حکایت: ”چاند اور سورج کے گہن کے وقت کھانا پینا منع ہے“، اس کی کوئی اصل نہیں۔
تفصیل
مشہور ہے کہ چاند اور سورج کے گہنے [كذا في الأصل] کے وقت کھانا پینا منع ہے تو اس کی بھی کوئی اصل نہیں، البتہ وہ وقت توجہ الی اللہ کا ہے، اسی وجہ سے کھانے پینے کا شغل ترک کر دینا اور بات ہے، رہا یہ کہ دنیا کے اور کاروبار بلکہ گناہ تک تو کرتا رہے اور صرف کھانا پینا چھوڑ دے،یہ شریعت کو بدل ڈالنا اور بدعت ہے[1]۔
حوالہ جات
[1] غلط مسئلے :متفرق غلط وفاسد خیالا ت ومسائل، ص :۲۳، عمران اکیڈمی، لاہور ۔
ملتی جلتی احادیث
”روایت کہ آپ ﷺ نے بلی کو ڈرانے کے لئے روئی کے گالے سے مارا تھا“، یہ درست نہیں ہے۔
حکایت کہ محرم کی دسویں تاریخ کا روزہ نہ رکھیں، کیونکہ یزید کی ماں نے روزہ رکھا تھا، یہ بھی محض بے اصل ہے۔
حکایت : ”عصر اور مغرب کے درمیان کھانے والے شخص کو مرتے وقت عصر کا وقت نظر آتا ہے، اس کے سامنے شیطان پیشاب کا پیالہ لاتا ہے، تو یہ شخص اس وقت کھانے کا عادی ہونے کی وجہ سے اسے پی جائے گا“، یہ بالکل غلط اور جھوٹ بات ہے۔
روایت: ”بدھ کے روز کتاب شروع کر نے کا اہتمام۔۔۔“،اس بارے میں کوئی روایت ثابت نہیں۔
حضرت شبلی l کی جانب اس حکایت کی نسبت غلط ہے۔