روایت: آپ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’اگر میں اپنے والدین یا ان میں سے کسی ایک کو اس حالت میں پاؤں کہ میں عشاء کی نماز میں مشغول ہوں اور سورۂ فاتحہ پڑھ چکا ہوں، اسی دوران میری والدہ مجھے پکار کر کہے: اے محمد! تو میں جواب میں اپنی والدہ سے کہوں گا: حاضر ہوں!‘‘۔
حکم: شدید ضعیف، بیان نہیں کرسکتے۔
تفصیل
سُنَن کا ایک بڑا ذخیرہ سقیم سندوں کی شکل میں محفوظ ہے، ان سقیم روایتوں کےلئے محدثینِ کرام نے ایسے فنی اصول وضع کیے ہیں، جن کی روشنی میں ان احادیث کو اُن کا فنی مقام دیا جاتا ہے،چنانچہ جمہور علما کے نزدیک فضائل کے باب میں ضعیف حدیث پرعمل کرنا جائز ہے،البتہ حافظ ابن حجر l نے اس جوازِ عمل کےلئے تین بنیادی شرائط ذکر کی ہیں،جن کو حافظ سخاوی l نے ’’القول البدیع‘‘ میں نقل کیا ہے، موصوف فرماتے ہیں:
’’سمعتُ شیخَنا ابن حجر أي العسقلاني المصري مِرَاراً ـ وکتبه لي بخطّه ـ یقول: شَرْطُ العَمَلِ بالحدیث الضعیف ثلاثة: الأوّل: متفقٌ علیه، وهو أن یکون الضعفُ غیرَ شدید، فیَخْرُجُ مَن انْفَرَدَ مِنَ الکذّابین والمتّهمین ومَنْ فَحُشَ غلطُه، والثاني: أن یکون مُنْدَرِجاً تحت أصل عام؛ فیَخْرُجُ ما یُخْتَرَعُ بحیث لا یکون له أصلٌ أصلاً، والثالث: أن لا یُعْتَقَدَ عند العَمَلِ به ثبوتُه؛ لئلا یُنْسَب إلی النبي صلى الله عليه وسلم ما لم یقله، قال: والأخیران عن ابن عبد السلام وابن دَقِیق العید،والأوّل نقل العلائي الاتّفاقَ علیه‘‘[1].
میں نے اپنے شیخ حافظ ابن حجرl سے کئی دفعہ سنا ہے - اور حافظ ابن حجرl نے مجھے اپنی قلم سے یہ شرائط لکھ کر بھی دیں - کہ ضعیف حدیث پر عمل کرنے کےلئے تین شرائط ہیں: پہلی شرط اتفاقی ہے کہ ضُعف شدید نہ ہو، لہذا اس شرط سے وہ کذّابین اور متہمین اورفاحش الغلط رُوات نکل گئے، جو نقلِ روایت میں منفرد (تنہا) ہوں۔
دوسری شرط یہ ہے کہ روایت دین کے اصلِ عام کے تحت داخل ہو، اس شرط سے وہ روایتیں نکل گئیں جو گھڑی گئی ہوں،اس طور پر کہ ان کی کوئی اصل نہ ہو۔
تیسری شرط یہ ہے کہ حدیث پر عمل کرتے وقت ثبوتِ حدیث کا اعتقاد نہ ہو، تاکہ آپ ﷺ کی طرف کوئی ایسی بات منسوب نہ ہو جائے، جو آپ ﷺ نے نہ فرمائی ہو۔
حافظ ابن حجرl نے مزید فرمایا: آخری دو شرطیں ابن عبد السلام l اورابن دَقِیق العیدl سے منقول ہے،اور شرط اول پر علامہ علائی l نے علماء کا اتفاق نقل کیا ہے۔
اس دینی انحطاط کے دور میں ان شرائط کو ملحوظ رکھنے کی ضرورت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ محدثینِ کرام کے اسی منہج کے پیشِ نظر ذیل میں ایک ایسی حدیث کی فنی تحقیق ذکر کی جائی گی،جس میں مذکورہ شرائط میں سے شرطِ اول مفقود ہے، جس کا مقتضی یہ تھا کہ اسے فضائل کے باب میں بھی بیان کرنے سے احتراز کیا جاتا، لیکن اس کے باوجود یہ روایت زبان زد عام ہے۔
حوالہ جات
[1] القول البديع:خاتمة:496،ت:محمد عوامة،دار اليسر ـ المدينة المنورة،الطبعة الثانية1428هـ .
