التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا من گھڑت روایات پر تعاقب

روایت: ”میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے نبیوں کی طرح ہیں“، لفظاً منقول نہیں، لیکن معنی صحیح ہے۔

تفصیل

صاحب کلید کا قول: {حدیث: علماء أمتي کأنبیاء بني إسرائیل} [میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے نبیوں کی طرح ہیں] میں [حضرت تھانوی  l]  کہتا  ہوں  کہ  یہ  حدیث  گو  لفظاً  منقول  نہیں ،  لیکن  معنی  صحیح  ہے ،  جیسا  کہ ”مقاصد  حسنہ“ میں  تحقیق  کیا  ہے[1]۔

دوسرے انداز سے

حوالہ جات

[1] التشرف  : ص:۴۱، مکتبہ محبوب  المطابع،  دہلی۔ التشرف  : صاحب کلید کا قول ،  ص  : ۱۴۹،      ادارہ  تالیفات 
اشرفیہ  ، ملتان۔ 

[2] التشرف   : ص:۹۴،مکتبہ محبوب المطابع،دہلی۔ التشرف: فضیلت ِعلماء ،   ص   : ۱۷۶،       ادارہ  تالیفات  اشرفیہ،ملتان۔    

امام سیوطی ؒ نے ”الدرر المنتثرہ“(رقم:۲۹۴) میں،علامہ شوکانی   ؒ نے ”الفوائد المجموعہ“(رقم:۸۹۸) میں، علامہ محمدبن محمد درویشؒ نے  ”اسنى المطالب“ (رقم:۸۸۹) میں،ملا علی قاری ؒ نے ”المصنوع“(رقم:۱۹۶) میں اس روایت(میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے نبیوں کی طرح ہیں)  کو ”بے اصل“ کہا ہے۔