روایت: آپ ﷺ کا وِصال سے قبل اپنی ذات پر قصاص اور بدلہ دِلوانا۔
حکم: عکاشہ نامی شخص کی جانب منسوب یہ تفصیلی قصہ من گھڑت ہے، البتہ سَواد بن غَزِیّۃ رضی اللہ کے قصاص کا واقعہ ثابت ہے، ذیل میں ملاحظہ فرمائیں۔
تفصیل
خاتم الانبیاء سرورکونین حضرت محمد ﷺ کی حیاتِ مبارکہ کاہر ہر جزء انسانیت ساز پیغام سے لبریزہے۔ آپ کی کمالِ عبدیت رحمتِ عرشِ بریں کا فیضان ہے، جو تاقیامت شریعت اسلامیہ کے محفوظ منہج پر انسانیت کو سامانِ رشدوہدایت پہنچانے کی ضامن ہے، آپ ﷺ کے جامع، معیاری اور نجات دہندہ شب وروز، اسانید وتواتر کے ما مون اور معتبر راستے سے ہم تک پہنچے ہیں، اس لئے عدل وصلاح پر مشتمل، اس اسلامی تا ریخ کو تخلیط و تدلیس کی قطعاً حاجت نہیں، بلکہ دینی علوم میں اس افراط کو سمّ قاتل سمجھا جاتا ہے، چنانچہ جامع العلوم علّامہ عبد الحی لکھنوی l (۱۳۰۴ھ)لکھتے ہیں:
’’ولْیَحذر القصّاص والخُطَباء الأمرون الزَّاجرون حیثُ ینسبون کثیراً مِن الأمور إلی الحَضْرَة المُقَدَّسَة التي لم یَثبُتْ وجودُها فیها، ویَظُنُّون أنَّ في ذلک أجراً عظیماً، لإثبات فضْل ذاتِ المُقَدَّسَة وعُلُوِّ قَدْرِها، ولا یَعْلَمُون أنَّ في الفضائل النَّبَوِیَّة التي ثَبَتَتْ بالأحادیث الصَّحِیحَة غُنْیَةً عن تلک الأکاذیب الواهِیة...‘‘[1].
’’امر و زجر کرنے والے قصہ گو اور خطباء کو اس سے ڈرنا چاہیے کہ وہ حضور اقدس ﷺ کی جانب ایسی بہت سے باتیں منسوب کرتے ہیں جوآپ سے ثابت نہیں ہیں (یعنی معتبر سند سے ثابت نہیں ہے)، اور یہ سمجھتے ہیں کہ اس میں اجر عظیم ہے، کیوں کہ اس میں آپ کی فضیلت اور علو شان کا بیان ہے، اور وہ یہ نہیں جانتے کہ جو فضائل نبویہ احادیث صحیحہ سے ثابت ہیں، وہ ان واہی جھوٹے فضائل سے مستغنی کرنے والے ہیں۔۔۔‘‘۔
آپﷺ کے عدل کی نظیر تلاش کرنا ایک بے سود امر ہے، آپﷺ سراپا انصاف کے پر تو ہیں، جس کا ثبوت اسلامی مُسْنَد روایتیں اور ان کا تواتر ہے، اس لیے شریعت ایسی حکایات کی مداخلت ہرگز برداشت نہیں کرتی جن کا کوئی شرعی ثبوت نہ ہو، بلکہ من گھڑت روایت کوبیان کرنے پر سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں، اس لئے ہماری مجالس میں جہاں اس بات کی ضرورت ہے کہ وہ فکرِ آخرت اور اسلامی تعلیمات سے مزین ہوں، وہاں اسے غیر معتبر اور من گھڑت حکایات سے بچانا بھی اہم ترین فریضہ ہے، چنانچہ اسی مقصد کے پیشِ نظر ذیل میں آپ ﷺ کے عدل وانصاف پر مشتمل ایک ایسی ہی روایت ذکر کی جائے گی، جو من گھڑت ہونے کے باوجود زبان زَدعام ہے، اس لئے اس کو بیان کرنے سے شدت سے احتراز کرنا چاہیے۔
حوالہ جات
[1] الآثار المرفوعة في أخبار الموضوعة:1/12،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[2] المعجم الكبير:2/193،رقم:2610،ت:أبو محمد الأسيوطي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1428هـ .
[3] حلية الأولياء:وهب بن منبه:4/73،ناشر:دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴09هـ .
[4] كتاب الموضوعات:1/297،باب ذكر وفاته صلى الله عليه وسلم،تحقيق:عبد الرحمن محمد عثمان، ناشر:المكتبة السلفية ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى138۸هـ .
[5] مجمع الزوائد ومنبع الفوائد:11/605،رقم:13253،ت:عبد الله محمد الدرويش،دار الفكر ـ بيروت، الطبعة الأولى1425هـ .
[6] اللآلئ المصنوعة:1/257،ت:محمد عبد المنعم رابح،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴28هـ .
[7] تنزيه الشريعة:كتاب المناقب والمثالب،الفصل الأول:1/231،رقم:13،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلميةـ بيروت،الطبعة الثانية1401هـ .
[8] الآثار المرفوعة:1/40،ناشر:دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[9] ميزان الاعتدال:۲/668،ترجمة:527،تحقيق:علي محمد البجاوي،ناشر:دار المعرفة ـ بيروت .
[10] لسان الميزان:5/279،رقم:4939،ت:شيخ عبد الفتاح أبو غدة،دار البشائر الإسلامية،الطبعة الأولى ۱۴۲۳ هـ .
ملتی جلتی احادیث
روایت: آپ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’اگر میں اپنے والدین یا ان میں سے کسی ایک کو اس حالت میں پاؤں کہ میں عشاء کی نماز میں مشغول ہوں اور سورۂ فاتحہ پڑھ چکا ہوں، اسی دوران میری والدہ مجھے پکار کر کہے: اے محمد! تو میں جواب میں اپنی والدہ سے کہوں گا: حاضر ہوں!‘‘۔
روایت: ایک بَدُّو کا آپ ﷺ سے ۲۴ سوالات کرنا۔
روایت: ’’فِکْرَةُ سَاعَةٍ خَیْرٌ مِنْ عِبَادَةِ سِتِّیْنَ سَنَة‘‘. ایک گھڑی کا غور وفکر ساٹھ برس کی عبادت سے بہتر ہے۔
مقدمہ
روایت: آپ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’المَعْرِفَةُ رَأسُ مَالِي...‘‘. اﷲ کی معرفت میرا سرمایہ ہے۔۔۔‘‘۔