غیر معتبر کتابوں کے پاس مت پھٹکو
تفصیل
”نظم کی کتاب گھر میں رکھو ہی مت، غیر معتبر کتابوں کے پاس مت پھٹکو، ان سے نفع نہیں ہوتا اور نقصان ہی ہوتا ہے، کیونکہ عورتوں میں خوش اعتقادی کا مادہ بہت ہوتا ہے، خصوصاً کتابوں پر تو بہت جلد ایمان لے آتی ہیں، تو اگر کوئی غیر معتبر کتاب گھر میں ہوگی تو گھر کی بی بی کو یا اور آنے جانے والی کسی بی بی کو یا آئندہ آنے والی نسلوں کو نقصان پہنچے گا“[1]۔
حوالہ جات
[1] خطبات حکیم الامت : عورتوں کی خوش اعتقادی ، ۲۶/۳۲۷، ادارہ تالیفات اشرفیہ ،ملتان ۔
[2] خطبات حکیم الامت : عورتوں کی خوش اعتقادی ، ۲۶/۳۲۷، ادارہ تالیفات اشرفیہ ،ملتان ۔
[3] خطبات حکیم الامت : عورتوں کی خوش اعتقادی ، ۲۶/۳۲۷، ادارہ تالیفات اشرفیہ ،ملتان ۔
[4] تنبیہات وصیت: ص : ۱۹،یہ مطبوع نسخہ ہے،دارالعلوم،کراچی،کورنگی میں رقم: ۶۱.۲۷۳ پر موجود ہے۔
ملتی جلتی احادیث
من گھڑت روایات لکھنے والا، پڑھنے والا، شائع کرنے والا سب گنہگار ہیں۔
بعض کتابیں جن میں بے اصل، اور گھڑی ہوئی باتیں ہیں۔
کتاب”گل بکاولی “، ”بد ر منیر “، ”قصہ حاتم طائی “، یہ بے اصل کتابیں ہیں۔
آج کل مزاج پلٹ گئے ہیں کہ من گھڑت روایات ہی کو پسند کر تے ہیں، قصے بھی پڑھتے ہیں تو وہ، جو بالکل فرضی اور جھوٹ ہیں، اور سچے قصے پسند ہی نہیں آتے، یہ عجیب غلطی ہے۔
کسی کا کلام یا کتاب سننے یا دیکھنے سے اس کے مصنف کا خفی اثر قلب پر پڑتا ہے۔