التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: حضرت مولانا محمد یونس جونپوری صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا من گھڑت روایات پر تعاقب

روایت: ’’کتنے ہی قرآن پڑھنے والے ایسے ہیں،جن پر قرآن خود لعنت کرتا ہے‘‘،انتہائی تلاش کے باوجود اس کی سند نہیں مل سکی ہے۔

تفصیل

’’×حديث: رب تال يقرء القرآن والقرآن يلعنه÷. [حدیث: بہت سے قرآن پڑھنے والے ایسے ہیں کہ قرآن ان کو لعنت کرتا ہے]

هذا الكلام اشتهر على ألسنة القراء في القرون المتأخرة، وقد أوْغَلْتُ في طلبه فلم أقف له على سند، ولا ذكره أحد من المخرجين غير قول الشيخ زكريا الأنصاري في شرح المقدمة الجزرية المسمى بالدقائق المحكمة في شرح المقدمة الجزرية في خبر: رب قارئ يقرء القرآن والقرآن يلعنه. وقول القاري في المِنَح الفِكْرِيَّة شرح المقدمة الجزرية: روي عنه صلى الله عليه وسلم رب قارئ يقرء للقرآن والقرآن يلعنه. ولكن لم يذكر من خرجه ......‘‘[1].

[یہ کلام قرونِ متاخرہ کے قراء کی زبانوں پر مشہور ہے، میں نے اس کی تلاش میں خوب کوشش کی ہے لیکن اس کی کسی بھی سند پر واقف نہیں ہوسکا ہوں، اور مُخَرِّجِیْن میں سے کسی نے بھی اسے ذکر نہیں کیا، البتہ شیخ زکریا انصاری l کا یہ قول ’’شرح مقدمہ جزریہ‘‘ بنام ’’دقائق المحکمہ فی شرح مقدمۃ الجزریہ‘‘ ملتا ہے، ایک خبر میں ہے: کتنے ہی قرآن پڑھنے والے ایسے ہیں کہ قرآن ان کو لعنت کرتا ہے۔

اور قاری l کا یہ قول ’’مِنَح الفِکْرِیَّہ شرح مقدمۃ الجزریہ‘‘ میں ملا ہے:
آپ ﷺ سے منقول ہےکہ کتنے ہی قرآن پڑھنے والے ایسے ہیں، جنہیں قرآن لعنت کرتا ہے۔ لیکن قاری
l نے بھی مخرج ذکر نہیں کیا] [2]۔

حوالہ جات

[1] الیواقیت الغالیۃ: رب تال للقرآن والقرآن یلعنه، ۲/۶۶۔

[2] امام غزالیl نے ’’احياء علوم الدين‘‘ (۳/ ۴۹۷)میں اور حافظ ابن جوزی l نے ’’التذكرة فی الوعظ‘‘ (ص:۶۰)میں حضرت انس بن مالکr  کے حوالے سے بلاسند یہ روایت نقل کی ہے،اسی طرح علامہ ابن الحاج l نے ’’المدخل‘‘ (۱/ ۹۰)میں حضرت عائشہ Rسے بلاسند یہ روایت نقل کی ہے،البتہ امام غزالی l ہی نے ایک مقام پر اس روایت کے ہم معنی الفاظ کو بعض علماء کا قول کہہ کر نقل کیاہے،دیکھئے : اتحاف السادۃ المتقین:۵/ ۲۰-۲۲ ۔

حافظ ابن ابی حاتم l نے اپنی ’’تفسیر‘‘ (۵/۱۴۸۲)میں اس جیسی روایت ابو ایوب میمون بن مہران جَزَرِی(۴۰ھ/۱۱۷ھ) کے قول کی حیثیت سے نقل کی ہے،ملاحظہ ہو: ’’حدثنا أبي، ثنا صالح بن عبيد الله الهاشمي، ثنا أبو المليح، عن ميمون بن مهران قال: إن الرجل ليصلي ويلعن نفسه في قراءته فيقول: ﴿ألا لعنة الله على الظالمين﴾ [هود: 18] وإنه لظالم‘‘.

ملتی جلتی احادیث