التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ ودیگر اکابر عظام کا من گھڑت روایات پر تعاقب

’’جمعہ کی شب اور جمعہ کے روزاور رمضان میں مسلمان کو عذاب قبر نہیں ہوتا، اور پیر کی روایت کوئی معلوم نہیں‘‘۔

تفصیل

’’سوال: جمعہ یا جمعرات یا پیر کے روز یا رمضان المبارک میں جو شخص مرجاتا ہے، تو اس کو کچھ تخفیف عذاب میں یا حساب میں ہوتی ہےیا نہیں؟ اور اگر ہوتی ہے تو کیا ہوتی ہے ؟

جواب: جمعہ کی شب اور جمعہ کے روزاور رمضان میں مسلمان کو عذابِ قبر نہیں ہوتا، اور پیر کی روایت کوئی معلوم نہیں، فقط، واللہ تعالیٰ اعلم!‘‘[1]۔

حوالہ جات

[1] باقیات فتاوی رشیدیہ :  جمعہ کی شب میں جمعہ کو اور رمضان المبارک میں، مسلمان کو عذاب قبر نہیں ہوتا، ص: ۵۴۰،  دار الکتاب  لاہور ۔

حافظ ابن بطال l  ’’شرح بخاری‘‘ ( ۳/۳۷۶)میں باب ’’موت یوم الاثنین‘‘ کے تحت مسند حدیث پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:’’ابو بکر r  نے آپﷺ کے انتقال کے دن (یعنی پیر)کے بارے میں عائشہ R  سے اس لئے دریافت کیا تھا کہ انھیں یہ خواہش تھی اس دن میں انتقال ہونے پر آپ ﷺ کے انتقال کے دن سے موافقت ہو کر برکت کا موجب ہوگی‘‘، کچھ آگے جاکر پیر کے دن کی فضیلت میں  بروز پیر  آپﷺ کی ولادت،نزول وحی،دخولِ مکہ، آپ  ﷺ کا انتقال،نیز بروز پیرو جمعرات  آپﷺ کا روزہ رکھنا، ان دو دنوں میں اعمال کی پیشی کو ذکر کیا  ہے، لیکن یہ فضیلت نقل نہیں کی کہ بروز پیر عذابِ قبر نہیں ہوتا،عبارت یہ ہے:

{إنما سأل أبو بكر الصديق ابنته عن أي يوم توفي فيه رسول الله صلى الله عليه وسلم طمعا أن يوافق ذلك اليوم تبركا به .... وقد اتفق أهل السنة أن النبي صلى الله عليه وسلم ولد يوم الإثنين، وأنزل عليه يوم الإثنين، وبعث يوم الإثنين، ودخل المدينة يوم الإثنين، وتوفي يوم الإثنين، وكان يصوم يوم الإثنين والخميس، وذكر مالك فى الموطأ عن أبى هريرة، أنه قال: تعرض أعمال الناس كل جمعة مرتين: يوم الإثنين [والخميس]، فيغفر لكل عبد مؤمن إلا عبدا كانت بينه وبين أخيه شَحْنَاء. فهذه فضيلة يوم الإثنين والخميس}.

ملتی جلتی احادیث