حضرت سفیان ثوری l مسجد میں ایک بار اپنے سرین اور دونوں قدموں پر بیٹھے تھے، غیب سے آواز آئی کہ اَو ثور!۔۔۔
یہ قصہ محض کسی کا تراشیدہ۔
تفصیل
سوال (۸۲۳) ۔۔۔ کہتا ہے کہ حضرت سفیان ثوری l مسجد میں ایک بار اپنے سرین اور دونوں قدموں پر بیٹھے تھے کہ جناب باری جل جلالہ کی طرف سے عتاب ہوا اور غیب سے آواز آئی کہ اَوثور! (بیل) یہ کیا بے ادبی و گستاخی ہے، اسی دن سے حضرت سفیان ثوری l کے نام کے ساتھ ”ثوری“ کا لفظ اضافہ ہو گیا ۔
الجواب: ۔۔۔ حضرت سفیان l کا قصہ محض کسی کا تراشیدہ، خلاف ِنقل و خلافِ لغت ہے ـ {في القاموس: وثور أبو قبیلة من مضر منهم سفیان بن سعید} [یعنی قاموس میں ہے کہ ثور قبیلۂ مضر کے ایک بڑے کا نام ہے، جن میں سفیان بن سعید بھی ہیں] ـ اور خلاف ِنحو بھی، کیونکہ ثوری پر الف لام آتا ہے ، الثوری۔ اگر ثوری کے وہ معنی ہوتے جو زید نے دعویٰ کیا ہے تو اس ترکیب میں اضافہ معنویہ ہوتے ہوئے الف لام کا داخل ہونا اس پر کس طرح جائز ہوتا؟[1]۔
حوالہ جات
[1] امدا د الفتاویٰ : احکام المسجد ، جواز تربع در مسجد ، ۲/۶۸۸ ، مکتبہ دارالعلوم، کراچی ۔