التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا من گھڑت روایات پر تعاقب

سکندر رومی کا قصہ،جس میں یہ ہے کہ وہ آبِ حیات کی تلاش میں گیا، غلط ہے۔

تفصیل

فرمایا : حضرت نظامی l نے سکندر رومی کا قصہ لکھا ہے، اس میں یہ بھی لکھا ہے  کہ  وہ آبِ حیات  کو  گیا،  اور  یہ  بھی  لکھا  ہے:  ؎

مرا خضر تعلیم گر بَوَد دوش                    

 

بہ رازے کہ باشد پذیراۓ  گوش

یعنی یہ قصہ مجھ کو خضر e نے تعلیم فرمایا، حالانکہ یہ قصہ غلط ہے، کیونکہ جو سکندر آبِ حیات کو گئے تھے وہ سکندر رومی نہ تھے، بلکہ سکندر ذوالقرنین تھے، سکندر رومی کے تو اسلام میں بھی شبہ ہے، اور سکندر ذوالقرنین کے پیغمبر ہونے میں شبہ ہے، تو حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کے مکاشفات کے وقت پورے طور پر افاقہ نہیں ہوتا، بلکہ ایک قسم کی غیبت ہوتی ہے، اس وجہ سے سمجھنے  میں  بہت  غلطی  ہو  جاتی  ہے  [1]۔

حوالہ جات

[1] ملفوظات حکیم الامت : سکندر رومی کا قصہ  ،  ۱۰/۲۹۰، ادارہ تالیفات اشرفیہ، ملتان ۔