روایت: ”میں اس بات پر خدا کا شکر کرتا ہوں کہ وہ میری رسالت اور علی rکی ولایت سے راضی ہے“، یہ بالکل غلط روایت ہے۔
تفصیل
قول چہارم: بعض کتب سے نقل کیا ہے کہ جب آنحضرت نے {من کنت مولاه فعليّ مولاه} [ میں جس کا مولیٰ ہو،علی r اس کا مولیٰ ہے] فرمایا تو یہ آیت (اليوم أكملت لكم) إلخ [آج ہم نے تمارے لئے تمھارے دین کو مکمل کر دیا ہے الخ] نازل ہوئی، پس آنحضرت ﷺ نے فرمایا: خدا کا شکر کرتا ہوں میں اِکمال دین، اتمام نعمت پر اور اس بات پر کہ وہ میری رسالت اور علی r کی ولایت سے راضی اور خوشنود ہوا، انتہی کلامہ۔
جواب: بالکل غلط روایت ہے،کیونکہ ”صحیح بخاری“ میں بروایت حضرت عمر r اور ”ترمذی“ میں بروایت ابن عباس q (کلاہما فی کتاب التفسیر ) تصریح ہے کہ آیت (اليوم أكملت لكم) یوم عرفہ میں نازل ہوئی، اور رسول اللہ ﷺ اس وقت عرفات میں تھے، اور قصہ غدِیر [جس میں آپ ﷺ نے حضرت علی r کا ہاتھ تھام کر یہ ارشاد فرمایا تھا: من کنت مولاه فعلي مولاه] کا وہاں سے واپس ہونے کے وقت ”حجفہ“ میں واقع ہوا، پس بوجہ معارضہ حدیثِ صحیح کے یہ روایت بالکل غلط سمجھی جاوے گی[1]۔
حوالہ جات
[1] امدادالفتاویٰ : کتاب العقائد والکلام، رفع شبہات شیعہ متعلقہ فضائل علیؓ، ۶/۱۳۴، مکتبہ دارالعلوم،کراچی ۔
زیرِ بحث روایت کو حافظ ابن جوزی ؒ نے بھی ” العلل المتناہيہ“(۱/ ۲۲۷)میں حدیثِ صحیح کے معارض قرار دیا ہے،حافظ جوزقانی ؒنے ”الاباطيل والمناكير“ (الرقم:۷۱۴) میں اسے باطل کہا ہے،نیز حافظ ابن کثیر ؒ نے اپنی ”تفسير“ (۵/۵۴)میں کہا ہے کہ آیت مذکورہ یومِ عرفہ میں،قصہ غدیر خُمّ سے پہلے نازل ہوئی ہے،اور یہ کہنا ”صحیح“ نہیں ہے کہ یہ آیت قصہ غدیر خُمّّ کے وقت نازل ہوئی ہے،اور علامہ آلوسی ؒ نے ”روح المعانی“ (۶/ ۶۱) اسے صراحتاً ’’افتراء‘‘قرار دیا ہے، علامہ آلوسی ؒ کی عبارت ملاحظہ ہو: {وأخرج الشيعة عن أبى سعيد الخدري أن هذه الآية نزلت بعد أن قال النبي صلى الله عليه وسلم لعلي كرم الله وجهه في غدير خُمّ : من كنت مولاه فعلي مولاه. فلما نزلت، قال عليه الصلاة والسلام: الله أكبر على إكمال الدين وإتمام النعمة ورضاء الرب برسالتي وولاية علي كرم الله وجهه بعدي. ولايخفى أن هذا من مفترياتهم، وركاكة الخبر شاهدة على ذلك في مبتدأ الأمر، نعم ثبت عندنا أنه صلى الله تعالى عليه وسلم قال في حق الأمير كرم الله تعالى وجهه هناك : من كنت مولاه فعلي مولاه. وزاد على ذلك كما في بعض الروايات، لكن لا دلالة في الجميع على مايدعونه من الإمامة الكبرى والزعامة العظمى...}.