التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: حضرت مولانا محمد یونس جونپوری صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا من گھڑت روایات پر تعاقب

روایت: ’’ گناہ، کفر کا قاصد ہے‘‘۔

میرا (حضرت جونپوری lکا)خیال یہ ہے کہ یہ حدیث نہیں ہے۔

تفصیل

’’سوال: اور کیا ×المعاصي بريد الكفر÷. [گناہ، کفر کا قاصد ہے]حدیث یا مفہوم حدیث ہے؟

جواب:  ×المعاصي بريد الكفر. قال الجَرَّاحي في كشف الخَفاء (ص: ۲۱۳/۲): المعاصي بريد الكفر. أي: تجر إليه، لم أره من ذكره غير أن ابن حجر المكي في شرح الأربعين قال: أظنه من قول السلف، وقيل: إنه حديث، وهو معنى ما قيل: الصغيرة تجر الكبيرة، وهي تجر الكفر وهو معنى بريد الكفر، فافهم، انتهى÷.

[معاصی، کفر کا قاصد ہے، جَرَّاحی l نے ’’ کشف الخَفاء‘‘ میں کہا ہے: گناہ، کفر کا قاصد ہے، یعنی کفر کی جانب لے جاتا ہے، میں نے ابن حجر مکی l کے علاوہ کسی کو اسے ذکر کرتے نہیں دیکھا، آپ ’’شرح اربعین‘‘ میں لکھتے ہیں: میرا یہ گمان ہے کہ یہ سلف کا قول ہے، اور کہا جاتا ہے کہ یہ حدیث ہے، اور اس کا معنی یہ ہے، جیسے کہا جاتا ہے کہ چھوٹا گناہ بڑے گناہ کو، اور بڑا گناہ کفر کو کھینچتا  ہے، اور یہی ’’برید الکفر‘‘ کا معنی ہے، سمجھ لیجئے، انتہیٰ]

میرا خیال یہ ہے کہ یہ حدیث نہیں ہے، اور محض کسی کا یہ کہنا کہ یہ حدیث ہے کافی نہیں ہے، جب تک کہ اس کا مخرج معلوم نہ ہوجائے‘‘[1]۔

حوالہ جات

[1] الیواقیت الغالیۃ : ’’المعاصی برید الکفر‘‘  کیا حدیث ہے؟ ۲/۲۱۴،۲۱۱۔

حافظ ابو نعیم اصبہانی lنے ’’حليۃ الاولياء‘‘ (۱۰/ ۲۲۹)میں،اور امام بیہقی l نے ’’شعب الايمان‘‘ (۹/۳۸۴، رقم: ۶۸۳۱)میں مذکورہ جملہ کو ابوحفص نیشاپوری(المتوفی ۲۶۴ھ) کے مقولہ کے طورپر سنداً نقل فرمایا ہے،امام بیہقی l کی عبارت ملاحظہ ہو: ’’سمعت أبا عبد الرحمن السلمي يقول: قرأت بخط أبي عمرو بن حمدان [قال: سمعت أبی یقول] قال أبو حفص: المعاصي بَرِيد الكفر كما أن الحُمَّى بَرِيد الموت‘‘.علامہ مناوی lنے بھی ’’فيض القدير ‘‘ (۲/ ۳۷۱) میں اسے ’’قال بعض السلف ‘‘  کہہ کر لکھاہے۔