روایت: ”میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے نبیوں کی طرح ہیں“، لفظاً منقول نہیں، لیکن معنی صحیح ہے۔
تفصیل
صاحب کلید کا قول: {حدیث: علماء أمتي کأنبیاء بني إسرائیل} [میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے نبیوں کی طرح ہیں] میں [حضرت تھانوی l] کہتا ہوں کہ یہ حدیث گو لفظاً منقول نہیں ، لیکن معنی صحیح ہے ، جیسا کہ ”مقاصد حسنہ“ میں تحقیق کیا ہے[1]۔
دوسرے انداز سے
حوالہ جات
[1] التشرف : ص:۴۱، مکتبہ محبوب المطابع،
دہلی۔ التشرف : صاحب کلید کا قول ،
ص
: ۱۴۹، ادارہ تالیفات
اشرفیہ ، ملتان۔
[2] التشرف : ص:۹۴،مکتبہ محبوب المطابع،دہلی۔ التشرف: فضیلت ِعلماء ، ص : ۱۷۶، ادارہ تالیفات اشرفیہ،ملتان۔
امام سیوطی ؒ نے ”الدرر المنتثرہ“(رقم:۲۹۴) میں،علامہ شوکانی ؒ نے ”الفوائد المجموعہ“(رقم:۸۹۸) میں، علامہ محمدبن محمد درویشؒ نے ”اسنى المطالب“ (رقم:۸۸۹) میں،ملا علی قاری ؒ نے ”المصنوع“(رقم:۱۹۶) میں اس روایت(میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے نبیوں کی طرح ہیں) کو ”بے اصل“ کہا ہے۔
ملتی جلتی احادیث
روایت: ”جس نے اپنے آپ کو پہچانا اس نے اپنے پروردگار کو پہچان لیا“، آپ ﷺ سے ان الفاظ سے ثابت نہیں، البتہ اس کا معنی صحیح ہے۔
روایت: ”فقر، میرا فخر ہے“، غلط اور موضوع ہے۔
اذان میں انگوٹھے چومنا کسی معتبر روایت سے ثابت نہیں۔
روایت: ”قلب خانۂ خدا ہے“، لفظا ً اس کی کوئی اصل نہیں، البتہ اس کے قریب المعنیٰ ایک دوسری روایت ثابت ہے۔
روایت : ”مؤمن کا لعاب شفا ہے“، اس کے الفاظ
ثابت نہیں، لیکن مضمون صحیح ہے۔