وعظ میں رنگ بھرنے کے لئے رنگین،من گھڑت روایات بیان کی جاتی ہیں، علماء وعارفین کے نزدیک اس سے انوار نہیں بلکہ نار برستی ہے۔
تفصیل
”یہ خرابی آج کل کے جاہل واعظوں کی ہے جن کو علم تو ہے نہ ہی معتبر کتابوں سے صحیح صحیح روایتیں نکال سکیں [كذا في الأصل] اس واسطے اردو کی کتابوں میں سے جو اور رنگین مضامین یاد کر لیتے ہیں [كذا في الأصل] تاکہ وعظ میں خوب دلچسپی ہو۔ جھوٹی بات کا ایک علاج یہ بھی ہے کہ اس میں [بات کے علاوہ] رنگینی خوب ہوتی ہے، اور سامعین کو نفسانی لطف خوب آتا ہے، اور بات میں رنگینی نہیں ہوتی۔ ایک ناول اٹھا کر پڑھئے جس میں کسی جنگ کے حالات ہوں، اس میں دلچسپی ہو گی، اور ایک کسی مؤرخ کے لکھے ہوئے جنگ کے حالات یا سرکاری بات پڑھئے تو اس میں دلچسپی ایسی کبھی نہ ہو گی۔
یہ ”معراج نامہ“ وغیرہ اسی واسطے پڑھے جاتے ہیں کہ وعظ میں رنگ آوے، جاہلوں کے نزدیک تو ان سے وعظ میں رنگ آتا ہے، اور وہ برستے ہیں، اور علماء وعارفین کے نزدیک ”انوار“ نہیں بلکہ ”نار“ بر ستی ہے، دلیل اس کی حدیث ہے : {من کذب علي متعمدا فلیتبوا مقعده من النار}. یعنی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کہ جو کوئی میری نسبت کوئی جھوٹی بات قصداً بیان کر ےتو چاہیے کہ اپنا ٹھکا نہ جہنم میں بنا لے۔ دیکھئے! کس قدر سخت وعید ہے اور یہ حدیث کیا بتلا تی ہے؟ یہ حدیث ایسی مجلسوں میں جہاں موضوعات پڑھی جائیں نار کا بَرسنا ثابت کرتی ہے، یا انوار کا؟۔۔۔“[1]۔
حوالہ جات
[1] خطبات حکیم الامت : خاموشی کے منافع ، ۲۶/۳۱۵، ادارہ تالیفات اشرفیہ ،ملتان ۔