’’وقتِ ذکرِ ولادت کے ملائکہ کا نزول ہوتا ہے‘‘، بالکل غلط ہے، کسی روایت میں یہ نہیں لکھا۔
تفصیل
’’۔۔۔اولاً: یہ امر کہ وقتِ ذکرِ ولادت کے ملائکہ کا نزول ہوتا ہے، بالکل غلط ہے، کسی روایت میں یہ نہیں لکھا، اگر ہے تو یہ ہے کہ وقت ذکرِ خیر کے ملائکہ حاضر ہوتے ہیں، پس چاہئے کہ ابتدائےذکرِ خیر سے آخر تک کھڑے رہیں، تعظیمِ ملائکہ کے واسطے، یا اول جب شروع ذکرِ خیر کا ہو، اس وقت وقتِ نزول ہے، جب قیام کریں۔ ۔۔‘‘[1]۔
حوالہ جات
[1] باقیات فتاوی رشیدیہ :ذکرولادت آں حضرت ﷺ کے وقت قیام ؟ ص: ۸۴،دار الکتاب لاہور ۔
ملتی جلتی احادیث
احادیث غیر معتبر وموضوعہ سے ثواب وعقاب کا ثبوت نہیں ہوتا۔
آیت: {يَا أَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللهِ تَوْبَةً نَّصُوْحًا}. کی تفسیر میں نصوح نامی شخص کا قصہ بالکل غلط ہے۔
سفر بروز ہفتہ نحس اور شُوم [منحوس] ہونا بالکل غلط ہے، اس کی اصل کسی حدیث سے ثابت نہیں۔
’’جمعہ کی شب اور جمعہ کے روزاور رمضان میں مسلمان کو عذاب قبر نہیں ہوتا، اور پیر کی روایت کوئی معلوم نہیں‘‘۔
’’منافقوں کا آستین میں بت رکھ کر نماز پڑھنا، اور پھر حالت نماز میں آں حضرت ﷺ کو حکم ہوناکہ ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھو‘‘، یہ قصہ سراسر غلط ہے، جہلاء روافض کی گھڑت ہے۔