مقدمہ
تفصیل
بسم ﷲ الرحمن الرحیم
الحَمْدُ لله الذي أمَرَ بالحَقِّ وفَرَضَ الصِّدْقَ، وحَرَّمَ الکِذْبَ ونَهَی عن البَاطِلِ، والصَّلَوة وَالسَّلَامُ علی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ عَبْدِه ورَسُولِه ونَبِیِّه القَائِلِ: ’’إنّ کِذْباً عَلَيّ لیس کَکِذْبٍ علی أحدٍ، فَمَنْ کَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّداً فَلْیَتَبَوَّأ مَقْعَدَه مِنَ النَّار‘‘. وعلی آلِه وصَحْبِه وتَابِعِیهم بِإحْسَانٍ، حُمَاةِ شَرِیْعَتِه، ورُوَاةِ سُنَّتِه، الذَّابِّیْن عنها تَحْرِیفَ المُحَرِّفِین، وانْتِحَالَ المُبْطِلِین، وکِذْبَ الکَاذِبِین .
أما بعد!
شریعتِ غَرَّاء میں احادیثِ رسول اللہﷺ کو مصدر ِثانی کی اساسی حیثیت حاصل ہے، جس میں نقب زنی سے حفاظت کا انتظام عہد ِرسالت کی ابتدا ہی سے کر دیا گیا تھا،اور یہ صیانت و حفاظت آپ ﷺ کے اس فرمان کا نتیجہ تھی:
’’مَنْ کَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّداً فَلْیَتَبَوَّأ مَقْعَدَه مِنَ النَّارِ‘‘[1].
ترجمہ: ’’جس نے مجھ پر جھوٹ بولا، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے‘‘۔
جاں نثار صحابہ رضی اللہ عنہم آپ ﷺ کے اس ارشاد سے ہر دَم خوفزدہ رہتے تھے، اور آپ ﷺ کا یہ دستور، ہمہ وقت اُن کی نگاہوں کے سامنے رہتا تھا، صحابہ رضی اللہ عنہم کی اسی کیفیت کوعلامہ جلال الدین سیوطی l نے اِن لفظوں میں بیان کیا ہے:
’’سید الکونین ﷺ کا یہ فرمان، محافل صحابہ رضی اللہ عنہم میں اتنی شہرت اختیار کر گیا تھا کہ آج بھی کتبِ حدیث میں سو سے زائد ایسے صحابہ رضی اللہ عنہم کے نام محفوظ ہیں،جن سے یہ روایت مسنداً (سند کے ساتھ )منقول ہے‘‘[2]۔
اگراِن تمام طُرق اور روایات کو بنظر غائردیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آپﷺ کا یہ فرمان ہمہ گیری میں اپنی نظیر نہیں رکھتا، کیونکہ جہاں اِبتدائے نبوت کی خفیہ مجالس میں اِس حدیث کی سرگوشیاں تھیں، وہاں اِکمال نبوت یعنی خطبہ ٔ حجۃ الوداع کے عظیم اجتماع میں بھی اسی اعلان کی گونج تھی،جہاں عشرہ مبشّرہ اس روایت کو نقل کر رہے ہیں، وہاں صحابہ رضی اللہ عنہم کے عام وخاص بھی اس کو دُہرا رہے تھے، صحابہ رضی اللہ عنہم میں جس طرح یہ ارشاد زبان زَد عام تھا، صحابیات رضی اللہ عنہن کی مجالس بھی اس فرمان سے مزیّن تھیں۔
