التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: حضرت مولانا محمد یونس جونپوری صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا من گھڑت روایات پر تعاقب

روایت: ’’ایک گھڑی کا غور و فکر ساٹھ یا اسّی سال کی عبادت سے افضل ہے‘‘۔

اس کے الفاظ تو ثابت نہیں ہیں،لیکن معنی ثابت ہے

تفصیل

’’سوال: ایک حدیث جو لوگو ں کے منہ سے سنائی دیتی ہے کہ ×تفكر ساعة خير من عبادة ستين سنة أو ثمانين سنة أو كما قال عليه السلام÷. [ایک گھڑی کا غور و فکر ساٹھ یا اسّی سال کی عبادت سے افضل ہے] یہ حدیث صحیح ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو یہاں فکر سے کونسی فکر مراد ہے اور کس قسم کی فکر مطلوب ہے؟

جواب:  ×حدیث: تفكر ساعة خير من عبادة ستين سنة.

هذا الحديث أخرجه أبو الشيخ في كتاب العَظَمَة له من طريق عثمان بن عبد الله القرشي، عن إسحاق بن نَجِيْح المَلَطِي، عن عطاء الخراساني، عن أبي هريرة  رضي الله تعالى عنه مرفوعا: فكرة ساعة خير من عبادة ستين سنة. وأورده ابن الجوزي في الموضوعات، وتعقبه السیوطي في اللآلي (ص: ۳۲۷) بأن العراقي اقتصر في تخریج الإحياء على تضعيفه.

قلت [أي: الشيخ الجونفوري]: هذا عجيب من السيوطي، فإن العراقي لما ذكر قول الغزالي في الإحياء (ص:۳۶۱/۴): حديث تفكر ساعة خير من عبادة سنة، قال: أخرجه ابن حِبَّان [أي: أبوالشيخ] في كتاب العَظَمَة من حديث أبي هريرة  رضي الله تعالى عنه بلفظ: ستّين سنة، بإسناد ضعيف، ومن طريقه ابن الجوزي في الموضوعات. ورواه أبو منصور الديلمي في مسند الفردوس من حديث أنس  رضي الله تعالى عنهبلفظ: ثمانين سنة، وإسناده ضعيف جدا. ورواه أبو الشيخ من قول ابن عباس رضي الله تعالى عنه بلفظ: خير من قيام ليلة. انتهى.

 فهذا قد عقبه العراقي لكلام ابن الجوزي، والعراقي يتجنب الحكم بالوضع كما علمتُ باستقراء كلامه، فلذا حكم بالضعف، ثم عقبه بإيراد ابن الجوزي له فی الموضوعات ولم يتعقبه بالرد .

وذكر السيوطي فی اللآلي بعض شواهده، منها ما أخرجه الديلمي من طريق سعيد بن مَيْسَرَة البَكْرِي البصري عن أنس  رضي الله تعالى عنه قال: تفکر ساعة في اختلاف اللیل والنهار خیر من عبادة ألف سنة.

قلت [أي: الشيخ الجونفوري]: و سعيد بن مَيْسَرَة قال البخاري: عنده مناکیر، وقال أیضا: منکر الحدیث، وقال ابن حِبَّان: یروي الموضوعات. کذا ذکر الذهبي فی المیزان، وأورد في ترجمته أحادیث، وقال: روى له ابن عدي هذه الأحادیث، وقال: هو مظلم الأمر. قال الحافظ ابن حجر في اللسان: قال أبو حاتم: لیس یعجبني حدیثه، وهو منکر الحدیث، ضعیفه [كذا في الأصل، وفي نسختنا: ضعيف الحديث]، یروي عن أنس المناکیر، وقال أبو أحمد الحاکم: منکر الحدیث، وذکره ابن الجارود و الساجي في الضعفاء [انتهي كلام ابن حجر].

 وأخرج أبو الشیخ في العَظَمَة من طریق عمرو بن قیس المُلائي قال: بلغني أن تفکر ساعة خیر من عمل دهر من الدهر÷.

