روایت: ’’اگر کوئی کھڑے ہو کر کنگھا کرتا ہے تو اس پر قرض کا بوجھ لَدجاتا ہے‘‘،یہ روایت قابلِ اعتماد نہیں ہے۔
تفصیل
’’سوال: کنگھا کھڑے ہو کر کر نا چاہئے یا بیٹھ کر؟ ایک امیر جماعت نے بتایا کہ کھڑے ہو کر کنگھا کر نے سے مفلسی آتی ہے، ایک صاحب کہتے ہیں کھڑے ہو کر بیٹھ کر دونوں طرح کر سکتے ہیں ۔
جواب: کنگھا کرنا ہر طرح جائز ہے،چاہے کھڑے ہو کر ہو یا بیٹھ کر یا لیٹ کر، کسی معتبر روایت میں کوئی صورت ہمارے علم میں منقول نہیں ہے۔
صرف ایک غیر معتبر روایت میں یہ آیا ہے کہ: ×من امتشط قائما ركبه الدین. رواه ابن عدي في الكامل عن عائشة رضي الله عنها مرفوعا÷. یعنی اگر کوئی کھڑے ہو کر کنگھا کرتا ہے تو اس پر قرض کا بوجھ لد جاتا ہے، لیکن یہ روایت قابل اعتماد نہیں ہے، اس کی سند میں احمد بن عبد اللہ الہَرَوِی الجُوَیْبَارِی اور وہب بن وہب ابو البختری ہیں، اور دونوں کذاب دروغ گو ہیں، اور موضوع (جعلی)روایتیں بنانے والے ہیں، اسی لئے حافظ ابن الجوزی l نے اس روایت کو ’’موضوعات‘‘ (ص:۵۴/۳) میں داخل کیا ہے، علامہ سیوطی l نے ’’اللآلی المصنوعة‘‘ (ص:۲۶۸/۱) اور اپنی دیگر تالیفات میں، اور علامہ ابن عَرَّاق l نے ’’تنزيه الشريعة‘‘ (ص:۲۶۹/۲) میں ان کی موافقت کی ہے‘‘[1]۔
حوالہ جات
[1] الیواقیت الغالیۃ: کنگھا کر نے کی ہیئت،۲/۱۸۸،۱۸۷۔
روایت ہذا کے متعلق حافظ ابن عدی l ’’الکامل‘‘ (۱/ ۱۷۷،رقم:۱۷) میں فرماتے ہیں کہ یہ منکر روایت ہے، حافظ محمد بن طاہرمقدسی l نے ’’ذخیرة الحفاظ‘‘ (۴/ ۲۲۲۷،رقم:۵۱۷۲)میں اور علامہ شوکانی l نے ’’الفوائد المجموعۃ‘‘ (۱/ ۲۴۹) میں اسے من گھڑت کہا ہے ۔ واضح رہےکہ مذکورہ روایت جویباری کے علاوہ دو(۲)دوسرے طرق سے بھی منقول ہے:
1 عمران بن سوَّار کا طریق : حافظ ذہبیl نے ’’میزان الاعتدال‘‘ ( ۳/ ۲۳۸) میں اس طریق سے روایت کو من گھڑت کہا ہے،علامہ ابن عراق l نے ’’تنزیہ الشریعۃ‘‘ (۱/ ۹۲) میں حافظ ذہبی l کے کلام کو نقل کرنے پر اکتفاء کیا ہے ۔
2 موسی بن سندی کا طریق: اس طریق کو حافظ حمزہ سہمیl نے ’’تاریخ جرجان‘‘ (ص:۴۶۰، رقم:۱۰۲۴) میں تخریج کیا ہے،اس سند میں تین(۳)ایسے راوی ہیں جن پر محدثین نے سکوت فرمایا ہے، اور حال یہ کہ روایت کے متن کو پانچ محدثین نے مختلف سندوں سے من گھڑت کہا ہے،چنانچہ یہ طریق بھی روایت کو ضعف شدید سے نکالنے میں قاصر ہے ۔ ایک اہم نکتہ کی بات یہ بھی ہے کہ علامہ سیوطی l نے اس متن کو وہب بن منبہ l کا قول کہہ کر نقل کیا ہے، دیکھے: الحاوی للفتاوی: ۲/ ۳۹۔ روایت کی مزید تفصیل کے لئے دیکھئے :کتاب غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ:حصہ دوم، ص:۲۰۹۔
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’روزِ قیامت ایک منادی آواز لگائے گا: اے محمد ! کھڑے ہو کر بلاحساب جنت میں داخل ہوجاؤ، اس آواز کو سن کر محمد نامی ہر شخص یہ سمجھ کر کہ مجھے پکارا گیا ہے، کھڑا ہوجائےگا، انہیں محمدﷺ کی شرافت کی وجہ سے نہیں روکا جائے گا(یعنی یہ سب جنت میں داخل ہوجائیں گے)‘‘، یہ من گھڑت روایت ہے۔
[متشکل یاانسانی بدن میں حلول کیا ہوا جن، صحابی یا تابعی ہونے کا دعویٰ کرے تو اس کا کیا حکم ہے؟ نیز انسان اگر انھیں ان صورتوں میں دیکھ لے تو اسے کوئی فضیلت حاصل ہوگی؟]
روایت: ’’اللہ نے عقل کو پیدا کر کے اس سے کہا: آگے ہوجاؤ، عقل آگے ہوگئی، پھر اللہ نے فرمایا: پیچھے ہوجاؤ، عقل پیچھے ہوگئی، اور فرمایا کہ یہ دو کتابیں رب العالمین کی جانب سے ہیں‘‘،یہ من گھڑت ہے۔
۷ - جزء نصف شعبان روزے کی فضیلت
خاص نصف شعبان کے روزے کی فضیلت پر مشتمل مشہور روایت کو اگرچہ قطعی طور پر موضوع نہ کہا جاسکے لیکن بطریق ظن غالب اس کو موضوع کہا جاسکتا ہے،اور اگر اس کو ضعیف ہی قراردیا جائے تو بھی یہ حدیث شدید ضعیف ہونے کی وجہ سے ناقابلِ عمل ہے۔
روایت: ’’جو شخص کسی مالدار کے پاس آکر اس کے سامنے خاکساری کرے تو اس کا دو تہائی دین چلا گیا‘‘، یہ واہی (شدید ضعیف) ہے۔