آپ ﷺکے اسی ارشاد کا اثر تھا کہ جب ذخیرۂ احادیث میں من گھڑت اور ساقط الاعتبار روایات کے ذریعے رَخنہ اندازی کی مذموم کوششیں شروع ہوگئیں، تو محدثینِ کرام نے احادیث کے صحت و سُقَم کے مابین ’’اِسناد‘‘ کی ایسی خلیج قائم کر دی، جس کی مثال اُممِ سابقہ میں ملنا مُحال ہے، محدثینِ کرام نے احادیث کو خس وخاشاک سے صاف کرنے کے لئے یہی ’’میزانِ إسناد‘‘ قائم کی، جس کے نتیجے میں حدیث کے مبارک علوم وجود میں آتے رہے، ضعیف اور کذّاب راویوں پر مستقل تصانیف کی گئیں، انہی متقدمین علماء نے ’’کتب العِلَل‘‘ میں ’’ساقط الاعتبار‘‘ (غیر معتبر) احادیث کو واضح کیا، علماء متأخرین نے بھی باقاعدہ مُشتہرات (زبان زَد عام روایات) ساقط الاعتبار اور من گھڑت روایات پر کتابیں لکھیں،چنانچہ ہر زمانے میں احادیث کا ذخیرہ محفوظ شاہراہ پر گامزن رہا، غرض یہ کہ روئے زمین پر جہاں کہیں اسلام کا سورج طلوع ہوا ہے،وہ حدیث کے محافظین خودساتھ لایا ہے۔
حوالہ جات
[1] الجامع الصحيح للبخاري:باب إثم من كذب على النبي صلى الله عليه وسلم:1/33،رقم الحديث:107، ت:محمد زهير بن ناصر،دار طوق النجاة ـ بيروت،الطبعة الأولى1422هـ .
[2] اللآلئ المصنوعة:ص:35،ت:محمد عبد المنعم رابح،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴28هـ .
[3] الدرر الملتقظ:بحواله مجله ’’فكر ونظر‘‘،ص:76،خصوصي اشاعت،ربيع الأول ـ شعبان 1426هـ ، إداره تحقيقات إسلامي بين الأقوامي، إسلامي يونيورستي، إسلام آباد ـ باكستان .
[4] الآثار المرفوعة:ص:12،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[5] كوثر النبي وزلال حوضة الروي (فن معرفة الموضوعات):ص:108،المخطوط،نسخة العلامة عبد الله الولهاري (1283هـ) .
[6] الآثار المرفوعة:ص:19،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[7] مقالات الكوثري:ص:67،دار السلام ـ مصر،الطبعة الثانية1428هـ .
[8] بغية الكامل السامي في شرح المحصول والحاصل للجامي:ص:227،مكتبة مدينة ـ لاهور،باكستان، الطبعة الخامسة1414هـ .
[9] بہشتی زیور:ص:۷۰۴،حصہ دوم،دار الاشاعت،ایم اے جناح روڈ، اردو بازار کراچی ۔
ملتی جلتی احادیث
عنوانِ تحقیق: کھانے سے قبل دعا: ’’بِسْمِ اللهِ وَعَلَى بَرَکَةِ الله‘‘.
روایت: آپ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’المَعْرِفَةُ رَأسُ مَالِي...‘‘. اﷲ کی معرفت میرا سرمایہ ہے۔۔۔‘‘۔
روایت: بچے کی بسم اﷲ پر، اس بچے کی، اس کے والدین کی اور اس کے اُستاد کی بخشش۔
روایت: ماں کی نافرمانی پر بیٹے کی حالت ِنزع میں کلمہ سے محرومی۔
آپ نے قرآن کریم کے اختتام پریہ دُعا ضرور مشاہدہ کی ہوگی،جسے دعاءِ ختم قرآن یا دعاءِ ماثورہ کے عنوان سے لکھا جاتا ہے :
’’اللّهم آنس وَحْشَتِي في قَبْرِي. اللّهم ارحَمْني بالقرآن العَظِیم، واجْعَلْه لي إماماً ونُوراً وهُدىً ورَحْمَةً، اللّهم ذَکِّرْني منه ما نَسِیْتُ، وعَلِّمْنِي منه ما جَهِلْتُ، وارْزُقْنِي تِلَاوَتَه آناءَ اللیل وآناءَ النَّهار، واجْعَلْه لي حُجَّةً یا رَبَّ العَالَمِین‘‘.