روایت: ایک بَدُّو کا آپ ﷺ سے ۲۴ سوالات کرنا۔
حکم: سنداً ثابت نہیں ہے، بیان نہیں کر سکتے۔
تفصیل
اسلا می تاریخ کا ہر آنے والا دور ایک مضبوط بندھن کے ساتھ عہدِ رسالت سے جڑا ہوا ہے،اس مبارک ربط کو محدثین کی اصطلاح میں’’اسناد‘‘ کہا جاتا ہے، یہ سند نہ صرف مخبر صادق حضرت محمد ﷺ کے اقوال ہم تک پہنچاتی ہے، بلکہ ان احادیث کو اسی سند کی کسوٹی پر پرکھا جاتا ہے، چنانچہ حضرت عبد اللہ بن مبارکl نے امرِ دین (دینی معاملات) میں ’’اسناد‘‘ کا مقام ان لفظوں میں بیان کیا ہے:
’’مَثَلُ الذي یَطْلُبُ أمرَ دِیْنِه بلا إسنادٍ، کمثلِ الذي یَرْتَقِي السَّطْحَ بِلاَ سُلّمٍ‘‘[1].
جو شخص سند کے بغیر اپنے دین کو تلاش کرنا چاہے،اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص سیڑھی کے بغیر چھت پر چڑھنے کا خواہشمند ہو۔
یہی وجہ ہے کہ محدثینِ کرام نے ’’اسناد‘‘ کی مضبوط باڑ خیر القرون ہی میں قائم کر لی تھی، تاکہ ذخیرۂ احادیث کو خس وخاشاک سے بچایا جا سکے، چنانچہ آپ ﷺ کے انتساب سے صرف ایسی بات کی جاسکتی ہے جو کسی معتبر سند سے ثابت ہو،اسی تناظر میں حضرت عبد للہ بن مبارکl کا ایک دوسرا قول سنہرے حروف سے لکھے جانے کے لائق ہے:
’’... عن عبدان، قال: سمعتُ عبد اﷲ بن المبارک یقول: الإسناد عندي مِنْ الدین،ولولا الإسناد لَقَالَ مَنْ شاء: ما شَاء، ولکن إذا قیل له: مَنْ حَدَّثک؟بقي! [ساکتاً منقطعاً مفحماً] قال عبدان: ذَکَرَ ـ أي عبد اﷲ بن المبارک ـ هذا عند ذکر الزَنَادِقَة وما یَضَعُون مِنَ الأحادیث‘‘[2].
’’…حضرت عبداللہ بن مبارکl کے تلمیذ عبدان بن عثمان کہتے ہیں کہ میں نے عبد اللہ بن مبارک l کو یہ فرماتے ہوئے سنا: میرے نزدیک اسناد دین میں سے ہے، اگر اسناد نہ ہوتی تو یقیناً ہر شخص جو چاہتا سو کہتا رہتا ، لیکن جب اس سے پوچھا جائے کہ آپ کو یہ حدیث کس نے بیان کی ہے؟ تو وہ خاموش، چپ کھڑا ہو جاتا ہے! عبدان فرماتے ہیں کہ عبد اللہ بن مبارک lنے یہ قول زَنادقہ اور ان کی من گھڑت روایتوں پر گفتگو کے دوران فرمایا تھا‘‘۔
بہر حال اَسلاف کے اس منہج کو باقی رکھتے ہوئے، ہر فردِ امت کو اسلامی تعلیمات کے بارے میں حساس رہنے کی ضرورت ہے،اسی مقصود کے پیشِ نظر ذیل میں ایک ایسی ہی روایت پیش کی جارہی ہے، جو اگرچہ کسی معتبر سند سے ثابت نہیں ہے، اس کے باوجود یہ روایت زبان زَد عام ہے، حالاں کہ آپ جان چکے ہیں کہ ایسی بے اصل حدیثیں آپ ﷺ کی طرف منسوب کرنا ہر گز جائز نہیں۔
حوالہ جات
[1] الإسناد من الدين:16،تأليف:الشيخ عبد الفتاح أبو غدة،مكتب المطبوعات الإسلامية بحلب،الطبعة الأولى1412هـ .
[2] الإسناد من الدين:16،17،تأليف:الشيخ عبد الفتاح أبو غدة،مكتب المطبوعات الإسلامية بحلب،الطبعة الأولى1412هـ .
[3] كنزالعمال:كتاب المواعظ والرقائق والخطب والحكم،قسم الأفعال:16/53،رقم:44147،ت:محمود عمر الدمياطي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعةالثانية1424هـ .
[4] جامع الأحاديث الجامع الصغير وزوائده والجامع الكبير:المسانيد والمراسيل،7/405،رقم:15922، تحقيق:عباس أحمد صقر وأحمد عبد الجواد،دار الفكر ـ بيروت،الطبعة1414هـ .
[5] طبقات الشافعية الكبرى:الطبقة السابعة:71/56،ت:مصطفى عبد القادر أحمد عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴20هـ .
[6] الشماريخ في علم التاريخ:ذكر مبدأ التاريخ الهجري،1/12،ت:عبد الرحمن حسن محمود،مكتب الآداب ـ القاهرة .
[7] الدرر الكامنة في أعيان المائة الثامنة:حرف الميم،2/185،رقم:3448،ت:الشيخ عبد الوارث محمد علي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1418هـ .
[8] الأنساب:باب الميم والسين،5/170،رقم:9851،ت:محمد عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى1419هـ .
[9] المصنوع:شذرات في بيان بعض الاصطلاحات،ص:18،ت:الشيخ عبد الفتاح أبو غدة،ایچ ـ ایم ـ سعید کمپنی کراچی .
[10] مسند أحمد:مسند خالد بن الوليد: 5/746، رقم:16948 ـ 16935،عالم الكتب ـ بيروت،الطبعة الأولى 1419هـ .
ملتی جلتی احادیث
روایت: آپ ﷺ کا وِصال سے قبل اپنی ذات پر قصاص اور بدلہ دِلوانا۔
روایت: آپ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’اگر میں اپنے والدین یا ان میں سے کسی ایک کو اس حالت میں پاؤں کہ میں عشاء کی نماز میں مشغول ہوں اور سورۂ فاتحہ پڑھ چکا ہوں، اسی دوران میری والدہ مجھے پکار کر کہے: اے محمد! تو میں جواب میں اپنی والدہ سے کہوں گا: حاضر ہوں!‘‘۔
روایت: ۱-’’میرےآسمان اور زمین مجھے نہیں سما سکے،البتہ میرے مومن بندے کا دل، مجھے اپنے میں سما لیتا ہے‘‘۔ ۲-’’دل رب کا گھر ہے‘‘۔
روایت: ’’جو شخص ’’لا إله إلّا اﷲ‘‘ کہے اور اسے کھینچ کر پڑھے (یعنی لمبا کرے) تو اس شخص کے چار ہزار گناہ کبیرہ ختم (یعنی معاف)ہوجاتے ہیں‘‘۔
روایت: ’’مسجد میں باتیں کرنا، نیکیوں کو ایسے کھا جاتا ہے،جس طرح چوپایہ گھاس کھاتا ہے‘‘، اور بعض مقامات پر یہ روایت ان الفاظ سے منقول ہے: ’’مسجد میں جائز گفتگو بھی نیکیوں کو ایسے کھا جاتی ہے،جس طرح آگ لکڑیوں کو‘‘۔