روایت: ”قلب خانۂ خدا ہے“، لفظا ً اس کی کوئی اصل نہیں، البتہ اس کے قریب المعنیٰ ایک دوسری روایت ثابت ہے۔
تفصیل
حدیث : ”قلب خانۂ خدا ہے“۔ [حافظ سخاوی l فرماتے ہیں ] مرفوع میں اس کی کوئی اصل نہیں ۔ میں [حضرت تھانوی l] کہتا ہوں مطلب یہ ہے کہ لفظا ً اس کی کوئی اصل نہیں، کیونکہ ”مقاصد“ کے حرف میم، ما وسعني سمائي إلخ کی تحقیق میں یہ مضمون ہے کہ طبرانی l نے ابو عتبہ [اصل میں اسی طرح ہے البتہ المقاصد الحسنہ کے دستیاب نسخے میں عنبہ ہے] خولانی l سے مرفوعاً روایت کیا ہے کہ ”اہلِ ارض میں اللہ تعالیٰ کے بہت ظروف ہیں، اور تمہارے رب کے ظروف اس کے صالح بندوں کے قلوب ہیں،اور ان سب میں اس کو زیادہ محبوب وہ قلوب ہیں جو سب میں زیادہ نرم اور رفیق ہوں“۔
[حافظ سخاوی l مزیدفرماتے
ہیں ] اور اس کی سند میں بقیہ بن ولید ہے
جو مدلس ہے،لیکن اس نے حدثنی یا حدثنا صریحاً کہا ہے (پھر تدلیس مضر نہیں )۔نیز میں [حضرت تھانوی l] کہتا
ہوں کہ ظروف اور خانہ دونوں معنی قریب قریب ہیں اور دونوں میں ذکر یا محبت وغیرہ
مقدر کیا جا ئے گا (یعنی بیت محبۃ الرب وآنیۃ محبۃ اللہ )
کیونکہ اللہ تعالیٰ اس سے بالاتر ہے کہ وہ کسی شے میں حلول فرمائے، اور اس پر محمول کیا جائے گا بعض عشاق کا یہ قول:
؎ بر تو حسنت الخ
یا اور کوئی قول جس میں انہوں نے کہیں ارض اللہ، کہیں محل تجلی،کہیں اس کا ہم معنی کہہ دیا ہے[1]۔
حوالہ جات
[1] التشرف : ص:۹۶، مکتبہ محبوب المطابع، دہلی۔ التشرف : قلب خانہ خداہے ، ص : ۱۷۷، ادارہ تالیفات اشرفیہ، ملتان۔
حافظ ابن تیمیہ ؒ فرماتے ہیں کہ اس روایت کا آپ ﷺ سے سنداً ثبوت نہیں ہے،دیکھئے: ”مجموع الفتاوى“(۱۸/۷۱)۔ حافظ ابن تیمیہ ؒ کے انتساب سے ملا علی قاری ؒ نے”المصنوع“(رقم:۳۳۱) میں، علامہ ابن عرّاق ؒنے ”تنزيہ الشريعہ“(۱/۱۴۸) میں،علامہ محمد بن طاہر پٹنی ؒ نے ” تذكرة الموضوعات“(ص:۳۰) میں اس روایت کو موضوع قرار دیا ہے، علامہ محمدبن محمد درویشؒ نے ”اسنى المطالب“(رقم:۱۰۲۲) میں، امام سیوطی ؒ نے ”الدرر المنتثرة“(رقم:۳۱۷) میں، علامہ محمدامیر مالکیؒ نے”النخبہ البہيہ“(رقم:۱۰۳)میں اس روایت کو بے اصل کہا ہے۔
ملتی جلتی احادیث
روایت: ”جس نے اپنے آپ کو پہچانا اس نے اپنے پروردگار کو پہچان لیا“، آپ ﷺ سے ان الفاظ سے ثابت نہیں، البتہ اس کا معنی صحیح ہے۔
کسی کا کلام یا کتاب سننے یا دیکھنے سے اس کے مصنف کا خفی اثر قلب پر پڑتا ہے۔
” آپ ﷺ کا ردائے مبارک سو ٹکڑوں میں پھاڑ کر صحابہ رضی اللہ عنہم میں تقسیم کرنا“، یہ روایت ثابت نہیں ہے۔
روایت: ”میں عادل بادشاہ (نوشیرواں) کے زمانے میں پیدا ہوا ہوں“، اس کی کچھ اصل نہیں۔
روایت: ”بلال r ، شین کی جگہ اذان میں سین کہتے تھے“، اس کی کچھ اصل نہیں۔