روایت: ”چالیس دن مسلسل گوشت کھانے سے دل پر سختی آجاتی ہے “، یہ حدیث نہیں۔
تفصیل
ایک صاحب نے سوال کیا کہ کیا حدیث شریف میں یہ ہے کہ چالیس دن مسلسل گوشت کھانے سے دل پر سختی آجاتی ہے۔ [حضرت تھانوی l نے] فرمایا کہ حدیث شریف میں تو نہیں،بعض بزرگوں کا قول ہے، اور یہ بھی بزرگوں کا قول ہے کہ مسلسل نہ کھانے سے بھی دل سخت ہوجاتا ہے، غرض ہر چیز میں اعتدال مطلوب ہے[1]۔
حوالہ جات
[1] ملفوظات حکیم الامت : مسلسل چالیس دن گوشت کھانا یانہ کھانا برابر ہیں، ۲/۱۸۷، ادارہ تالیفات اشرفیہ، ملتان ۔
امام غزالی ؒ نے ”احياء علوم الدين“(۸/ ۱۵۱۱) میں اسے حضرت علی ؓ کا قول کہہ کر نقل کیا ہے،الفاظ یہ ہیں: {وقال علي كرم الله وجهه: من ترك اللحم أربعين يوما ساء خلقه، ومن داوم عليه أربعين يوما قسا قلبه}.
اس قول کے پہلے حصے (من ترك اللحم أربعين يوما ساء خلقه) کے بارے میں حافظ ابن عراق ؒ ”تنزيہ الشريعہ“(۲/۲۶۲) میں، اور علامہ محمد بن طاہر پٹنی ؒ ”تذكرة الموضوعات“(ص:۱۴۶) میں اس طرف مائل ہیں کہ یہ آپ ﷺ کا قول نہیں ہے۔
ملتی جلتی احادیث
حکایت : ”عصر اور مغرب کے درمیان کھانے والے شخص کو مرتے وقت عصر کا وقت نظر آتا ہے، اس کے سامنے شیطان پیشاب کا پیالہ لاتا ہے، تو یہ شخص اس وقت کھانے کا عادی ہونے کی وجہ سے اسے پی جائے گا“، یہ بالکل غلط اور جھوٹ بات ہے۔
روایت: ”اے علی r!تمھارا گوشت میرا گوشت ہے، اور تمھارا خون میرا خون ہے “، یہ حدیث ثابت نہیں۔
کسی کا کلام یا کتاب سننے یا دیکھنے سے اس کے مصنف کا خفی اثر قلب پر پڑتا ہے۔
جو کشف قرآن وحدیث کے خلاف ہو، وہ بالکل غلط ہے۔
حکایت: ”چاند اور سورج کے گہن کے وقت کھانا پینا منع ہے“، اس کی کوئی اصل نہیں۔