے خاکساری کرے تو اس کا دو تہائی دین چلا گیا‘‘، یہ واہی (شدید ضعیف) ہے۔
تفصیل
’’سوال: ایک حدیث کی ضرورت پیش آئی اس لئے پرچہ لکھوا رہا ہوں، اس میں اس قسم کا مضمون ہے کہ جو کسی مالدار کی طرف اس کے مال کی وجہ سے جھکے فهو کذا وکذا، یاد تو یہ ہے کہ اس نے اپنے دین کو نقصان پہنچایا، حوالہ مطلوب ہے ۔
جواب: مخدومی وسیدی مدظلہم العالی [یعنی حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب l]
حدیث مذکورعلامہ سخاوی l نے ’’المقاصد الحسنہ‘‘ میں بحوالہ ’’شعبِ بیہقی‘‘ حضرت ابن مسعود r سے مرفوعاً بایں لفظ نقل کی ہے :
×من خضع لغني أو [كذا في الأصل، وفي نسختنا: و] وضع له نفسه إعظاما له وطمعا فیما قِبَلَه، ذهب ثلثا مُرُوْءَتِه وشطر دينه [عن ابن مسعود من قوله]. وفي لفظ: من دخل على غني فتضعضع له ذهب ثلثا دينه [ عن ابن مسعود مرفوعا].
وللطَبَرَاني في الصغیر من حدیث أنس مرفوعا: من تضعضع لغني لینال مما في یدیه أسخط الله عز وجل . وفي لفظ: من تضعضع لغني لینال فضل ما عنده أحبط الله تعالى عمله .
وهما واهيان جدا، حتى أن ابن الجوزي ذكرهما في الموضوعات مختصرا÷[1].‘‘
[(خلاصہ یہ کہ) یہ روایت مختلف صحابہ سے مختلف الفاظ کے ساتھ منقول ہے، چنانچہ حضرت عبد اللہ بن مسعود r سے منقول مرفوع روایت میں ہے: جو شخص کسی مالدار کے پاس آکر اس کے سامنے خاکساری کرے تو اس کا دو تہائی دین چلا گیا۔
حضرت انس بن مالک r کی حدیث میں ہے: جس نے کسی مالدار کے سامنے اس لئے خاکساری اختیار کی تاکہ وہ اس کے ہاتھوں کچھ حاصل کر لےتو اس شخص نے اللہ عز وجل کو ناراض کردیا۔ نیز حضرت انس بن مالک r ہی سے یہ الفاظ بھی منقول ہیں کہ ’’اللہ تعالیٰ ایسے شخص کے عمل کو غارت کر دیں گے‘‘۔
حافظ سخاوی l یہ دونوں روایتیں نقل کرکے لکھتے ہیں: یہ دونوں ’’شدید واہی‘‘ روایتیں ہیں، حتی کہ ابن جوزی l نے انھیں ’’موضوعات‘‘ میں ذکر کیا ہے]
حوالہ جات
[1] الیواقیت الغالیۃ: جو شخص کسی مالدار کی طرف جھکے، کہاں ہے؟ ۱/۲۰۲۔
یہ روایت حضرت ابوذر r سے بھی منقول ہے،جسے امام شوکانی l نے ’’الفوائد المجموعۃ ‘‘ (۱/ ۳۰۰، رقم:۷۱۵) میں موضوع کہا ہے،الفاظ یہ ہیں: جوفقیر مال کی بناء پر کسی غنی کے سامنےتواضع اختیار کرے اس پر اللہ کی لعنت ہو ۔ اسی طرح اس مضمون کی روایت حضرت ابو ہریرہ r سے بھی منقول ہے،جسے حافظ سخاوی l ہی نے ’’المقاصد الحسنۃ‘‘ (ص:۴۶۷، رقم:۱۱۰۰) میں ’’واہی‘‘ کہاہے، روایت کے الفاظ یہ ہیں : جس نے دنیاوی غرض سے کسی بادشاہ کے سامنے خاکساری کی اللہ تعالیٰ اس سے اعراض فرمالیتے ہیں ۔
حاصل یہ کہ اس روایت کی مرفوع سندیں واہی ہیں، حافظ سخاوی l مرفوعا ًروایت کو واہی قرار دینے کے بعد لکھتے ہیں: ’’نعم عند البيهقي من حديث وهب بن منبه قال: قرأت في التوراة، وذكر نحوه‘‘. البتہ امام بیہقی l نے وہب بن منبہ l سے نقل کیا ہے کہ میں نے تورات میں پڑھا ہے، اس کے بعد وہب l نے زیربحث جیسی روایت ذکر کی ۔
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’قیامت میں لوگوں کو ان کی ماؤں کے نام کے ساتھ پکارا جائےگا‘‘، یہ سنداً شدید ضعیف ہے، نیز صحیح روایت سے بھی معارض ہے۔
۷ - جزء نصف شعبان روزے کی فضیلت
خاص نصف شعبان کے روزے کی فضیلت پر مشتمل مشہور روایت کو اگرچہ قطعی طور پر موضوع نہ کہا جاسکے لیکن بطریق ظن غالب اس کو موضوع کہا جاسکتا ہے،اور اگر اس کو ضعیف ہی قراردیا جائے تو بھی یہ حدیث شدید ضعیف ہونے کی وجہ سے ناقابلِ عمل ہے۔
روایت: ’’جب آنحضرت ﷺ داڑھی میں تیل لگاتے تھے تو پہلے دونوں آنکھوں پر لگاتے تھے‘‘، یہ روایت نہیں ملی،البتہ یہ روایت کہ: ’’آپ ﷺ جب داڑھی میں تیل لگاتے تھے تو داڑھی بچہ سے شروع فرماتے‘‘،شدید ضعیف ہے۔
۳ - اس کے تحت دو اجزاء ہیں
’’تختم بالعقیق‘‘(عقیق کی انگوٹھی پہننے)کے بارےمیں منقول روایات سب واہی ہیں،اورمحققین ناقدین ان روایات کوبے اصل اورموضوع کہتےہیں۔