روایت: آپ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’المَعْرِفَةُ رَأسُ مَالِي...‘‘. اﷲ کی معرفت میرا سرمایہ ہے۔۔۔‘‘۔
حکم: بے اصل ومن گھڑت
تفصیل
علوم شرعیہ میں تصنیف وتالیف کو بنیادی حیثیت حاصل ہے،لیکن اسلامی تعلیمات کی تذکیر وتشہیر دیگر فنون وعلوم سے یکسر مختلف ہے؛ کیونکہ شریعت کے تمام مضامین، اپنی خاص بنیادی اساس پر قائم ہوتے ہیں، جن کی روشنی میں ہر تصنیف وتالیف کی صحت و سُقَم کا فیصلہ ہوتا ہے، خصوصاً احادیث کو نقل کر نے کے سلسلے میں محدثینِ کرام کی وضع کردہ شرائط پر پورا اترنا انتہائی اہم ہے،ورنہ صاحبِ تصنیف بعض اوقات غیر مستند روایات کی تشہیر کرنے لگتا ہے، ہمارے پاک وہند کی تصنیفات میں اس اہم فریضے کی طرف مزید توجہ کی ضرورت ہے، چنانچہ ہم یہاں خاتم المحدثین مولانا عبد العزیز فرہاروی l کا ایک اقتباس نقل کرتے ہیں،جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے عرف میں غیر مستند روایات کے پھیلنے کی کیا وجوہات ہیں، تاکہ ان اسباب سے اہتمام سے بچا جاسکے، ملاحظہ ہو:
’’والسَّبَبُ أنّه قَلَّ اشْتِغَالُهم بِصَنَاعَةِ الحَدِیث، وأنّهم اعْتَمَدُوا علی المشهور في الألْسِنَة مِنْ تَحْسِیْنِ الظَّنّ بالمُسْلِم، وأنَّهم انْخَدَعُوا بالکُتُب الغَیرِ المُنَقَّحَةِ الحَاوِیَةِ لِلرطْبِ والیَابِسِ، وأنَّة لم یَبْلُغْهُم وَعِیدُ التَّهَاوُنِ في روایةِ الحَدِیثِ، وأیضاً منهم مَنْ یَعْتَمِدُ علی کُلِّ ما أسْنِدَ مِنْ غَیرِ قَدْحٍ وتَعْدِیلٍ في الرُّوَاة‘‘[1].
’’(ان کتب میں رطب ویابس احادیث کی )وجہ یہ ہے کہ ان کتابوں کے مصنّفین فن حدیث سے مشغولیت کم رکھتے تھے،اور مسلمان سے حسن ظن رکھتے ہوئے، زبان زَد عام روایتوں پر بھروسہ کر لیتے [حا لانکہ ایسا اعتماد صرف ماہرِ فن پر ہی کیا جا سکتا ہے،نہ کہ حدیث میں کم اشتغال رکھنے والوں پر] اور یہ مصنفین رطب ویابس پر مشتمل، غیر منقح کتابوں سے دھوکے میں پڑگئے، اور (ان کے بارے میں یہی حسنِ ظن ہےکہ)ان مصنفین کو حدیث نقل کرنے میں تہاون (حقیر سمجھنا) کی وعید نہیں پہنچی ہوگی،اور ان میں بعض مصنفین ایسے بھی ہیں کہ سند کے راویوں کی جرح وقدح دیکھے بغیر، ہر سند والی روایت پر اعتمادکر لیتے ہیں‘‘۔
بہرحال ہمارے معاشرے میں اَربابِ تصنیف کے ساتھ ساتھ، ہر فردِ امت کو حدیث کے معاملے میں انتہائی حسّاس رہنے کی ضرورت ہے،تا کہ من گھڑت اور ساقط الاعتبار احادیث کی روک تھام ہوسکے۔
اسی اہمیت کے پیش ِنظرذیل میں ایک ایسی حدیث پیش کی جائے گی،جو محدثینِ کرام کے نزدیک بے اصل اور من گھڑت ہے؛ اس لئے اس کے بیان کرنے سے احتراز ضروری ہے۔
حوالہ جات
[1] كوثر النبي:ص:108، المخطوط، نسخة العلامة عبد الله الولهاري(1283هـ) .
[2] إتحاف السادة المتقين(إحياء علوم الدين مع شرحه):كتاب المَحَبّة والشوق والأنس والرضاة، 12/586، دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[3] الشفاء بِتعرِیف حقوقِ المصطفی:القسم الأول،الباب الثاني،فصل:وأما خوفه ربَّه...:1 / 146،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة: ۲۰۰۳ء.
[4] إتحاف السادة المتقين(إحياء علوم الدين مع شرحه):كتاب المَحَبّة والشوق والأنس والرضاء، 12/586، دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[5] طبقات الشافعية الكبرى:الطبقة الخامسة،تحت ترجمة محمد بن محمد أبو حامد الغزالي،كتاب المحبة والشوق...:3/529،ت:مصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1420هـ .
[6] تذكرة الموضوعات: باب فضل الرسول وخصاله...،ص:87،كتب خانه مجيديه ملتان ـ الباكستان .
[7] الفوائد المجموعة:باب فضائل النبي صلى الله عليه وسلم،ص:326،ت:عبدالرحمن بن يحيى،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة ۱۴۱۶هـ .
[8] نسيم الرياض:فصل،وأما خوفه ربه،2/144،المكتبة السلفية ـ المدينة المنورة .
[9] شرح الشفاء:القسم الأول،الباب الثاني،فصل:وأما خوفه ربه:1/325،ت:عبد الله محمد الخليلي،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[10] معجم ابن عساكر:1/146،ت:الدكتور وفاء تقي الدين،دار البشائرـ دمشق .
[11] سورة الأنفال:الآية40 .
[12] كشف الخفاء:حرف السين:2/5،ت:د ـ عبد الحميد الهندواني،المكتبة العصرية ـ بيروت،الطبعة 1427هـ .
ملتی جلتی احادیث
روایت: ایک بَدُّو کا آپ ﷺ سے ۲۴ سوالات کرنا۔
روایت: بچے کی بسم اﷲ پر، اس بچے کی، اس کے والدین کی اور اس کے اُستاد کی بخشش۔
روایت: آپ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’اگر میں اپنے والدین یا ان میں سے کسی ایک کو اس حالت میں پاؤں کہ میں عشاء کی نماز میں مشغول ہوں اور سورۂ فاتحہ پڑھ چکا ہوں، اسی دوران میری والدہ مجھے پکار کر کہے: اے محمد! تو میں جواب میں اپنی والدہ سے کہوں گا: حاضر ہوں!‘‘۔
روایت: آپﷺ کا ارشاد ہے کہ ’’میری امت کے علما ء بنی اسرائیل کے انبیاء کی طرح ہیں‘‘۔
روایت: ’’جو شخص ’’لا إله إلّا اﷲ‘‘ کہے اور اسے کھینچ کر پڑھے (یعنی لمبا کرے) تو اس شخص کے چار ہزار گناہ کبیرہ ختم (یعنی معاف)ہوجاتے ہیں‘‘۔