[2] شعب الإيمان:الخامس والخمسون من شعب الإيمان،10/284،رقم:7497،ت:الدكتور مختار أحمد الندوي،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الأولى 1423هـ .
[3] الموضوعات:باب بر الوالدين:3/۸۵ ،ت:عبد الرحمن محمد عثمان،المكتبة السلفية ـ المدينة المنورة، الطبعة الأولى۱۳۸۶هـ .
[4] الإكمال في رفع الإرتياب:قرير:7/108،الأستاد نايف العباس،دار الكتاب الإسلامي ـ قاهرة .
[5] الموضوعات:باب بر الوالدين:3/85 ،ت:عبد الرحمن محمد عثمان،المكتبة السلفية ـ المدينة المنورة، الطبعة الأولى۱۳۸۶هـ .
[6] تلخيص الموضوعات:كتاب البر،ص:279،رقم:752،ت:أبو تميم ياسر،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۱۹هـ .
[7] الفوائد الجموعة:كتاب الزهد والأدب والطب وعيادة المريض،1/230،رقم:36،ت:عبد الرحمن بن يحيى، دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة۱۴۱۶هـ .
[8] المقاصد الحسنة:حرف اللام،ص::399، رقم:898،ت:عبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الثانية1427هـ .
[9] فتح الباري: كتاب العمل في الصلاة، باب:إذا دعت الأم والدها...:3/78،دار المعرفة ـ بيروت .
[10] اللآلئ المصنوعة:2/250،ت:محمد عبد المنعم رابح،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴28هـ .
[11] تنزيه الشريعة:كتاب الأدب والزهد والرقائق،الفصل الأول:2/296،رقم:49،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1401هـ .
[12] ميزان الاعتدال:4/358،رقم:9443،تحقيق:علي محمد البجاوي،ناشر:دار المعرفة ـ بيروت .
[13] الجرح والتعدیل:باب الياء،9/380،رقم الترجمة:17005،ت:مصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1422هـ .
[14] الأنساب:باب الزاء والياء،/2043،رقم:1363،مجلس دائرة المعارف العثمانية ـ حيدر آباد الدكن ـ الهند،الطبعة الاولى۱397هـ .
[15] لسان الميزان:8/413،رقم:8405،ت:عبد الفتاح أبو غدة،دار البشائر الإسلامية ـ بيروت،الطبعة ۱۴۲۳هـ .
ملتی جلتی احادیث
روایت: ماں کی نافرمانی پر بیٹے کی حالت ِنزع میں کلمہ سے محرومی۔
آپ نے قرآن کریم کے اختتام پریہ دُعا ضرور مشاہدہ کی ہوگی،جسے دعاءِ ختم قرآن یا دعاءِ ماثورہ کے عنوان سے لکھا جاتا ہے :
’’اللّهم آنس وَحْشَتِي في قَبْرِي. اللّهم ارحَمْني بالقرآن العَظِیم، واجْعَلْه لي إماماً ونُوراً وهُدىً ورَحْمَةً، اللّهم ذَکِّرْني منه ما نَسِیْتُ، وعَلِّمْنِي منه ما جَهِلْتُ، وارْزُقْنِي تِلَاوَتَه آناءَ اللیل وآناءَ النَّهار، واجْعَلْه لي حُجَّةً یا رَبَّ العَالَمِین‘‘.
روایت: ’’جو شخص ’’لا إله إلّا اﷲ‘‘ کہے اور اسے کھینچ کر پڑھے (یعنی لمبا کرے) تو اس شخص کے چار ہزار گناہ کبیرہ ختم (یعنی معاف)ہوجاتے ہیں‘‘۔
روایت: ’’جب ابراہیم e نے لوگوں کو حج بیت اللہ کےلیے پکارا، اس کے جواب میں لوگوں نے تلبیہ کہا، چنانچہ جس نے ایک مرتبہ تلبیہ کہا ،تو وہ ایک مرتبہ حج کرے گا، اور جس نے دو مرتبہ تلبیہ کہا، وہ دو مرتبہ حج کرے گا، اور جس نے دو سے زائد مرتبہ تلبیہ کہا، وہ اسی حساب سے حج کرے گا‘‘۔
روایت: ایک مؤمن عورت کی نیکی ستر صدیقین کے عمل کی طرح ہے، اور ایک فاجر عورت کی برائی ہزار فاجر مردوں کی طرح ہے۔