[(حضرت جونپوری l کی اس عبارت کا حاصل یہ ہے کہ) - حدیث: ایک گھڑی کا غور و فکر ساٹھ برس کی عبادت سے بہتر ہے - ابو الشیخ l نے کتاب ’’العَظَمَہ‘‘ میں یہ اپنی سند سے انہی الفاظ کے ساتھ حضرت ابو ہریرہ r سے مرفوعاً تخریج کی ہے، اور اسے ابن جوزی l نے ’’موضوعات‘‘ میں شامل کیا ہے، البتہ سیوطی l نے ’’لآلی‘‘ میں تعاقب کرتے ہوئے کہا ہے کہ عراقی l نے تخریج ’’احیاء‘‘ میں اسے صرف ’’ضعیف‘‘ کہا ہے،یعنی من گھڑت نہیں کہا۔

(آگے حضرت جونپوری l،امام سیوطی l پر رد کرتے ہیں،جس کا حاصل یہ ہے) سیوطی l کا یہ عجیب تعاقب ہے، کیونکہ عراقی l نے ’’احیاء‘‘ میں موجود غزالی l کی ذکر کردہ حدیث - ایک ساعت کا غور و فکر رات بھر کی عبادت سے بہتر ہے - کے تحت لکھا ہے: ابو الشیخ ابن حبان lنے یہ حدیث کتاب ’’العَظَمَہ‘‘ میں بسندِ ضعیف، ابو ہریرہ r سے تخریج کی ہے،اور روایت میں بجائے ایک سال کے ’’ساٹھ برس‘‘ لکھا ہے،اور اسی سند سے یہ روایت ابن جوزی l نے ’’موضوعات‘‘ میں لکھی ہے،یعنی اسے موضوع کہا ہے،نیز دیلمی l نے ’’مسند فردوس‘‘ میں یہ روایت مرفوعاً، انس r سے ’’شدید ضعیف‘‘ سند کے ساتھ تخریج کی ہے، اور روایت میں بجائے ایک سال کے ’’اسی برس‘‘ کے الفاظ ہیں،اور ابو الشیخ l نے ابن عباس r کا یہ موقوف قول بھی تخریج کیا ہے: ایک گھڑی کا غور و فکر،رات بھر کی عبادت سے بہتر ہے۔یہ تھا عراقی l کا ابن جوزی l پر تعاقب، میری معلومات کے مطابق، عراقی l کے کلام میں نظر آتا ہے کہ وہ روایت پر ’’من گھڑت‘‘ ہونے کا حکم لگانے سے پرہیز کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ یہاں بھی انھوں نے ضعف کا حکم لگا کر،ساتھ ساتھ اس بات کا ذکر کردیا ہے کہ ابن جوزی l نے اس کو ’’موضوعات‘‘ میں ذکر کیا ہے، اور خود عراقی l نے ابن جوزی l پر کوئی رد نہیں کیا۔

 سیوطی l نے ’’لآلی‘‘ میں روایت کے بعض شواہد بھی لکھے ہیں،ایک شاہد انس r کا موقوف قول ہے،جسے دیلمی l نے سعید بن مَیْسَرَہ کی سند سےتخریج کیا ہے،اس کے الفاظ یہ ہیں: شب و روز کے بدلنے میں ایک گھڑی کا غور و فکر ہزار برس کی عبادت سے بہتر ہے۔

(اس کے بعد حضرت جونپوری l نےسند میں موجود راوی سعید بن مَیْسَرَہ کے بارے میں ائمہ حدیث کے جرح کے اقوال نقل کیے ہیں،جن میں بعض شدید جرحیں بھی ہیں،متن میں ملاحظہ فرمالیں)

(آگے حضرت جونپوری l فرماتے ہیں)دوسرا شاہد عمرو بن قیس مُلائی l کی ’’بلاغات‘‘ میں موجود یہ قول ہے کہ ایک گھڑی کا غور و فکر زمانہ دراز کے عمل سے بہتر ہے]

ان ساری عبارات سے حدیث کا مقام خود متعین ہوجاتا ہے، بظاہر مرفوعاً ثابت ہونا مشکل ہے، اس لیے کہ کوئی طریق علّتِ قادحہ سے خالی نہیں ہے، اور اگر ثابت ہوجائے تو پھر اس کی توجیہ یہ ہوگی کہ جس قدر تدبر و تفکر ہوگا اسی قدر اپنی ذلت اور بے مائیگی اور حق تعالیٰ کی عظمت وکبر یائی پیش نظر ہوگی، جس کا ثمرہ خشیت باری تعالیٰ مرتب ہوگا، نیز تفکر اگر آلاء اللہ [اللہ کی نعمتوں] میں ہو تو شکر وشوق پیدا ہوگا اور پھر بڑھتے بڑھتے یہی راسخ ہو کر نسبتِ یاد داشت بن جائے گا، جو عین مقصود سالکین ہے۔

