قدم شریف کے قصے کا اکثر محدثین نے انکار کیا ہے۔
تفصیل
”۔۔۔ بعض جگہ تو تبرکات ہی بے اصل ہیں،حضورپر نور ﷺ کی طرف غلط نسبت کرنا کس قدر موجب وعید ہے، اس طرح اولیا ء اللہ و بزرگان دین پر افتراء کر نا بھی جھوٹ تو ضرور ہے، بلکہ بعض تبرکات کے غلط ہونے پر دلیل عقلی یا نقلی شہادت دیتی ہے، چنانچہ قدم شریف کے قصے کا اکثر محدثین نے انکار کیا ہے ۔۔۔“[1]۔
حوالہ جات
[1] اصلاح الرسوم :نویں فصل،ص:۱۶۰،مکتبہ حقانیہ،ملتان ۔
ملتی جلتی احادیث
بعض اعراب لگے قرآن حضرت علی r کی جانب منسوب کرنا غلط ہے۔
حکایت کہ شب برات وغیرہ میں مردوں کی روحیں گھروں میں آتی ہیں، اور دیکھتی ہیں کہ کسی نے ہمارے لئے کچھ پکا یا ہے یا نہیں، ثابت نہیں ہے۔
آج کل مزاج پلٹ گئے ہیں کہ من گھڑت روایات ہی کو پسند کر تے ہیں، قصے بھی پڑھتے ہیں تو وہ، جو بالکل فرضی اور جھوٹ ہیں، اور سچے قصے پسند ہی نہیں آتے، یہ عجیب غلطی ہے۔
روایت: ” دلہن کے پاؤں دھو کر گھر میں جا بجا پانی چھڑکنے سے برکت ہوتی ہے “، یہ من گھڑت روایت ہے۔
حکایت کہ شب برات میں حضرت فاطمہ R نے سویاں پکائیں، یہ محض تہمت ہے کہیں ثابت نہیں۔