ماہِ رمضان کے آخر ی خطبہ میں {الوداع الوداع یا شهر رمضان }، پڑھنا بالکل بے اصل ہے۔
تفصیل
”۔۔۔ بہر حال خواہ کسی قسم کی خوشی ہو سب محمود ومطلوب ہے، باقی رنج کے مطلوب ہونے کی تو کوئی دلیل نہیں ہے، بہر حال رنج نہ واقع ہے اور نہ اس کی کوئی اصل ہے، پس تاسف اور رنج کرنا اور خطبہ میں {الوداع الوداع یا شهر رمضان} [اے ماہ رمضان! الوداع، الوداع] پڑھنا بالکل بے اصل ہے ۔
ہاں! رمضان المبارک کے آنے سے پہلے کا تو ایک خطبہ خاصہ منقول ہے، چنانچہ حدیث میں آیا ہے کہ شعبان کے جمعہ اخیرہ میں حضور ﷺ نے خطبہ پڑھا، جس میں فرمایا: {یأیها الناس! قد أظلکم شهر عظیم إلخ}. (اے لوگو! تم پر ایک عظیم المرتبت مہینہ سایہ فگن ہو نے والا ہے ) پس رمضان کے آنے کی خوشی تو ظاہر فرمائی ہے، مگر جانے کا غم ظاہر کرنا اور خطبہ وداعی پڑھنا کہیں منقول نہیں ۔۔۔“[1]۔
حوالہ جات
[1] خطبات حکیم الامت : روزہ دار کی خوشیاں،۱۰/۴۲۴ ، ادارہ تالیفات اشرفیہ، ملتان ۔
علامہ ابو الحسنات عبد الحي لکھنوی ؒ نے لکھا ہے کہ یہ مروجہ طریقہ بدعت سے خالی نہیں،دیکھئے: فتاویٰ عبد الحي ؒ(ص:۵۳۴)۔
ملتی جلتی احادیث
بعض کتابیں جن میں بے اصل، اور گھڑی ہوئی باتیں ہیں۔
من گھڑت باتیں شریعت کے کسی فائدہ کے لئے بھی بیان کرنا بالکل غلط ہے۔
یہ قصہ کہ حضرت علی r نے اپنے صاحبزادے کو کسی سائل کو دے دیا اور اس نے بیچ ڈالا، بالکل غلط ہے اور لغو ہے۔
حضرت سیدنا داؤد e اور اُورِیا کا قصہ، محض بے اصل ہے۔
” آپ ﷺ کا ردائے مبارک سو ٹکڑوں میں پھاڑ کر صحابہ رضی اللہ عنہم میں تقسیم کرنا“، یہ روایت ثابت نہیں ہے۔