بعض اعراب لگے قرآن حضرت علی r کی جانب منسوب کرنا غلط ہے۔
تفصیل
”۔۔۔ اور بعض قرآن پر اعراب لگائے ہوئے حضرت علی r کی طرف نسبت کئے جاتے ہیں، اس زمانہ میں یہ اعراب اصطلاحی نہ تھے، البتہ جہاں کوئی دلیل مکذب نہ ہو ہم کو تکذیب کی حاجت نہیں، بالخصوص جہاں قرائن سے صدق غالب ہو وہ ظنًا تبرک ہے، گو یقیناً نہ سہی کیونکہ دلائل یقین کے مفقود ہیں۔۔۔“[1]۔
حوالہ جات
[1] اصلاح الرسوم :نویں فصل،ص:۱۶۰،مکتبہ حقانیہ،ملتان ۔
ملتی جلتی احادیث
قدم شریف کے قصے کا اکثر محدثین نے انکار کیا ہے۔
حکایت کہ شب برات میں حضرت فاطمہ R نے سویاں پکائیں، یہ محض تہمت ہے کہیں ثابت نہیں۔
حضرت شبلی l کی جانب اس حکایت کی نسبت غلط ہے۔
حکایت کہ شب برات وغیرہ میں مردوں کی روحیں گھروں میں آتی ہیں، اور دیکھتی ہیں کہ کسی نے ہمارے لئے کچھ پکا یا ہے یا نہیں، ثابت نہیں ہے۔
روایت: ” دلہن کے پاؤں دھو کر گھر میں جا بجا پانی چھڑکنے سے برکت ہوتی ہے “، یہ من گھڑت روایت ہے۔