روایت: ”اے علی r!تمھارا گوشت میرا گوشت ہے، اور تمھارا خون میرا خون ہے “، یہ حدیث ثابت نہیں۔
تفصیل
”ایک فرقہ ضالہ نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی خلافت بلافصل، ایک حدیث سے ثابت کی ہے ، جس میں حضرت کی نسبت {لحمك لحمي ودمك دمي} [یعنی اے علیr! تمہارا گوشت میرا گوشت ہے، اور تمھارا خون میرا خون ہے] آیا ہے، اور استدلال اس طرح کیا ہے کہ حضرتعلی r عینِ رسول اللہ ﷺ ہیں، اس لئے ان کے ہوتے ہوئے کسی دوسرے کو خلافت کا استحقاق نہیں تھا، اس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ یہ حدیث ثابت نہیں، دوسرے میں کہتا ہوں کہ اگراس سے عینیتِ حقیقیہ مراد ہے تو اس سے حضرت علی r کی خلافت ہی کی نفی ہوتی ہے، کیونکہ خلیفہ تو غیر ہی ہونا چاہیے کوئی شخص خود خلیفہ نہیں ہوا کرتا ۔۔۔“[1]۔
حوالہ جات
[1] اشرف الجواب : باب دوم ،گمراہ فرقہ کا غلط دعویٰ، ص : ۷۰، دارالاشاعت،کراچی ۔
امام جوزقانی ؒ نے” الاباطيل والمناكير“(رقم:۱۶۵)میں اسے منکر
کہا ہے،نیز حافظ ابن جوزی ؒ،حافظ ذہبیؒ،اور حافظ
ابن عرّاق ؒکے کلام سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایت ثابت نہیں
ہے،دیکھئے: ”العلل المتناہيہ“(رقم:۳۳۲)،
”ميزان الاعتدال“(رقم:۲۵۸۷ و۱۸۷۹)، ”تنزيہ الشريعہ“(۱/۴۰۳)۔
ملتی جلتی احادیث
روایت: ”چالیس دن مسلسل گوشت کھانے سے دل پر سختی آجاتی ہے “، یہ حدیث نہیں۔
روایت: ”میں اس بات پر خدا کا شکر کرتا ہوں کہ وہ میری رسالت اور علی rکی ولایت سے راضی ہے“، یہ بالکل غلط روایت ہے۔
اذان میں انگوٹھے چومنا کسی معتبر روایت سے ثابت نہیں۔
کسی من گھڑت روایت کے بارے میں یہ اعتقاد رکھنا کہ یہ قرآن و حدیث میں آئی ہے، افتراء علی الشرع ہے اور محض جہالت اور بدعت ہے۔
روایت: ”فقر، میرا فخر ہے“، غلط اور موضوع ہے۔