   بظاہر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ الفاظ تو ثابت نہیں ہیں، لیکن تقریر بالا کے پیش نظر معنی ثابت ہیں، اور اس کا شاہد آیت شریفہ
(إن فی ذلك لآیت لأولی الألباب الذین یذکرون الله قیاما وقعودا وعلى جنوبهم ویتفکرون فی خلق السموات والأرض) اور آیت (إن فی خلق السموات والأرض واختلاف اللیل والنهار لآیت لأولی الألباب)اور آیت (إن فی ذلك لعبرة لأولی الأبصار)وغیرہ ہیں۔

   فکر ونظر سے مراد وہی فکر ونظر ہے جو معرفتِ حق کا سبب ہو، ورنہ ایسا فکر ونظر جو ملحدوں کو ہوتا ہےوہ تو عین بُعد وسببِ عذاب ہے:

×قال أبو علی الرُوذْبَاري: التفکر على أربعة أوجه: فکرة الله [كذا في الأصل وفي نسختنا: فكرة فقط] في آیات الله، وعلامتها تولّد المحبة، وفکرة في وعد الله بثواب، وعلامتها تولّد الرغبة، وفکرة في وعیده تعالى، وعلامتها تولد الرهبة، وفکرة في جفاء النفس مع إحسان الله، وعلامتها تولّد الحیاء من الله تعالى . طبقات شافعیة÷ (ص:۱۰۱/۲) والله اعلم÷[1].

[ابو علی رُوذْبَاری فرماتے ہیں: غور و فکر کی چار قسمیں ہیں: اللہ کی نشانیوں میں غور کرنا، جس کی علامت حبِ الٰہی کا پیدا ہونا ہے۔اللہ کے وعدۂ ثواب میں غور کرنا،جس کی علامت رغبت کا بڑھنا ہے۔اللہ تعالیٰ کی دھمکی پر غور کرنا،جس کی علامت خوفِ الہٰی کا پیدا ہونا ہے۔ اس پر غور کرنا کہ نفس کی جفاء کے باوجود ہم پر اللہ کے احسانات ہیں،اس سے اللہ تعالیٰ سے حیاء پیدا ہوتی ہے]

حوالہ جات

[1] الیواقیت الغالیۃ: تفکر ساعۃ خیر من عبادۃ ستین سنۃ،۱/۴۳،۴۶۔

علامہ عبدالرؤف مناوی l ’’التیسیر‘‘ (۲/ ۳۳۶) میں فرماتے ہیں کہ ابو الشیخ l نے العَظَمَہ میں حضرت ابوہریرہ r سے ’’واہی‘‘ سند کے ساتھ یہ روایت نقل کی ہے،بلکہ اسے من گھڑت بھی کہا گیا ہے۔ حافظ شوکانی l ’’الفوائد المجموعہ‘‘ (ص:۲۴۲،رقم:۷۵) میں فرماتے ہیں کہ اس روایت کو ابو الشیخ l نے ابو ہریرہr سے مرفوعاً نقل کیا، اور اس کی سند میں عثمان بن عبداللہ اور اسحاق بن نجیح کذاب ہیں،ان دونوں میں سے ایک(ا س روایت کے گھڑنے میں) متہم ہے۔ملا علی قاری l ’’المصنوع‘‘ (ص: ۸۲،رقم:۹۴) میں فرماتے ہیں کہ یہ حدیث نہیں ہے، بلکہ سَری سَقَطِی l کا کلام ہے۔ حافظ محمد بن درویش الحوت l ’’اسنى المطالب‘‘ (ص:۱۱۳،رقم:۵۰۰) میں فرماتے ہیں کہ یہ روایت مرفوعاً ثابت نہیں ہے بلکہ منسوب ہے حضرت  رضي الله تعالى عنهr، حضرت ابوالدرداء r اور سَری سَقَطِی l کی جا نب۔علامہ عجلونی l ’’ کشف الخفاء‘‘ (۱/ ۳۵۷، رقم:۱۰۰۴)میں علامہ فاکہانی l کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ یہ سَری سَقَطِی l کا کلام ہے۔اس روایت کی تفصیلی تحقیق جاننے کے لئے کتاب ’’غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ‘‘ (حصہ اول، ص: ۱۱۲) ملاحظہ فرمائیں۔

ملتی جلتی احادیث