حکایت : ”حضرت محمد بن علی بن ابی طالب r کی والدہ خولہ حنفیہ جنّیہ تھیں “، یہ بالکل غلط ہے۔
تفصیل
”۔۔۔ خصوص جس شخص کے کان میں ایسے قصے پڑے ہوں کہ حضرت، بلقیس کے باپ آدمی اور ماں جنّیہ تھیں، یا جیسا جہلاء نے مشہور کیا ہے کہ حضرت محمد بن علی کی والدہ ”خولہ حنفیہ“ جنّیہ تھیں، تو ایسے قصے سن کر کچھ عجب نہیں کہ کوئی شخص ایسے موقع پر ایسے نکاح [یعنی جن و انس کا نکاح] کو جائز ہی سمجھ جائے، اس لئے اس پر تنبیہ کر دی گئی .... اور دوسرا قصہ تو بالکل ہی غلط ہے، وہ [یعنی حضرت محمدد بن علی کی والدہ خولہ حنفیہ] تو قبیلۂ بنی حنفیہ سے ہیں، جو یمامہ میں سکونت رکھتا تھا، میں نے اپنے استاد علیہ الرحمۃ [یعنی حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب نانوتوی l] سے سنا کہ فرماتے تھے کہ یہ خاندان کرم اور شجاعت میں ممتاز ہونے کے سبب، موافق محاورۂ عرب کے،بنو جنّیہ کہلاتا ہو گا، عوام نے اس کا حقیقی ترجمہ کر کے ان کی طرف منسوب کر دیا، احقر کہتا ہے کہ جس طرح ایک شاعر نے کسی قبیلے کی مدح کی ہے:
؎ بنو جنیة ولدت سیوفا
(ایک جنّیہ عورت کی اولاد ہیں،جنہوں نے تلواریں جنی ہیں) ۔۔۔“[1]۔
حوالہ جات
[1] اصلاحِ انقلابِ امت : جِنّ عورت کا انسان مرد سے، اورجِنّ مرد کا انسان عورت سے نکاح صحیح نہیں، ص : ۴۶۹، ۴۷۰، ادارۃ المعارف، کراچی۔
ملتی جلتی احادیث
یہ قصہ کہ حضرت علی r نے اپنے صاحبزادے کو کسی سائل کو دے دیا اور اس نے بیچ ڈالا، بالکل غلط ہے اور لغو ہے۔
حضرت سیدنا داؤد e اور اُورِیا کا قصہ، محض بے اصل ہے۔
آج کل مزاج پلٹ گئے ہیں کہ من گھڑت روایات ہی کو پسند کر تے ہیں، قصے بھی پڑھتے ہیں تو وہ، جو بالکل فرضی اور جھوٹ ہیں، اور سچے قصے پسند ہی نہیں آتے، یہ عجیب غلطی ہے۔
من گھڑت باتیں شریعت کے کسی فائدہ کے لئے بھی بیان کرنا بالکل غلط ہے۔
حضرت عکاشہ r کی مشہور حکایت ہے، بالکل غلط ہے۔